جمعرات، 10 جولائی، 2014

پاکستان کو ’بگ فور‘ بننے کا انعام مل گیا


فائل فوٹو


انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے نئے فیوچر ٹور پروگرام کے مطابق پاکستان 2015 سے 2023 کے درمیان کم از کم 77 ٹیسٹ کھیلے گا جس میں پڑوسی ملک اور روایتی حریف ہندوستان کے خلاف کم از کم پانچ ٹیسٹ سیریز کھیلی جائیں گی۔
کرکٹ کی مشہور ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق دونوں روایتی حریفوں کے درمیان پاکستان کی ہوم سیریز میں ٹیسٹ میچز کی تعداد میں کمی کردی گئی ہے۔
پاکستان اس دوران تین سیریز میں ہندوستان کی میزبانی کرے گا جس میں سے ہر سیریز دو ٹیسٹ میچز پر مشتمل ہو گی جس سے دونوں ملکوں کے درمیان ٹیسٹ میچز کی کشش کم ہونے کا خدشہ ہے جبکہ ہندوستانی سرزمین پر کھیلے جانے والی سیریز تین ٹیسٹ میچز پر مشتمل ہو گی۔
یاد رہے کہ 1999 کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان اب تک کھیلی گئی باہمی ٹیسٹ سیریز کم از کم تین ٹیسٹ میچز پر مشتمل تھی لیکن اس مرتبہ پاکستان کی ہوم سیریز میں ٹیسٹ میچز کی تعداد کم کر دی گئی ہے۔
گھزشتہ کچھ سالوں میں دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی تناؤ کے باعث کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا گیا جبکہ ایک روزہ میچز کی تعداد بھی انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔
لیکن قابل ذکر امر یہ کہ دونوں ملکوں نے اس فیوچر ٹور پروگرام پر رضامندی ظاہر کردی ہے لیکن سیریز کا انعقاد دونوں ملکوں کی حکومت کی منظوری پر منحصر ہے۔
پاکستان اور ہندوستان کے درمیان 2023 تک فیوچر ٹور پروگرام کے تحت چھ سیریز میں 12 ٹیسٹ میچز کھیلے جائیں گے جن میں چار سیریز پاکستان میں اور دو ہندوستان میں کھیلی جائیں گی۔
پاکستان کل 6 ٹیسٹ، 20 ایک روزہ میچز اور چھ ٹی ٹوئنٹی میچز کی میزبانی کرے گا جبکہ ہندوستان چھ ٹیسٹ، دس ایک روزہ میچز اور پانچ ٹی ٹوئنٹی میچز میں پاکستان کی میزبانی کرے گا۔
فیوچر ٹور پروگرام میں پاکستان کے لیے سب سے برا دھچکا جنوبی افریقہ سے انتہائی کم میچز ہیں جہاں آئندہ آٹھ سالوں میں دونوں ٹیمیں محض تین ٹیسٹ، دس ایک روزہ اور پانچ ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گے جبکہ دونوں ملکوں نے کرکٹ معاملات میں بہتری کے لیے معاہدے پر دستخط بھی کر رکھے ہیں۔
جنوبی افریقہ دسمبر   2018 میں  پاکستان کی میزبانی کرے گا جس میں تین ٹیسٹ، پانچ ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گے جبکہ 2022 کے ماہ اکتوبر میں دونوں ملکوں کے درمیان محدود اوورز کی مختصر سیریز کھیلی جائے گی۔
تاہم جہاں پاکستان جنوبی افریقہ سے انتہائی کم میچز کھیلے گا وہیں دوسری جانب اسے غیر اعلانیہ بگ فور میں شمولیت کے بے شمار فوائد بھی ملے ہیں۔
پاکستان آئندہ آٹھ سالوں میں آسٹریلیا سے سات سیریز کھیلے گا جن میں سے پانچ کی میزبانی پاکستان کرے گا۔ جبکہ گرین شرٹس دسمبر 2016 اور 2019 میں آسٹریلیا کے مہمان بنیں گے۔
فیوچر ٹور پروگرام میں پاکستان چار ٹیسٹ میچز پر مشتمل صرف تین ٹیسٹ سیریز کھیلے گا جس میں سے دو انگلینڈ جبکہ ایک ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر کھیلی جائے گی۔
پروگرام کے تحت پاکستان آسٹریلیا سے 14 ٹیسٹ، 22 ایک روزہ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گا۔
انگلینڈ سے 16 ٹیسٹ، 18 ایک روزہ اور نو ٹی ٹوئنٹی میچز جبکہ نیوزی لینڈ سے 10 ٹیسٹ، 18 ایک روزہ اور آٹھ ٹی ٹوئنٹی میچز ہوں گے۔
سری لنکا اور پاکستان کے درمیان 10 ٹیسٹ، 18 ایک روزہ اور چار ٹی ٹوئنٹی جبکہ زمبابوے سے دو، ویسٹ انڈیز سے چھ اور بنگلہ دیش سے چار ٹیسٹ میچز کھیلے جائیں گے۔
مجموعی طور پر پاکستان اس دوران کم از کم 133 ایک روزہ میچز اور 48 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گا جبکہ ٹورنامنٹ کے درمیان ہونے والے میچز اس کے علاوہ ہوں گے جس سے یقینی طور پر یہ تعداد مزید بڑھ جائے گی۔
آئی سی سی کے ارکان رواں سال اکتوبر میں پروگرام پر دستخط کریں گے جو 2015 کے آغاز سے نافذ العمل ہو گا۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں