پیر، 15 ستمبر، 2014

فلائٹ میں تاخیر، مسافروں نے رحمان ملک کو جہاز سے اُتار دیا

اسلام آباد: کراچی سے اسلام آباد جانے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی پرواز پی-کے 370 کی روانگی میں ڈھائی گھنٹے سے زائد کی تاخیر ہونے کے بعد مسافروں نے شدید احتجاج کیا، اور تاخیر کا سبب بننے والے پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک اور مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی رمیش کمار کو جہاز سے اترنے پر مجبور کردیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسافر رحمان ملک اور مسلم لیگ نون کے ایم این اے کو جہاز سے باہر جانے کا کہہ رہے ہیں۔
پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 370 کو پیر کی شام سات بجے کراچی سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہونا تھا، لیکن یہ ڈھائی گھنٹے کی تاخیر کے بعد روانہ ہوئی۔
مسافروں نے روانگی میں تاخیر کا ذمہ دار رحمان ملک اور ایک مسلم لیگی ایم این اے کو قرار دیا۔

Read More »

بدھ، 10 ستمبر، 2014

اشارہ تو تھا از ہارون الرشید


Read More »

دھرنے کی افادیت از سید طلعت حسین

سیاسی یا جنگی لائحہ عمل وہی بہتر گردانا جاتا ہے جس میں مشکل حالات سے نکلنے کا بندو بست موجود ہو ۔ عمران خان نے شروع دن سے ہی اپنے لیے وزیر اعظم کے استعفی کا جو ہدف مقرر کیا تھا اس میں اس سے کم پر مان جانے کا موقع نہیں چھوڑا گیا۔ دھرنوں میں افراد کی تعداد اس حد تک کم ہو گئی ہے کہ وہ کسی شام کے اخبار کے دفتر کا منظر پیش کرتے ہیں ۔ ایڈیشن کے لیے سٹاف اسی وقت آتا ہے جب اخبار نکالنے کی ڈیڈ لائن قریب آتی ہے ۔ اس سے پہلے یہ دفاتر سائیں سائیں کرتے ہیں ۔ شام کو بھی تعداد کچھ اتنی نہیں ہوتی کہ اس کو دیکھ کر پارلیمنٹ میں بیٹھی تمام جماعتیں اور حکومت کے ایوان تھرتھر کانپنے لگیں ۔ کیمرے ابھی بھی وہ چشم پوشی کر رہے ہیں جس کا کسی طور بھی ایک پروفیشنل معیار پر دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ مگر پھر بھی سڑک پر ارد گرد کے علاقوں سے آئے ہوئے کارکنان اتنے ہی ہوتے ہیں جتنے وہ اصل میں ہوتے ہیں ۔
خیال کی کی اڑان ، بیان اور کیمرے کی پرواز ان کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کے باوجود ان خالی جگہوں کو پُر نہیں کر سکتی جو روز روز واضح ہوتی چلی جا رہی ہے ۔ لہذا سڑک کے ذریعے دبا پیدا کر کے اپنا مطالبہ منوانے کا وقت گزر گیا ۔ عمران خان ان حالات کو اگر نہ سمجھیں تو ان کی مرضی ہے ۔ مگر کسی بڑی غلطی یا حادثے کے علاوہ سڑک پر سے احتجاج کر کے وہ نہ اب کسی کو متاثر کر رہے ہیں اور نہ حصول منزل کی طرف ایک قدم بڑھا رہے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی حالات نے بھی ان کے احتجاج پر گہرے اثرات چھوڑنے شروع کر دیئے ہیں ۔ سیلاب نے کنٹینر سے نکال کر سیالکوٹ کا دورہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ ویسے سیلاب سے پہلے بھی اپنی دوسری ضروریات سے مغلوب ہو کر ان کو دن میں دس ، بارہ گھنٹے کنٹینر چھوڑنا ہی پڑتا تھا۔
آنے والے دنوں میں بدلتے ہوئے حالات ان کو از خود کنٹینر سے دور رکھ سکتے ہیں ۔ اس جگہ پر ٹِکے رہنے کی سیاسی قیمت میں اضافہ ہوتا چالا جائے گا ۔ جو جماعتیں انتخابی عمل کا حصہ بن کر سیاست کرنا چاہتی ہیں وہ خود کو طویل عرصے کے لیے نظام سے دور نہیں رکھ سکتی ۔ پاکستان تحریک انصاف کے اندر سے عمران خان کے علاوہ تقریبا ہر کوئی یہی بات بار بار دہرا رہا ہے ۔ عمران خان ہر کسی کو غدار ، بزدل یا چیتے کی متضاد شکل کے جانوروں کی شکل سے پیش نہیں کر سکتے ۔ ان کو یہ علم ہونا چاہیے کہ اکثریت کی رائے زیادہ عرصہ تک موقوف نہیں کی جا سکتی ۔ نواز شریف کے خلاف مزاحمت کی دھن میں انہوں نے خود کو جماعت کی رائے کے خلاف کھڑا کر دیا ہے ۔
ابھی تک ان کے نعرے اور وعدے وہی ہیں جو چند ہفتے پہلے تھے ۔ مگر اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے سیاسی طور پر اپنی جماعت کے لیے ماحول بری طرح خراب بھی کیا ہے ۔ پاکستان کے اندر بہترین کارکردگی پیش کرنے والی سیاسی جماعتیں بھی مخالفین کے ساتھ ہاتھ ملانے پر مجبور ہو جاتی ہیں ۔ نظام ہی کچھ ایسا ہے ۔ ہم معاشرتی اور نسلی طور پر بیسوں رنگ رکھتے ہیں ۔ یہاں پر چھوٹی بڑی درجنوں جماعتوں کا اپنے اپنے حلقے میں اہم کردار ہے جو ایک ہی ہلے میں تبدیل یا تباہ نہیں کیا جاسکتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلزپارٹی ہو یا نواز لیگ کی دو تہائی اکثریت، انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومتیں ہر بڑے اور چھوٹے فیصلے پر دوسری جماعتوں پر انحصار کرتی ہیں۔ عمران خان نے کنٹینر میںمورچہ بند ہوکر جو پھول جھڑیاں چھوڑی ہیں انکی کی چنگاریاں ہر دامن پر گری ہیں۔ کوئی جماعت اور اسکا لیڈرعمران خان کی زبان اور ہاتھ کے اشارے محفوظ نہیں رہا۔
کوئی ایسا الزام باقی نہیں ہے جو انھوں نے خود سے دوسروں پر نہ لگایا ہو۔ دھمکی ، لاٹھی اور سبق سکھانے کی جو نئی سرکار کو انھوں نے کنٹینر پر کھڑے ہوکر ترتیب دیا ہے وہ پاکستان تحریک انصاف کے لئے ایک بہت بڑا درد سر بن چکا ہے۔ اگر آج نواز شریف اور شہباز شریف اور انکے قریبی دوست فضا میں تحلیل ہوجائیں تو بھی عمران خان کو پارلیمان میں بیٹھی ہوئی جماعتیں آسان راستہ فراہم نہیں کریں گی۔ بلوچستان میں قوم پرستوں اور سرداروں سے سینگ پھنسانے کے ساتھ ساتھ پشتون رہنماوں کی بدترین تضحیک پاکستان تحریک انصاف کے لئے مستقبل میں کسی ممکنہ سیاسی اتحاد کے لئے زہر قاتل سے کم نہیں۔
خیبر پختون خواہ میں مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے اوپر اپنی جماعت کے نمائندگان کے ساتھ پتھروں کی بارش کرکے سیاسی راستے اگر مسدود نہیں کئے تو محدود ضرور کر دئے ہیں۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کے ساتھ دست و گریبان ہیں اور سندھی قوم پرستوں کو گھاس تک نہیں ڈالتے۔ کبھی ایم کیوایم پر برستے ہیں اور کبھی ہاتھ آگے کردیتے ہیں۔ پنجاب میں نواز لیگ کے ساتھ لڑائی ہے اور پیپلزپارٹی کے ساتھ سیاسی مقابلہ۔ اگر عمران خان نیا پاکستان بنانے کے بعد اور شادی کرنے سے پہلے کے وقفے کے درمیان وزیراعظم بن گئے تو یہ ملک چلائیں گے کیسے؟
اتنی گالیاں نکانے کے بعد انکے ساتھ بیٹھ کر چائے کون پیے گا۔ دھرنے کا ہدف نواز شریف اس وقت دوبارہ سے حکومت کی باگ ڈور سنبھالتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔عمران خان انکو نکالنے پر مصر تو ہیںمگر سیاسی مشکلات میں گھرے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ حکومت کا نکما پن اور تبدیلی کے نعرے کی پکار ابھی بھی قائم ہے۔ مگر یہ دونوں عناصر عمران خان کو انکی بیان کردہ منزل کی طرف لیجانے کے لئے مناسب نہیں ہیں۔
اس تمام قصے میں ہماری اسٹیبلشمنٹ کا کیا کردار رہا ہے یہ موضوع اس وقت اٹھانا موزوں نہیں ہے۔ اگرچہ حقائق چھپائے بھی نہیں چھپتے مگر انکو ڈھانپنے کے لئے جو گنجائش چاہےے وہ اس وقت موجود نہیں ۔ اتناکافی ہے کہ اس تمام مسئلے کا یہ تمام زوایہ اس راز کی طرح ہے جو سب کو معلوم ہونے کے باوجود رازداری کے تقاضے پورے کرتے ہوئے راز ہی سمجھا جاتا ہے۔ اگلے دو تین ہفتوں میں دھرنوں کے پیچھے ہونے والی یہ کوشش عملاً رائیگاں ہوکر ختم ہوجائے گی۔ جس سہارے کے ناطے اتنی لمبی چھلانگ لگائی گئی تھی وہ گزرتی ہوئی ساعتوں کی نذر ہورہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو پس منظر میں کھیلے جانے والے کھیل نے کتنا نقصان پہنچایا ہے اس کا اندازہ بھی ہوجائے گا۔
اس مشکل منظر نامے کے باوجود تحریک انصاف نے اس احتجاج سے بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے۔ اگر بات چیت کے درجن سے زائد دور کسی ایسے معاہدے کی صورت میں سامنے آجاتے ہیں جس سے لمبی چوڑی اور ضروری اصلاحات کا دروازہ کھل جاتا ہے تو اس کا سہرا احتجاج کے سر ہی باندھا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے لئے یہ سہرا بندی ضروری ہے۔ اس کے بغیر تحریک انصاف خود کو اس مشکل موڑپر سے پھسلے بغیر نہیں نکال سکتی۔معاہدے کے بعد عمران خان ملکی معاملات پر جزوقتی توجہ دینے کی بجائے کلی طور پر اپنی کوششیں صرف کرسکتے ہیں۔جہاں تک رہا معاملہ طاہر القادری کا تو انکو جب ٹیلی فون آئے گا وہ واپس چلے جائیں گے۔ دھرنا اپنی افادیت حاصل کرچکا ہے اس کو
مہذب انداز سے عزت بچا کر ختم کرنے کا انتظام ضروری ہوچکا ہے۔
Read More »

منگل، 9 ستمبر، 2014

مشکوک ایکشن: سعید اجمل پر پابندی عائد

پاکستانی اسٹار آف اسپنر سعید اجمل—۔فائل فوٹو
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی ) نے پاکستانی اسٹار آف اسپنر سعید اجمل کا بالنگ ایکشن مشکوک قرار دے کر ان پر پابندی عائد کر دی ہے۔
چھتیس سالہ بالر اپنا ایکشن درست کیے بغیر انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیل پائیں گے، تاہم سعید اجمل اس فیصلے کے خلاف پندرہ دن کے اندراپیل کرسکتے ہیں۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان گال میں کھیلے گئے ٹیسٹ کے دوران آفیشلز اور امپائرز نےسعید اجمل کے بالنگ ایکشن پر اعتراض کیا جس کے بعد اگست کے آخری ہفتے میں آسٹریلیا میں ان کے بالنگ ایکشن کی جانچ پڑتال ہوئی۔
آئی سی سی کی جانب سے آج جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سعید اجمل کا بالنگ ایکشن عالمی معیار کے مطابق نہیں اور وہ اب انٹرنیشنل کرکٹ میں بالنگ نہیں کروا سکیں گے۔
تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئی سی سی کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

Read More »

پیر، 8 ستمبر، 2014

فلم اسٹارز کے خفیہ تعلقات


فلمی دنیا میں یوں تو تنازعات اور افیئرز کی داستانیں بھری پڑی ہیں تاہم کچھ اداکاروں کے بارے میں جانیے۔

وسیم اکرم اور حمیمہ ملک


کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستانی اداکار حمیمہ ملک جو ان دنوں اپنی حالیہ ریلیز ہونے والی فلم راجہ نٹور لال کی وجہ سے خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں، ایک زمانے میں کرکٹر وسیم اکرم کے قریب رہ چکی ہیں؟ ماڈل سے ٹی وی کے ذریعے پاکستان میں شہرت حاصل کرنے والی حمیمہ ملک 23 سال کی عمر میں دنیائے کرکٹ کے اس عظیم ترین کھلاڑی سے تعلق کا کھلے عام اظہار کر چکی ہیں۔

حمیمہ کا کہنا تھا کہ ان کے مقبول بوائے فرینڈ 45 سال کا ہے تاہم عمر کا یہ فرق کسی مسئلے کا سبب نہیں تاہم یہ دونوں جلد الگ ہوگئے، اس کے علاوہ حمیمہ کی زندگی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ ان کی ایک شادی بھی ہوچکی ہے، اٹھارہ سال کی عمر میں حمیمہ شادی کے بندھن میں بندھی مگر دو سال بعد طلاق ہوگئی۔

ملائیکہ اروڑا خان اور ارجن کپور


بولی وڈ کی تاریخ میں یوں تو تنازعات اور افیئرز کی داستانیں بھری پڑی ہیں گزشتہ دنوں سلمان خان کی بھابھی اور اداکار و فلمساز ارباز خان کی بیوی ملائیکہ اروڑا خان کا ارجن کپور کے ساتھ خفیہ تعلقات کا انکشاف ہوا، دونوں کئی بار ایک ساتھ دیکھے گئے۔

چند سال پہلے ارجن کپور کی دبنگ اسٹار سلمان خان کی چھوٹی بہن ارپیتا خان سے بھی دوستی تھی اور اب ان کا نام خود سے عمر میں کئی برس بڑی ملائیکہ کے ساتھ لیا جا تا رہا ہے تاہم جب اس سلسلے میں آئٹم گرل ملائیکہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے اسے جھوٹ قرار دیتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ وہ ان الزامات کی وضاحت کرنا ضروری نہیں سمجھتیں۔

اگر چہ ملائیکہ اروڑا نے ان خبروں کی تردید کی ہے لیکن دوسری جانب ارجن کپور نے ابھی تک اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، واضح رہے کہ ارجن کپور بولی وڈ میں کافی دل پھینک مشہور ہیں اور ان کے اس سے پہلے بھی کئی افیئرز منظر عام پر آچکے ہیں۔

رندیپ ہودا اور لیزا ہیڈن


فلم کوئین کی کامیابی کے بعد ماڈل سے اداکار بننے والی لیزا ہیڈن اور اداکار رندیپ ہودا ممبئی میں رات گئے تک نظر آنے لگے، پرجوش فوٹو گرافر نے رندیپ کی تصاویر لیں جس کے بعد افواہوں کا سلسلہ پھیلنا شروع ہوگیا۔

اگرچہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ یہ دونوں فلم 'شوقین' میں اکھٹے نظر آئیں گے مگر ان کی قربت کی افواہوں میں شدت آنے کے بعد لیزا نے رپورٹس کی تردید کی۔ انہوں نے ٹوئیٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ رندیپ سے رات گئے ہونے والی ملاقات کاروباری تھی اور اس میں دیگر افراد بھی شریک تھے۔

ارمان جین اور انیشا ملہوترہ


کپور خاندان برسوں سے فوٹوگرافرز کا سامنا کرتے آرہے ہیں، اب راج کپور کے پوتے ارمان جین جنھوں نے 'لے کر ہم دیوانہ دل' کے ذریعے بولی وڈ ڈیبیو کیا، بھی اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے، ارمان جین خود کو تنہا کہتے ہیں مگر سب اس قت حیران رہ گئے جب وہ انیشا ملہوترہ سے پینگیں بڑھاتے نظر آئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ارمان کا انیشا سے تعلق بڑھ رہا ہے، اگرچہ ارمان نے اس کی تردید کرتے ہوئے انیشا کو بچپن کا دوست قرار دیا ہے تاہم افواہوں کی فیکٹری رُکی نہیں ہے۔


کنگنا رناوت اور پُراسرار شخص



اس افیئر پر میڈیا میں زیادہ شور سامنے نہیں آیا، کنگنا نے آدتیہ پنچولی سے معاشقوں کا سلسلہ شروع کیا جو مختلف افراد تک پھیلا۔ نیشنل ایوارڈ یافتہ اس اداکار کے اجے دیوگن سے معاشقے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں تاہم برطانوی ہدایت کار نکولس لیفرٹے سے علیحدگی کے بعد وہ تنہا ہی خوش ہیں۔

مگر حالیہ انٹرویو کے بعد صورتحال کچھ تبدیل ہوئی ہے، جب کنگنا سے حالیہ اسٹیٹس پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میری زندگی میں کوئی ہے تاہم اس کا نام چھپاتے ہوئے کنگنا نے کہا کہ ابھی یہ تعلق جذباتی سطح پر ہے اور کوئی جسمانی تعلق نہیں۔

ریکھا اور ونود مہرہ



ہم سب جانتے ہیں کہ ریکھا کا معاشقہ سپر اسٹار امیتابھ بچن سے چلا تھا تاہم اس سے ہٹ کر بھی ریکھا اور ونود مہرہ کے درمیان تعلق کی افواہیں کافی گرم رہیں، افواہوں کے مطابق تو یہ دونوں شادی بھی کر چکے تھے تاہم یہ خبر غلط ثابت ہوئی۔

شترو گھن سنہا اور رینا رائے



کیا آپ کو نہیں لگتا کہ سوناکشی سنہا اور رینا رائے کی شکلیں کافی ملتی ہیں؟ ہوسکتا ہے کہ یہ ان کے والد شتروگھن سنہا اور رینا رائے کے درمیان ماضی میں تعلق کا اثر ہو، شتروگھن اور رینا کافی عرصے تک اس تعلق کی وجہ سے شہ سرخیوں کی زینت رہے تھے، تاہم حالات میں خرابی کی وجہ شتروگھن سنہا کا پہلے سے ہی شادی شدہ بنا۔

اگرچہ اس بارے میں سب کچھ سامنے نہیں آیا اور یہ کافی خفیہ رکھا گیا اور پھر رینا نے بھی پاکستانی کرکٹر محسن خان سے شادی کرلی تو شترو دوبارہ اپنی بیوی کی جانب واپس چلے گئے۔

محسن خان اور رینا رائے



اپنے دور کے یہ اسٹائلش اوپنر کرکٹ کی دنیا سے ریٹائرمنٹ کے بعد بولی وڈ نگری کا حصہ ہندوستانی اداکار رینا رائے سے شادی کے بعد بنے، انہوں نے متعدد فلموں میں کام بھی کیا، 1989 میں فلم 'بٹوارہ' ان کی پہلی فلم تھی، تاہم رینا رائے سے علیحدگی کے بعد محسن خان پاکستان واپس آگئے اور یہاں بھی کچھ لولی وڈ فلموں میں کام کیا۔

نینا گپتا اور ویوین رچرڈز


ہندوستانی ٹی وی کی معروف شخصیت نینا گپتا اپنی اداکاری سے زیادہ ماضی میں اس وقت زیادہ شہرت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی جب ان کا ویسٹ انڈین کرکٹر ویوین رچرڈز سے معاشقہ منظر عام پر آیا، اس کرکٹر سے نینا کا تعلق ایک کھلا راز ہے اور ان کا ایک بچہ بھی ہے، جو آج فیشن ڈیزائنر بن چکا ہے تاہم یہ دونوں اب ایک دوسرے سے الگ ہوچکے ہیں۔

Read More »