کوپن
ہیگن (نیوز ڈیسک) جدید دور کے انٹرنیٹ پر ٹیکسٹ اور آواز کے ساتھ ویڈیو بھی ڈاﺅن لوڈ کیلئے دستیاب
ہے لیکن ویڈیو ڈاﺅن لوڈ کرتے ہوئے
سست رفتار کی وجہ سے سخت تکلیف اور کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈنمارک کے سائنسدانوں
نے انٹرنیٹ کی رفتار تیز کرنے کا ایسا حل نکالا ہے کہ جو واقعی ناقابل یقین ہے۔
ٹیکنیکل یونیورسٹی آف ڈنمارک کے سائنسدانوں نے نئی قسم کی آپٹیکل فائبر ایجاد کی
ہے جس پر مشتمل نیٹ ورک(GB 1
) ڈیٹا پر مشتمل فلم کو2 . ملی سیکنڈ میں ڈاﺅن لوڈ کرسکتا ہے یعنی پلک جھپکنے سے
بھی پہلے۔ اس حیرت انگیز آپٹیکل فائبر میں عام فائبر کے ایک کور کی بجائے سات کور استعمال
کئے گئے ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی موٹائی عام فائبر جتنی ہی ہے۔ یہ فائبر
ڈیٹا کو ناقابل یقین 43 ٹیرا بائٹ (44032GB)
فی سیکنڈ کی رفتار سے منتقل کرسکتی ہے۔ جو کہ ایک ورلڈ
ریکارڈ ہے۔ اس پہلے تیز ترین ڈیٹا منتقلی کا ریکارڈ 32 ٹیرا بائٹ فی سیکنڈ تھا جو
کہ جرمن سائنسدانوں نے قائم کیا تھا۔
Science لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Science لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
منگل، 5 اگست، 2014
پیر، 14 جولائی، 2014
امراضِ قلب سے بچاؤ کیلئے قدرتی خوراک
معروف مفکر بقراط کا قول ہے کہ ’’ بیماری کا علاج سب سے پہلے غذا سے کرنا چاہیے‘‘ اور گزشتہ پچاس برس سے ہونے والی تحقیقات نے بقراط کی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مناسب غذا کے استعمال سے متعدد مہلک امراض، جن میں دل کی بیماریاں بھی شامل ہیں سے یقینی تحفظ حاصل ہوسکتا ہے۔
آج
دنیا بھر میں دل کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے ہونے والا اضافہ انتہائی تشویشناک
ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں سہل طرز زندگی اور ناقص خوراک شامل ہے۔ بلاشبہ دل کے امراض
جان لیوا اور ان کا علاج بہت مہنگا ہے لیکن سادہ غذا، زیادہ پھل اور سبزیوں کے ذریعے کافی حد تک ان سے بچا جا سکتا ہے۔ یہاں ہم
آپ کو ایسی غذاؤں کے بارے میں بتائیں گے، جن کے استعمال سے امراض قلب لاحق ہونے کے
خدشات میں واضح کمی آسکتی ہے۔
دہی:
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ دہی کا استعمال مسوڑھوں کے امراض سے محفوظ رکھتا ہے اور مسوڑھوں
کی بیماری سے امراض قلب کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ جاپانی ماہرین نے ایک ہزار ایسے بالغ
افراد پر تحقیق کی، جو دودھ یا اس سے بنی چیزوں مثلاً دہی وغیرہ کا زیادہ استعمال کرتے
تھے۔
نتائج
کے مطابق ایسے افراد میں مسوڑھوں کی بیماریاں نہ ہونے کے برابر تھیں اور ماہرین کا
ماننا ہے کہ دودھ اور دہی میں شامل اجزاء منہ میں جنم لینے والے دشمن بیکٹیریا کی نشوونما
کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کشمش:
کشمش میں پایا جانے والا اینٹی ٹاکسائیڈ ایسے بیکٹیریا کو بڑھنے سے روکتا ہے، جو مسوڑھوں
کے امراض کو جنم دیتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں مسوڑھوں کے بیماریوں میں
مبتلا 50 فیصد لوگ امراض قلب کا شکار ہو جاتے ہیں، لہٰذا ایک بیماری کے خلاف جیت دوسری
کو حاوی ہونے سے روک دیتی ہے۔
اناج:
متعدد تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ اناج کا استعمال کرنے والے لوگوں میں امراض قلب
پیدا ہونے کے خدشات، ان لوگوں کی نسبت بہت کم ہوتے ہیں، جو اس کا استعمال نہیں کرتے۔
اناج میں اینٹی ٹاکسائیڈ، فیٹوس ٹروجنز اور فیٹوس ٹیرولز جیسے مادے ہوتے ہیں، جو امراض
قلب سے بچاؤ میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ پھر اناج میں شامل ریشے کے بارے میں اکثر ماہرین
کا ماننا ہے کہ یہ امراض قلب کے خدشات کو کم کر دیتے ہیں۔
لوبیا:
لوبیا کا باقاعدہ استعمال آپ کے دل کی صحت کے لئے نہایت مفید ہے۔ نیوٹریشن جرنل میں
شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق پکائے ہوئے لوبیا کا روزانہ آدھا کپ جسم میں کولیسٹرول
کی سطح کو کم کئے رکھتا ہے۔
مچھلی:
ہفتہ میں ایک یا دو بار باقاعدگی سے مچھلی کھانے سے امراض قلب کے خدشات میں 30فیصد
تک کمی واقع ہو جاتی ہے۔ مچھلی میں پائے جانیوالے اومیگا تھری نامی پروٹین کے باعث
خون کی روانی میں بہتری آتی ہے، جس سے نہ صرف امراض قلب بلکہ بلڈ پریشر کے خطرات بھی
کم ہو جاتے ہیں۔
طبی
ماہرین کے مطابق ان غذاؤں کے علاوہ بادام، چاکلیٹ، ٹماٹر، سیب، بیری، انار، کیلا، مکئی
کے بھنے ہوئے دانے(پوپ کارن) اور سبز چائے کے مناسب استعمال سے بھی امراض قلب سے بچا
جا سکتا ہے۔
اتوار، 13 جولائی، 2014
موٹاپے کو دعوت دینے والی 7 عادتیں
نیویارک:
موٹاپا صرف زیادہ کھانے پینے سے نہیں بلکہ عادات و مشغلے کے باعث بھی ہمیں شکار بنالیتا
ہے۔ بظاہر بے ضرر مگر درحقیقت جسمانی وزن بڑھانے کی ذمے دار یہ عادات ہوسکتا ہے کہ
آپ کو معلوم نہ ہو مگر یہ کسی کو بھی موٹاپے کا شکار کرکے مختلف امراض میں مبتلا کرسکتی
ہیں۔
________________________________________
کولڈ
ڈرنکس کا استعمال معمول بنالینا
کیا
آپ روزانہ ایک یا 2 کین کولڈ ڈرنکس استعمال کیے بغیر نہیں رہ سکتے؟ اگر ہاں تو جان
لیں کہ موٹاپا آپ سے زیادہ دور نہیں۔ مختلف تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے
کہ روزانہ ایک یا 2 کولڈ ڈرنکس کا استعمال موٹاپے کی رفتار کو 5 گنا تیز کردیتا ہے،
جس کی وجہ ان مشروبات میں چینی کا زیادہ استعمال ہے، جو آپ کے اندر زیادہ کھانے کی
خواہش بھی جگاتا ہے اور آپ معمول سے زیادہ کیلوریز لینے لگتے ہیں۔
________________________________________
بڑی
پلیٹ کا استعمال
دوپہر
ہو یا رات کھانے کے وقت آپ کی پلیٹ کا حجم بہت معنی رکھتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق جو
لوگ بڑی پلیٹوں کو ترجیح دیتے ہیں وہ کھاتے بھی زیادہ ہیں اور یہ جسمانی ضروریات سے
بھی زیادہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں اضافی خوراک چربی بن کر جسم میں جمع ہو جاتی ہے
اور توند نکل آتی ہے۔
________________________________________
رات
کو دیر سے کھانا
اگر
سونے سے قبل آپ کا پیٹ بھرا ہوا ہو تو نظام ہاضمہ صحیح کام نہیں کرپاتا، جو پیٹ کو
بڑھانے کا سبب بنتا ہے، دیر سے کھانا اور بھرے پیٹ کے ساتھ سونا تیزابیت اور کھانا
ہضم نہ ہونے جیسی شکایات کا سبب بنتا ہے۔
________________________________________
غصے،
اداسی یا مایوسی کے عالم میں کھانا
شدید
جذباتی کیفیت کے دوران کھانے سے ذہنی حالت تو بہتر نہیں ہوتی بلکہ یہ توند میں اضافے
کا سبب بنتی ہے۔
________________________________________
کم
چربی والی غذاﺅں
کا اکثر استعمال
اکثر
افراد کا خیال ہے کہ زیادہ چربی والی غذا توند یا کمر بڑھانے کا سبب بنتی ہے، مگر حقیقت
تو یہ ہے کہ چربی یا فیٹ آپ کے لیے بری نہیں، بلکہ بہت زیادہ کم چربی والی غذا ضرور
موٹاپے کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ اس میں چینی کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے اور جتنی
بھی چینی استعمال کریں گے پیٹ میں چربی بڑھنے کا امکان اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
________________________________________
نیند
کی کمی
بالغ
افراد کو ہر رات 7 سے 9 گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے، اور اگر آپ نیند کی کمی کا شکار
ہوجائیں تو جسم میں ایک ہارمون کورٹیسول کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جس کے باعث میٹھی چیزوں
کی خواہش بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے، تو نیند کی کمی درحقیقت آپ کو موٹاپے کی سرحد تک پہنچانے
کا سبب بنتی ہے۔
________________________________________
اپنی
غذا میں زیادہ پروٹین کا استعمال نہ کرنا
غذا
میں پروٹین کی مقدار نظام ہاضمہ کو درست رکھتی ہے جبکہ کھانے کی خواہش کو بھی قابو
میں رکھتی ہے، تو آپ قدرتی طور پر متوازن جسامت کے مالک رہتے ہیں، مگر اس کے برعکس
ہو تو نتیجہ صاف ظاہر ہے یعنی توند۔۔
جمعرات، 10 جولائی، 2014
مرد ہوتے ہیں بیوقوف خرگوش اور خواتین عقلمند کچھوے، دلچسپ تحقیق
نیویارک : جب بات لمبی دوڑ کی ہو خواتین عقلمند کچھوا اور مرد بیوقوف خرگوش ثابت ہوتے ہیں۔
یہ دلچسپ دعویٰ ایک نئی امریکی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔
مشی گن کی گرینڈ ویلی اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مرد حضرات کسی خرگوش کی طرح شروع میں ہی اپنی پوری توانائی صرف کرکے تھک ہار کر سست پڑجاتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں خواتین حقیقت میں نصف بہتر ہی ثابت ہوتی ہیں جو طویل فاصلے کی دوڑ کو زیادہ بہتر طریقے سے منظم کرتی ہیں، انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کس رفتار سے دوڑنا چاہئے اور کس حد تک ذہنی اور نفسیاتی برتری انہیں فائدہ پہنچائے گی۔
ایک قدیم یونانی حکایت میں ایک سست رفتار کچھوا تیز رفتار خرگوش سے ریس کا مقابلہ کرتا ہے اور جیت بھی جاتا ہے جس کی وجہ سے خرگوش کا آدھے راستے میں خود کو کامیاب سمجھ کر سوجانا بنتا ہے، ایسا ہی معاملہ خواتین اور مردوں کا بھی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مختلف ریسوں کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مرد حضرات اپنی رفتار کو برقرار رکھنے کے باوجود سست پڑجاتے ہیں جس سے ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور ریس کے دوسرے حصے میں ان کی کارکردگی 15.6 فیصد زیادہ بدتر ہوجاتی ہے، جبکہ خواتین میں یہ شرح 11.7 فیصد ہوتی ہے۔
محقق پروفیسر رابرٹ ڈینر کا کہنا ہے کہ بظاہر تو یہ واقعی کچھوے اور خرگوش جیسی صورتحال ہے، مرد بہت زیادہ تیزرفتاری دکھاتے ہیں اور پھر منہ کی کھاتے ہیں، تاہم خواتین سست روی مگر پورے عزم کے ساتھ منزل کی جانب رواں دواں رہتی ہیں۔
یہ دلچسپ دعویٰ ایک نئی امریکی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔
مشی گن کی گرینڈ ویلی اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مرد حضرات کسی خرگوش کی طرح شروع میں ہی اپنی پوری توانائی صرف کرکے تھک ہار کر سست پڑجاتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں خواتین حقیقت میں نصف بہتر ہی ثابت ہوتی ہیں جو طویل فاصلے کی دوڑ کو زیادہ بہتر طریقے سے منظم کرتی ہیں، انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کس رفتار سے دوڑنا چاہئے اور کس حد تک ذہنی اور نفسیاتی برتری انہیں فائدہ پہنچائے گی۔
ایک قدیم یونانی حکایت میں ایک سست رفتار کچھوا تیز رفتار خرگوش سے ریس کا مقابلہ کرتا ہے اور جیت بھی جاتا ہے جس کی وجہ سے خرگوش کا آدھے راستے میں خود کو کامیاب سمجھ کر سوجانا بنتا ہے، ایسا ہی معاملہ خواتین اور مردوں کا بھی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مختلف ریسوں کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مرد حضرات اپنی رفتار کو برقرار رکھنے کے باوجود سست پڑجاتے ہیں جس سے ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور ریس کے دوسرے حصے میں ان کی کارکردگی 15.6 فیصد زیادہ بدتر ہوجاتی ہے، جبکہ خواتین میں یہ شرح 11.7 فیصد ہوتی ہے۔
محقق پروفیسر رابرٹ ڈینر کا کہنا ہے کہ بظاہر تو یہ واقعی کچھوے اور خرگوش جیسی صورتحال ہے، مرد بہت زیادہ تیزرفتاری دکھاتے ہیں اور پھر منہ کی کھاتے ہیں، تاہم خواتین سست روی مگر پورے عزم کے ساتھ منزل کی جانب رواں دواں رہتی ہیں۔
بدھ، 9 جولائی، 2014
’ کوئی اور نہیں، وہ ہم تھے‘
![]() |
|
سرد
جنگ کے زمانے میں امریکہ نے یو2 پروگرام کو بےحد خفیہ رکھا ہوا تھا
|
سنہ
1950 کی دہائی میں ان سنسی خیز خبروں نے پُورے ناروے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا
کہ آسمان میں عجیب و غریب چیزیں دکھائی دے رہی ہیں۔ یہاں تک کہ فضائی کپمنیوں کے
کئی پائلٹ بھی یہ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے بھی طیاروں سے ایسے اجسام دیکھے تھے جو
برق رفتاری سے طیاروں کے سامنے سے بلندی پر گزر جاتے تھے۔
پائلٹوں کے
مشاہدات کے علاوہ بہت سے عام لوگ بھی کئی مرتبہ یہ دعویٰ کرتے سنے جاتے تھے کہ
انھوں نے آسمان میں انتہائی بلندی پر روشنی خارج کرتے ہوئے اجسام دیکھے ہیں۔
ناروے کے اخبار
’آفٹن پوسٹن‘ کے مطابق اب اس راز سے پردہ اُٹھ گیا ہے۔
ناروے کے لوگ دور
آسمانوں میں جو عجیب و غریب اجسام دیکھ رہے تھے، وہ دراصل سراغرسانی کرنے والے
خفیہ طیارے ’یو2‘ تھے۔ اخبار نے اس سلسلے میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ایک
حالیہ ٹویٹ کا ذکر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے: ’ کیا آپ کو سنہ 1950 کی دہائی میں
آسمان میں غیرمعمولی اجسام کی خبریں یاد ہیں؟ وہ ہم تھے۔‘
سی آئی اے کا کہنا
ہے کہ اُس وقت جب عام مسافر طیارے محض دس سے 20 ہزار فٹ کی بلندی پر اور فوجی
ہوائی جہاز زیادہ سے زیادہ 40 ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کر سکتے تھے، یو2 ان سے
کہیں زیادہ اوپر 60 ہزار فٹ پر پرواز کر رہے تھے۔ان دنوں جب سورج افق سے نیچے چلا
جاتا تھا تو یو2 کی بلندی تب بھی اتنی زیادہ ہوتی تھی کہ پائلٹوں کو یہ تاریک آسمان
میں چکمدار سنہرے اجسام کی شکل میں دکھائی دیتے تھے۔
اخبار کا مزید
کہنا ہے کہ امریکی فضائیہ کے ’پراجیکٹ بلیو بُک‘ نامی منصوبے کے تحت
کی جانے والی حالیہ تحقیق کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ سنہ 50 کی دہائی میں جب بھی
ناروے میں پراسرار روشنی دیکھے جانے کی اطلاع سامنے آئی تھی، اگر ان اطلاعات کو آج
دیکھا جائے تو وہ اسی وقت آئی تھیں جب کوئی یو 2 آسمان میں محو پرواز تھا۔
چونکہ اس وقت
سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ اپنے عروج پر تھی، اس لیے یو2 کے خفیہ
پروگرام کے بارے میں کسی قسم کی اطلاعات منظر عام پر نہیں لائی جاتی تھیں۔‘
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)



