Society لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Society لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 8 اگست، 2014

انٹرنیٹ پر ماں کے دودھ کی خرید و فروخت؟

انٹرنیٹ پر کتابوں اور جوتوں سے لے کر ریفریجریٹرز تک تقریبا سبھی کچھ خریدا جا سکتا تھا لیکن اب وہاں ماں کا دودھ بھی دستیاب ہے۔ کیا یہ دودھ نہ پلا سکنے والی ماؤں کے لیے حقیقی متبادل، بچوں کے لیے خطرہ یا پھر کار خیر ہے؟
جرمنی میں ماں کے دودھ کی خرید و فروخت کی بنیاد تانیا میولر کی طرف سے رکھی گئی اور اس سال جنوری سے ان کی انٹرنیٹ ویب سائٹ پر ماں کے دودھ کی خرید و فروخت جاری ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’میرے پاس دودھ زیادہ ہوتا تھا اور میں اضافی دودھ پھینک دیتی تھی۔ لیکن یہ اصل میں بہت ہی سادہ خیال تھا کہ ایک ماں کا دودھ دوسری ماں کو دے دیا جائے۔ ایسا ہوتا ہے کہ ایک کے پاس اضافی دودھ ہوتا ہے اور دوسری ماں کے پاس بچے کی ضرورت سے کم۔‘‘ تانیا میولر کا یہ موقف اپنی جگہ لیکن ماں کے دودھ کی آئن لائن خرید و فروخت پر شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔
ماں کے دودھ کی خرید و فروخت
جرمنی کے برعکس امریکا میں گزشتہ دس برسوں سے ماں کے دودھ کی خریدو فروخت یا تبادلہ جاری ہے۔ ماں کے دودھ سے متعلق انٹرنیٹ پلیٹ فارم کے قیام کی وجہ کئی دیگر وجوہات بھی بتائی جاتی ہیں، کئی خواتین کے پاس قدرتی طور پر کم دودھ ہوتا ہے اور کئی خواتین کے آپریشن ہو چکے ہوتے ہیں۔ تانیا میولر کہتی ہیں کہ وہ اپنے آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے دونوں طرح کی ماؤں، دودھ تلاش اور فراہم کرنے والیوں کا آپس میں رابطہ کروانا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ویب سائٹ پر ہر ماں کے لیے پانچ ہدایات دی گئی ہیں، جو ہر کسی کو پڑھنی چاہییں۔ پہلی ہدایت یہ ہے کہ اپنے مضافات میں کوئی ایسی خاتون تلاش کی جائے، جو دودھ عطیہ کرنا یا بیچنا چاہتی ہو۔ قریب ہی رہنے والی خاتون سے براہ راست ملاقات بھی کی جا سکتی ہے تاکہ اعتماد میں اضافہ ہو۔
تانیا میولر اپنی ویب سائٹ پر دودھ خریدنے یا بیچنے سے متعلق اشتہار کے لیے پانچ یورو (تقریبا 650 پاکستانی روپے) وصول کرتی ہے جبکہ دودھ سے متعلق قواعد و ضوابط اور قیمت وغیرہ دونوں مائیں یا دونوں پارٹیاں خود طے کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ دودھ براہ راست خود بھی ڈیلیور کیا جا سکتا ہے یا پھر فریز کیا ہوا دودھ ڈاک کے ذریعے بھیجا جا سکتا ہے۔ ڈاک کے ذریعے ماں کے دودھ کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ کولڈ چین کو برقرار رکھا جائے لیکن کیا یہ سب کچھ انتہائی آسان ہے؟
دودھ کے معیار پر تنقید
تاہم انٹرنیٹ سے ماں کی دودھ کی خریدو فروخت پر شدید تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ سب سے سخت تنقید جرمنی میں ’ماؤں کے دودھ سے متعلق نیشنل کمیشن‘، خطرات کی تشخیص کے وفاقی جرمن ادارے( بی ایف آر) اور بچوں کی غذا سے متعلق جرمن سوسائٹی(ڈی جی کے جی) کی طرف سے کی گئی ہے۔ ان اداروں کا کہنا ہے کہ بغیر تجزیے اور کوالٹی کنٹرول کے کسی دوسری ماں کے دودھ کا استعمال خطرے سے خالی نہیں، ’’ماہرین اور ڈاکٹروں کے مطابق ڈونر ماؤں کے دودھ کے ذریعے بیکٹیریا، جراثیم یا وائرس کی ممکنہ ٹرانسمیشن کا خطرہ ہے۔‘‘
تاہم جرمنی میں ’مدر مِلک بینک‘ بھی قائم ہیں اور یہ مختلف ہسپتالوں سے منسلک ہیں۔ پوٹسڈام میں بیرگمان کلینک کے سربراہ ڈاکٹر مشائیل راڈکے ’مدر مِلک بینکوں‘ میں رکھے گئے ماؤں کے دودھ کے معیار سے متعلق کہتے ہیں کہ وہ دودھ عطیہ کرنے والی خواتین کے پہلے تمام ممکنہ (ہیپاٹائٹس، یرقان، ایچ آئی وی یا وائرل متعدی امراض کے) ٹیسٹ کرتے ہیں اور اس کے بعد ہی ان کا دودھ مدر مِلک بینک‘ میں رکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد ماں کے دودھ کو فریز کر دیا جاتا ہے اور حتمی طور پر کسی بچے کو پلانے سے پہلے ایک مرتبہ پھر دودھ کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے ’مدر مِلک بینکوں‘ کی تعداد میں اضافہ کیا جانا چاہیے نہ کہ آئن لائن خریدو فروخت کا کاروبار شروع کر دیا جائے۔

Read More »

بدھ، 16 جولائی، 2014

نوشیرواں عادل کی نصیحت


جب نوشیرواں عادل بادشاہ کا وقت آخر آیا اور نزع کی حالت میں اس نے اپنے ولی عہد اور جواں سال بیٹے ہرمز کو طلب کیا اورآخری وقت میں چند خاص نصیحتیں کیں۔ نوشیرواں عادل نے اپنے بیٹے سے کہا کہ آپ آرام کی فکر میں رعایا سے غافل نہ ہو جانا اگر تو اپنا آرام و چین چاہتا ہے تو فقیر کے دل کا نگہبان ہو جا، اگر تو صرف اپنا ہی آرام چاہے گا تو پھر تیرے ملک میں کوئی آرام نہ پا سکے گا۔ کیونکہ عقل مندوں کے نزدیک یہ بات پسندیدہ نہیں کہ ایک چرواہا اپنی بھیڑ بکریوں سے غافل ہو کر سو جائے اور جانوروں کو بھیڑیا چیر پھاڑ کر کھا جائے، تو محتاج فقیر کا خیال کیا کر کیوں کہ بادشاہ رعیت سے ہی تاجدار ہوتا ہے۔

بادشاہ درخت ہے تو رعیت اس کی جڑ ہے جس پر درخت پھلتا پھولتا ہے، جب بادشاہ اپنی رعیت کا دل زخمی کرتا ہے تو وہ خود اپنے ہاتھ سے اپنی جڑ کاٹتا ہے۔ اگر تو چاہتا ہے کہ ملک کو نقصان نہ ہو تو پھر لوگوں کے سکھ چین کا خیال کر۔ اگر کسی ملک میں رعایا تنگ ہے تو پھر وہاں خوشحالی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ بہادروں سے مت ڈر مگر اس سے ضرور خوف کھا جو خدا سے نہیں ڈرتا۔ اپنا مفاد چاہتا ہے تو کسان پر رعایت کر کیونکہ مزدور خوش ہوتا ہے تو کام زیادہ کرتا ہے جو نیکو کار ہو اس کے ساتھ بدی کرنا جائز نہیں ہے۔ جو بادشاہ ملک میں خرابی اور نقصان سے ڈرتا ہے وہ کبھی رعایا کے ساتھ دل آزاری کا معاملہ نہیں کر سکتا، کیونکہ رعایا کی پریشانی ہی ملک کے نقصان کا سبب ہے، اگر تو ان کا خیال نہیں کرے گا تو تیری رعایا تیری حکومت کا تختہ الٹ دے گی۔

آپ حضرت شیخ سعدی شیرازیؒ کی مذکورہ حکایت کی روشنی میں آج کے حکمرانوں کی کارکردگی اور عدالت عظمیٰ کے معزز جج صاحبان کے تازہ ریمارکس پر نظر ڈال لیجیے جو انھوں نے غریب و عام آدمی کو آٹا اور عام استعمال کی دیگر اشیا ضرورت کی سستے داموں فراہمی کے حوالے سے زیرسماعت ایک مقدمے کے دوران دیے ہیں۔ تو یہ حقیقت طشت از بام ہو جائے گی کہ گزشتہ ایک سال کے دوران حکمرانوں نے عوام کی فلاح و بہبود، ترقی، خوشحالی اور ان کے دیرینہ مسائل غربت، بے روزگاری، مہنگائی، تنگ دستی، پسماندگی، بیماری، بھوک، افلاس اور ناانصافی و عدم مساوات کے خاتم کے لیے کوئی قابل ذکر اقدامات نہیں کیے۔

کیونکہ انھیں عوام کے بنیادی مسائل کے حل سے زیادہ اپنے اقتدار کو بچانے، کاروبار کو بڑھانے اور اپوزیشن کو دبانے کی فکر دامن گیر ہے۔ حکمرانوں کی عوامی مسائل کے حل سے عدم دلچسپی کا سب سے بڑا ثبوت عدالت عظمیٰ کے معزز ججز کے وہ دردناک اور فکر انگیز ریمارکس ہیں جو وہ گزشتہ دس ماہ کے دوران مذکورہ مقدمے کی سماعت کے دوران دیتے رہے ہیں لیکن حکمرانوں اور ان کے حواریوں کی بے حسی کہ ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

حکومتی اداروں، عوامی نمایندوں کی مجرمانہ غفلت، لاپرواہی، بے حسی اور حقائق سے چشم پوشی اس امر کی عکاس ہے کہ انھیں ملک کے غریب، نادار، مفلس، مفلوک الحال اور پسماندہ طبقے کے ان کروڑوں لوگوں کے مسائل سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں کہ جن کے لوگوں سے منتخب ہو کر وہ اسمبلیوں میں آتے ہیں۔

آخر کیا وجہ ہے کہ حکومت کے ماتحت ادارے گزشتہ دس ماہ سے عدالت عظمیٰ کو مختلف تاویلیں اور بودے استدلال دے کر وقت گزاری کا مظاہرہ کر رہے ہیں نتیجتاً اب فاضل بینچ نے تقریباً وارننگ دیتے ہوئے حکمرانوں سے سوال کیا ہے کہ بتائیں! وہ دن کب آئے گا جب کوئی شہری بھوکا نہیں سوئے گا اور 17 جولائی تک وفاقی و صوبائی حکومتیں ملک کے غریب و نادار طبقے کے افراد کے لیے آٹا اور روزمرہ استعمال کی دیگر ضروری اشیا کی فراہمی کے لیے حتمی ٹائم فریم دیں۔ جسٹس جواد خواجہ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے۔ مقررہ تاریخ تک ٹائم فریم نہ دینے کی صورت نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ فاضل بینچ کے سربراہ نے حکمرانوں پر واضح کر دیا ہے کہ وافر اناج ہونے کے باوجود غریبوں کو بھوک سے مرنے نہیں دیں گے، امداد کا نظام آن لائن ہونا چاہیے۔

محترم جج صاحبان کے ریمارکس اپنی جگہ بڑی اہمیت کے حامل ہیں اور ملک کے ان کروڑوں غریبوں اور کسمپرسی میں مبتلا لوگوں کے لیے یقینا حوصلہ افزا اور امید کی کرن ہیں جنھیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں دو وقت کی روٹی اور باعزت روزگار بھی نصیب نہیں ان کے گھروں میں بھوک اور فاقوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ غربت، افلاس، مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث ان کی زندگیوں کے چراغ ٹمٹما رہے ہیں عزت سے جینا ان کے لیے عذاب جاں بن گیا ہے۔

وہ اس بات پر تو نازاں ہیں کہ ایک ایسے ملک کے شہری ہیں جو دنیا بھر میں ایٹمی قوت اور زرعی ملک ہونے کے حوالے سے اپنی ایک شناخت رکھتا ہے لیکن اس بات پر سخت افسردہ اور نالاں بھی کہ حکمرانوں کو ان بنیادی مسائل کے حل سے کوئی دلچسپی نہیں حالانکہ آئینی طور پر یہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے عوام کو خوراک، رہائش اور روزگار فراہم کرے لیکن افسوس کہ حکمراں طبقے اور حکومتی اداروں کے کرتا دھرتا سورماؤں کی عدم توجہ، تساہل پسندی، ذخیرہ اندوزی کی چیرہ دستیاں، منافع خوروں کی ہوس زر، چور بازاروں کی فتنہ گری، بلیک میلروں کی کارگزاریوں اور دیگر پرچون آئٹم کی قیمتوں میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور یہ تمام چیزیں اب عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔

یہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہے کم ازکم اس ماہ میں حکمرانوں کو ایسی جامع پالیسی اور مانیٹرنگ کا ایسا سخت اور فول پروف نظام وضع کرنا چاہیے تھا کہ اشیا خوردونوش بالخصوص پھل فروٹ کی قیمتیں روزہ داروں کی تو دسترس میں ہوتیں لیکن افسوس کہ رحمتوں اور برکتوں کے اس مہینے میں ہر شے کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ آج عالم یہ ہے کہ جیسے کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں حکومت اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے حکمراں اور عوام دو الگ دنیاؤں کی مخلوص نظر آتے ہیں۔

ایک طبقے کو تو دنیا جہان کی ہر سہولت وآسائشیں میسر ہیں ان کے شبستاں اور دسترخواں انواع و اقسام کی نعمتوں سے سجے ہوتے ہیں جب کہ دوسرے طبقے کی کم مائیگی کا یہ عالم ہے کہ نامرادی محرومی اور مایوسیاں اس کا مقدر بن چکی ہیں۔ ان کے گھروں میں مفلسی کا ڈیرہ اور دسترخوان پر فاقہ کشی کی کڑوی گولیاں پڑی ہیں جنھیں وہ نگلنے پر مجبور ہیں۔ ملک کے ایسے کروڑوں غریب و مفلوک الحال لوگوں کو غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور تنگدستی کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے عدالت عظمیٰ گزشتہ دس ماہ سے حکمرانوں کی گوشمالی کر رہی ہے لیکن وہ ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں۔ اگر اب بھی حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو پھر وہ نوشیرواں عادل کی اپنے بیتے ہرمز کو کی گئی نصیحت پر عمل نہ کرنے کا انجام یاد رکھیں کہ رعایا ان کی حکومت کا تختہ الٹ دے گی۔
Read More »

منگل، 15 جولائی، 2014

رہیے اب ایسی جگہ چل کے جہاں کوئی نہ ہو


سائبیریا کا لیکوف خاندان، جس نے 1936میں مہذب دنیا کو چھوڑ کر جنگل میں ٹھکانا کرلیا تھا۔
 سائبیریا میں موسم گرما طویل نہیں ہوتا، اس خطے میں مئی میں بھی جگہ جگہ برف دکھائی دیتی ہے، جب کہ مئی کے مہینے میں دنیا کے مختلف خطے بہت گرم ہوتے ہیں۔

اس خطے میں ستمبر آتے ہی ایک بار پھر شدید سردی لوٹ آتی ہے جو پورے خطے کو منجمد کریتی ہے۔ دور دور تک بکھرے ہوئے بے ترتیب بلند و بالا جنگلی درختوں اور ان میں سوتے ہوئے ریچھوں اور بھیڑیوں کے سوا یہاں اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ کہیں کہیں وادیوں میں سفید دودھیا پانی کے جھاگ اڑاتے دریا اس علاقے کی وحشت میں اور بھی اضافہ کرتے ہیں۔

یہ سائبیریا کے ابا کان نامی ڈسٹرکٹ کا علاقہ ہے جو بلند درختوں کے جنگل پر مشتمل ہے۔ سائبیریا روس کے تیل اور معدنیات کے اکثر وسائل کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ یہ جنوب کا سب سے ویران اور غیرآباد جنگل تھا اور یہ کہانی 1978کے موسم گرما کی ہے۔ ماہرین ارضیات کی ایک پارٹی ایک ہیلی کاپٹر میں سوار اس خطے کا سروے کررہی تھی، یہ لوگ خام لوہے کی تلاش میں یہاں آئے تھے۔

انہیں ہیلی کاپٹر اتارنے کے لیے کسی صاف جگہ کی تلاش تھی، مگر دور دور تک سوائے گھنے جنگلوں کے اور کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ پھر انہیں بلند درختوں کے بیچ میں دریا کی پتلی سی لکیر دکھائی دی، جس کا پانی بڑے طوفانی انداز سے بہہ رہا تھا۔ مگر یہاں وادی کی دیواریں بالکل عمودی تھیں، پھر گھنے درختوں کی چھتریوں نے بھی نیچے کا منظر ڈھانپ لیا تھا۔

ان میں اترنے کے لیے کوئی جگہ دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ مگر پائلٹ کی نظریں مسلسل ایسی جگہ تلاش کررہی تھیں، جہاں وہ ہیلی کاپٹر کو اتار سکے۔ یکایک اسے درختوں کے درمیان ایک پہاڑی پر نسبتاً صاف جگہ دکھائی دی جو اس سے پہلے وہاں کبھی نظر نہیں آئی تھی۔ اس صاف جگہ پر پگ ڈنڈی جیسی لکیریں دکھائی دیں۔ پائلٹ نے ہیلی کاپٹر میں موجود ماہرین ارضیات کو اس طرف متوجہ کیا تو ان سبھی نے اس منظر کو غور سے دیکھا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ یہاں ضرور انسانی آبادی ہے۔

نیچے ایک باغ بھی دکھائی دے رہا تھا جو یقینی طور پر انسان کی موجودگی کی گواہی دے رہا تھا۔یہ ایک غیرمعمولی انکشاف اور اہم ترین کھوج تھی۔ یہ پہاڑ قریب ترین انسانی آبادی سے لگ بھگ 150میل دور تھا۔ سوویت عہدے داروں کے پاس ایسا کوئی ریکارڈ نہیں تھا جو یہ بتاسکے کہ اس ڈسٹرکٹ میں کبھی کوئی انسان رہا ہے۔ یہاں تو دور دور تک انسان کا وجود بھی نہیں تھا۔ ماہرین ارضیات اس انکشاف پر خوش ہونے کے بجائے پریشان ہوگئے۔ لیکن انہوں نے اس کا کھوج نکالنے کا فیصلہ کیا۔ چناں چہ روسی ماہرارضیات گیلینا پسمین کایا کی قیادت میں ایک پارٹی روانہ ہوگئی، جو اس انکشاف کی تصدیق کرنے گئی تھی کہ یہاں بھی انسان رہتے ہیں یا نہیں۔ ان لوگوں نے اپنے ان نادیدہ دوستوں کے لیے کچھ تحفے بھی ساتھ رکھ لیے تھے جن سے وہ ملنے جارہے تھے۔

کافی طویل اور مشقت بھرا پہاڑی سفر طے کرنے کے بعد جیسے ہی یہ لوگ پائلٹ کی بتائی ہوئی جگہ کے قریب پہنچے تو انہیں انسانی آبادی کے آثار دکھائی دینے لگے۔ انہوں نے نسبتاً ایک پتھریلا اور ہموار راستہ دیکھا، پھر ان کی نظر پانی کے چشمے پر رکھے درخت کے تنے پر پڑی جو یقیناً اسے عبور کرنے کے لیے رکھا گیا تھا۔ پھر انہیں ایک چھوٹا سا شیڈ دکھائی دیا، جس میں کٹے ہوئے خشک آلوؤں کا ڈھیر رکھا تھا۔ بہتے چشمے کے برابر میں درختوں کے تنوں سے بنایا ہوا ایک جھونپڑی نما گھر تھا، جسے گزرتے وقت کی سختی اور شدید موسم نے بالکل سیاہ کردیا تھا۔



اس جھونپڑی کے اطراف میں کوڑے کرکٹ کے ساتھ درختوں کے تنوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ یہ کسی بھی طرح خوشگوار منظر نہیں تھا۔ٹیم کی قائد گیلینا کا کہنا ہے:’’ہم سوچ رہے تھے کہ اس ویران گھر میں کوئی رہتا بھی ہے یا نہیں، مگر پھر ہمیں وہاں انسان کے رہنے کا ثبوت مل گیا۔ جھونپڑی کا پرانا اور بوسیدہ دروازہ چرچراتا ہوا کھلا اور دن کی روشنی میں ایک بہت بوڑھا انسان باہر نکلا۔ وہ پریوں کی کہانیوں کا کردار لگ رہا تھا۔ وہ ننگے پیر تھا، اس کے جسم پر درختوں کی نرم چھال کا لباس تھا جس میں جگہ جگہ پیوند لگے ہوئے تھے۔ اپنی بے ترتیب لمبی داڑھی اور سر کے الجھے ہوئے بالوں کی وجہ سے وہ کوئی بھوت لگ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں خوف بھی تھا اور شک بھی۔

میں نے اسے سلام کیا اور کہا:’دادا! ہم آپ سے ملنے آئے ہیں۔
پہلے تو بوڑھا کچھ نہ بولا، مگر پھر اس نے جواب دیا:’تم لوگ اتنی دور سے یہاں آئے ہو تو چلو اندر آجاؤ۔‘ہم لوگ جھونپڑی کے اندر داخل ہوئے تو حیران رہ گئے۔ وہ جانوروں کے رہنے کا کوئی بل یا بھٹ لگ رہا تھا جسے بنانے میں جو چیز ہاتھ لگی، استعمال کرلی گئی تھی۔ اس کا فرش بہت سرد اور سخت تھا، اس پر آلو کے چھلکے اور صنوبر کے درختوں میں لگنے والے گری دار پھل کے خول ڈھیر کی صورت میں پڑے ہوئے تھے۔ اندر ایک ہی کمرہ تھا جو جگہ جگہ سے شکستہ ہورہا تھا۔ درختوں کے لٹھوں سے اس کی دیواریں، فرش اور چھت بنائی گئی تھی۔ یہاں پانچ افراد رہتے تھے۔ اچانک ہم نے کسی کے رونے کی آواز سنی تو دو عورتوں کے سائے دکھائی دیے۔

ایک عورت روتے ہوئے کہہ رہی تھی:’’اے خدا! ہمیں معاف کردے، یہ سب ہمارے گناہوں کی سزا ہے جو ہمیں مل رہی ہے۔‘‘
دوسری عورت اسے دیکھتے دیکھتے فرش پر ڈھیر ہوگئی۔ ہم نے صورت حال کی نزاکت محسوس کرلی تھی، وہ عورتیں ہمیں کوئی ناگہانی مصیبت سمجھ رہی تھیں، ہمارا وہاں سے جلدازجلد باہر نکل جانا ہی مناسب تھا۔‘‘
چناں چہ اپنی قائد گیلینا کی قیادت میں تمام سائنس داں وہاں سے تیزی سے باہر نکلے اور چند گز دور جاکر رک گئے، جہاں انہوں نے تھوڑا بہت کھایا پیا اور مسلسل جھونپڑی کی طرف دیکھتے رہے۔ کچھ دیر بعد جھونپڑی کا دروازہ کھلا اور بوڑھا اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ باہر نکلا۔ وہ دونوں پُرسکون تو تھیں، مگر ابھی تک خوف زدہ تھیں۔ کچھ ہچکچاہٹ کے ساتھ وہ اپنے مہمانوں کے پاس آکر بیٹھ گئیں۔

سائنس دانوں کی ٹیم نے آنے والوں کو جام، جیلی، چائے اور ڈبل روٹی پیش کی، مگر انہوں نے کچھ نہ لیا بلکہ سرگوشی کے انداز میں کہا:’’ہمیں یہ سب کھانے کی اجازت نہیں ہے۔‘‘گیلینا نے خواتین سے پوچھا:’’کیا تم نے کبھی ڈبل روٹی کھائی ہے؟‘‘ خواتین تو کچھ نہ بولیں، لیکن بوڑھے نے جواب دیا:’’میں نے تو کھائی ہے، لیکن ان میں سے کسی نے نہیں کھائی۔ یہ لوگ تو پہلی بار اسے دیکھ رہی ہیں۔‘‘

دونوں بہنوں نے آپس میں بات چیت کی، مگر ان کا لہجہ کچھ ٹوٹا ٹوٹا سا تھا، جو غالباً طویل عرصے تک مہذب دنیا سے دور رہنے کا نتیجہ تھا۔
اس فیملی سے سائنس دانوں کی یہ پہلی ملاقات تھی۔ اس کے بعد وہ کئی بار وہاں گئے تب کہیں جاکر انہیں اس گھرانے کے حالات معلوم ہوئے۔ اس بوڑھے کا نام کارپ لیکوف تھا۔ وہ مذہبی طور پر روسی آرتھوڈوکس فرقے سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ لوگ بہت مذہب پرست بھی ہوتے ہیں اور قدامت پرست بھی۔ ان کی قدامت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کارپ لیکوف سترھویں صدی کے انداز میں عبادت کرتا تھا جس میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔ وہ مذہبی اعتبار سے اولڈ بیلیورز میں شامل تھا۔

پھر کارپ لیکوف نے اس حوالے سے بات چیت شروع کی۔ وہ اس طرح بول رہا تھا جیسے یہ سب کل ہی ہوا ہو۔ اس کے نزدیک پیٹر اعظم اس کا ذاتی دشمن تھا اور انسانی شکل میں مسیح کا باغی تھا۔ روس کے زار نے جب روس کا جدید بنانے کی مہم شروع کی تھی تو اس نے مسیحیوں کی داڑھیاں صاف کروادی تھیں۔ کارپ نے ایک تاجر کی شکایت بھی کی جس نے بوقت ضرورت کٹر مسیحیوں کو آلو دینے سے صاف انکار کردیا تھا۔ اس بات نے کارپ کو بہت دکھی کیا تھا۔ بعد میں جب روسی اشتراکیت کے لوگ اقتدار میں آئے تو لیکوف فیملی کے لیے اور بھی مشکلات پیدا ہوگئیں۔ سوویت دور میں یہ کٹر مذہب پرست پہلے ہی سائبیریا کے طرف بھاگ گئے تھے، بعد میں مزید دور چلے گئے، تاکہ وہ جدیدیت کے عذاب سے بچ سکیں۔

1930کے عشرے میں جب خود مسیحیوں کے لیے بھی مشکلات بڑھیں تو لیکوف کے بھائی کو گاؤں کے مضافات میں کمیونسٹ اہل کاروں نے اس وقت گولی ماردی جب وہ اپنے بھائی کے ساتھ کام کررہا تھا۔ یہ دیکھ کر لیکوف اپنے فیملی کو لے کر گھنے جنگل کے اندر چلا گیا اور وہاں چھپ گیا۔ بعد میں پیٹراعظم نے داڑھی والوں کے خلاف ٹیکس لگادیا، جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے تھے، ان کی داڑھیاں زبردستی منڈوادی جاتی تھیں۔یہ 1936کا زمانہ تھا۔ اس وقت لیکوف فیملی میں صرف چار افراد باقی بچے تھے:

کارپ لیکوف، اس کی بیوی اکولینا، ایک بیٹا سیوین جس کی عمر اس وقت نو سال تھی اور بیٹی نٹالیا جو اس وقت صرف دو سال کی تھی۔ اپنا تھوڑا بہت سامان اور کچھ بیج لے کر یہ لوگ جنگل میں مزید اندر چلے گئے، جہاں انہوں نے اپنے رہنے کے لیے جھونپڑیاں بنائیں، مگر وہ وہاں بھی نہیں رکے اور زیادہ اندر کی طرف بڑھتے چلے گئے، یہاں تک کہ وہ موجودہ ویرانے میں پہنچے جہاں انہیں اطمینان تھا کہ وہاں کوئی نہیں پہنچ سکے گا۔ اس فیملی میں وہاں دو بچے اور بھی پیدا ہوئے۔ 1940میں دمتری پیدا ہوا اور 1943 میں اگافیا کی پیدائش ہوئی۔ ان دونوں بچوں میں سے کسی نے بھی اپنی فیملی ممبرز کے علاوہ کسی اور انسان کو نہیں دیکھا تھا۔ بیرونی دنیا کے بارے میں دمتری اور اگافیا جو کچھ جانتے تھے، وہ انہیں اپنے ماں باپ کی سنائی ہوئی کہانیوں سے پتا چلا تھا۔

لیکوف خاندان کے بچوں کو یہ معلوم تھا کہ ایسی جگہیں بھی ہیں جنہیں شہر کہتے ہیں اور جہاں انسان اونچی اونچی عمارتوں میں ٹھنسے ہوئے رہتے ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ دنیا میں روس کے علاوہ بھی ملک ہیں۔ پڑھنے کے لیے ان کے پاس صرف یا تو دعائیہ کتابیں تھیں یا پھر ایک قدیم ترین فیملی بائبل۔ اکولینا نے اپنے بچوں کو انہی کتابوں کی مدد سے لکھنا پڑھنا سکھایا تھا، جس کے لیے درختوں کی لکڑی سے قلم بنائے گئے تھے اور شہد کو بطور سیاہی استعمال کیا گیا تھا۔ جب اگافیا کو بائبل کی کہانیوں میں ایک گھوڑے کی تصویر دکھائی گئی تو اس نے جلدی سے کہا :’’پاپا! جنگی گھوڑا!‘‘

اس فیملی کے لیے لباس درخت کے ریشے سے تیار کردہ کپڑے سے بنایا جاتا تھا۔ لیکوف فیملی اپنے ساتھ اس جنگل میں کپڑا تیار کرنے کی ایک لوم اور دوسرے اوزار لے گئے تھے، جنہیں اٹھاکر وہ اس ویران اور گھنے جنگل میں گھومتے تھے جہاں زندگی گزارنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔ وہاں ایک بڑا مسئلہ دھات کا تھا۔ ان کے پاس دو تین کیتلیاں تھیں، جنہوں نے چند سال کام چلایا، مگر جب ان پر زنگ لگ گیا تو انہیں چھوڑنا پڑا۔ اس جنگل میں دھات کا نعم البدل صرف درختوں کی لکڑی یا چھال تھی، لیکن اگر لکڑی یا چھال سے برتن تیار کیے جاتے تو ان میں آگ پر کھانا پکانا ممکن نہیں تھا۔ اس وقت تک لیکوف فیملی یہ تو جان چکی تھی کہ ان کی بنیادی خوراک آلو تھا جس میں رائی اور سن کے بیج ملاکر پکایا جاتا تھا۔ یہ ڈش بہت مزے دار تو نہیں ہوتی تھی، لیکن بہرحال پیٹ بھردیتی تھی۔

بعد میں جب یہ کہانی سائبیریا اور روس کے دیگر اخبارات تک پہنچی تو ان کے نمائندے بھی لیکوف فیملی سے ملنے گئے اور انہوں نے ان کے حالات لکھے۔ ان میں پیسکوف نامی صحافی بھی تھا۔ اس نے اس ویران جگہ کو پرفضا قرار دیتے ہوئے لکھا تھا:’’ان کے گھر کے برابر میں صاف پانی کا چشمہ بہتا تھا، صنوبر، دیودار اور شاہ بلوط کے بلند و بالا درخت تھے اور بالکل قریب ہی رس بھری اور بلیو بیری سے لدے درخت تھے۔ صنوبر کے درختوں سے میوے خود بہ خود ان کے گھر کی چھت پر گرتے رہتے تھے، گویا قدرت نے ان کے کھانے پینے کا انتظام کررکھا تھا۔ انہیں جلانے کے لیے ڈھیروں لکڑی میسر تھی۔ عام زندگی میں یہ ایک طلسماتی اور خواب ناک قسم کا ماحول تھا جہاں آلودگی نام کو بھی نہیں تھی۔ ایسے ماحول میں رہنے کا تصور کون نہیں کرے گا۔‘‘

اس کے باوجود لیکوف خاندان ہمیشہ فاقہ کشی کا شکار رہتا تھا۔ اس فیملی کو گوشت اور کھال کی ضرورت تھی۔ پھر 1950کے عشرے میں دمتری بڑا ہوگیا تو اس نے پہلی بار جانوروں کو شکار کیا۔ ان کے پاس نہ بندوقیں تھیں اور نہ تیر کمان، اس کے لیے دمتری نے یہ طریقہ نکالا کہ وہ جانوروں کے پیچھے لگ جاتا اور انہیں خوف زدہ کرکے پہاڑوں میں اس قدر دوڑاتا کہ وہ تھک ہار کر خود ہی ڈھیر ہوجاتے۔ دمتری بہت سخت جان تھا، وہ اس شدید موسم میں ننگے پیر پھرتا تھا، پہاڑوں میں دوڑنے میں اس کا جواب نہیں تھا۔ بعض اوقات تو وہ کئی کئی دن بعد گھر لوٹتا تھا اور اکثر منفی چالیس درجے سینٹی گریڈ میں جب ہر طرف برفانی دھند چھائی ہوتی تھی، وہ کھلے میدان میں اطمینان سے سوجاتا تھا، جب کہ اس کے کندھے پر شکار کیا ہوا ہرن بھی لدا ہوتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں نے اپنے گھر کے قریب فصلیں بھی اگانی شروع کردی تھیں، مگر جنگلی جانور اکثر ان کی گاجر کی فصل کو تباہ کردیتے تھے۔ اگافیا نے 1950کے اواخر کو ’’بھوک کے سال‘‘ قرار دیا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ اس زمانے میں ہم نے یا سماک کوہی کے پتے کھاکر گزارہ کیا تھا۔’’ہم جڑیں، گھاس پھوس، مشروم، آلو کی کونپلیں اور درختوں کی چھال تک کھالیتے تھے پھر ہماری بھوک ختم نہیں ہوتی تھی۔ ہر سال ہمیں فکر ہوتی تھی کہ کیا کھائیں اور کیا مستقبل کے لیے بچائیں۔‘‘1961میں جون کے مہینے میں برف باری ہوئی جس نے باغ میں اگنے والی ہر چیز تباہ کردی، موسم بہار تک یہ حال ہوا کہ اس فیملی کو اپنے جوتے اور چھال کھانی پڑی۔ اکولینا کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ کسی طرح اس کے بچوں کا پیٹ بھرجائے، اسی لیے وہ اکثر خود بھوکی رہتی تھی۔ چناں چہ اس سال وہ فاقہ کشی سے مرگئی۔ لیکن باقی لیکوف فیملی کے ساتھ ایک ناقابل یقین کرشمہ ہوگیا، ان کے باغ میں رائی کی ایک کونپل پھوٹی، پورے گھر نے اس کونپل کی دن رات حفاظت کی، اسے برف، ہوا اور گلہریوں و چوہوں سے بچایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رائی کی فصل ایک بار پھر جی اٹھی۔

یہ ساری کہانی سننے کے بعد سوویت ماہرین ارضیات کو یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ لیکوف فیملی بہت باہمت اور ذہین ہے۔ بوڑھا کارپ ان جدید ترین ایجادات کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا تھا جو ماہرین وہاں ساتھ لائے تھے۔ لیکن وہ یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ انسان چاند پر پہنچ چکا ہے۔ وہ ٹرانسپیرنٹ سیل فون دیکھ کر حیران رہ گیا۔ کارپ کا سب سے چھوٹا بیٹا سیوین سخت مزاج انسان تھا۔ کارپ اکثر یہ سوچ کر پریشان ہوتا تھا کہ اس کی موت کے بعد سیوین اس کی فیملی کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ نٹالیا نے اپنی ماں کی موت کے بعد اس کی جگہ سنبھالی تھی، وہ کھانا بھی پکاتی تھی اور گھر کی دیکھ بھال بھی کرتی تھی، مگر سب سے بڑے بیٹے کی جانب سے اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

لیکوف فیملی میں ماہرین کا پسندیدہ فرد دمتری تھا۔ وہ ایک جفاکش اور سخت جان انسان تھا اور اس سرد و بے رحم خطے کے مزاج کو خوب سمجھ چکا تھا۔ اسی نے سب سے پہلے اپنے گھر میں چولہا بنایا تھا اور درخت کی لکڑی سے بالٹیاں اور ٹوکریاں تیار کی تھیں۔ وہی لکڑی کے بڑے لٹھوں کے چھوٹے ٹکڑے کرتا تھا تاکہ چولہے میں آسانی سے جلایا جاسکے۔ سائنس داں دمتری کو ایک بار سوویت کیمپ لے گئے جہاں وہ آراء مل دیکھ کر حیران رہ گیا، وہاں لکڑے کے بڑے بڑے ٹکڑے نہایت آرام سے کاٹے جارہے تھے، جب کہ دمتری کو یہی کام کرنے میں کئی کئی دن لگ جاتے تھے۔مگر کارپ لیکوف اس سائنسی ترقی سے متاثر نہیں ہوا، بلکہ اس نے خود کو ان جدید ایجادات سے اس لیے دور رکھا، کیوں کہ اس کی نظر میں یہ سب گناہ تھا، خدا سے بغاوت تھی۔

وہ جدید ترقی کو خدا کی نافرمانی قرار دیتا تھا۔ ماہرین نے ان لوگوں کو تحفے تحائف دینے کی کوشش کی، مگر انہوں نے نمک کے سوا اور کچھ قبول نہ کیا۔ البتہ بعد میں انہوں نے اور چیزیں بھی لے لیں۔ سوویت ماہرین کے ساتھ یورفی سیڈوف نامی ایک ڈرلر بھی تھا جس نے لیکوف فیملی کو کاشت کاری کے جدید طریقے سکھائے۔اپنے جدید دوستوں سے اس فیملی نے چاقو، چھری، کانٹے، ہینڈل اور اناج کے تحفے بھی لے لیے تھے، یہاں تک کہ قلم، کاغذ اور ایک الیکٹرک ٹارچ کا تحفہ بھی قبول کرلیا تھا۔ انہوں نے اور بھی کئی چیزیں لیں، لیکن ٹیلی ویژن ان کی نظر میں بہت بڑا گناہ تھا، اس لیے انہوں نے اس کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہ کیا۔ مگر سائنس دانوں کے اصرار پر وہ اسے سمجھنے کی کوشش کرنے لگے۔ کارپ تو ٹی وی اسکرین کے سامنے ہی بیٹھ گیا، مگر اگافیا دوسرے کمرے میں پردے کی اوٹ سے اس طرح دیکھتی رہی جیسے وہ بہت بری چیز ہے، کیوں کہ اس دوران وہ مسلسل مختلف دعائیں پڑھتی رہی، البتہ کارپ نے ٹی وی دیکھنے کے بعد خدا سے خوب توبہ کی۔

لیکوف فیملی کی قسمت کا افسوس ناک پہلو یہ رہا کہ جیسے ہی اس فیملی کے روابط بیرونی دنیا سے قائم ہوئے تو اس کا زوال شروع ہوگیا۔ 1981میں چار میں سے تین بچے چند روز کے فرق سے مرگئے۔ ماہرین نے یہ خیال ظاہر کیا کہ چوں کہ وہ آلودگی سے بچے ہوئے تھے، اس لیے محفوظ تھے، مگر جیسے ہی ان کا رابطہ مہذب دنیا سے ہوا تو ان پر مختلف بیماریوں اور وائرسز نے حملہ کردیا جس کی وجہ سے وہ اپنی جانوں سے گئے۔ سیوین اور نٹالیا کے گردے فیل ہوگئے، جب کہ دمتری نمونیہ کی وجہ سے مرگیا۔ یقینی طور پر اسے انفیکشن کا تحفہ اس کے نئے دوستوں سے ملا ہوگا۔دمتری کی موت نے سائنس دانوں کو ہلاکر رکھ دیا، کیوں کہ انہوں نے دمتری کی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کی تھی۔

انہوں نے اسے وہاں سے لے جانے کے لیے ہیلی کاپٹر بھی منگوانے کی پیش کش کی تھی، مگر دمتری نے انکار کردیا اور مرنے سے پہلے سرگوشیوں میں صرف اتنا کہا:’’میں اپنے گھر سے کہیں نہیں جاؤں گا۔ میرے مذہب نے مجھے یہ سب کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ مرگیا۔لیکوف خاندان کے تین افراد کی موت کے بعد ماہرین ارضیات نے کارپ اور اگافیا کو اپنے ساتھ چلنے کو کہا تاکہ وہ انہیں ان کے رشتے داروں کے پاس پہنچادیں جو اس وقت تک بھی قدیم گاؤں میں رہتے تھے، مگر دونوں نے منع کردیا اور اپنے گھر میں رہنا پسند کیا۔ 16فروری1988کو کارپ لیکوف نیند کی حالت میں مرگیا۔اگافیا نے اسے سائنس دانوں کی مدد سے پہاڑی ڈھلوان پر دفن کرایا اور واپس اپنے گھر چلی گئی۔ اس نے کہا:’’میرا خدا میری حفاظت بھی کرے گا اور مجھے کھانے کو بھی دے گا۔‘‘

آج لیکوف فیملی میں صرف اگافیا زندہ ہے۔ باقی پانچ افراد دنیا سے جاچکے ہیں۔ اگافیا آج بھی اپنے گھر میں اکیلی رہتی ہے۔ لیکن بعد میں اس نے اپنا ارادہ بدلا اور کسی کو اپنے پاس بلانے کا فیصلہ کیا۔ چوں کہ اب اس کا رابطہ سائبیریا کے اخبارات سے ہوچکا ہے، اس لیے اس نے سائبیریا کے ایک اخبار میں یہ اپیل شائع کرائی ہے کہ مسیحی مذہب کو ماننے والا کوئی فرد اس کے پاس آجائے تاکہ اسے بھی کسی کا ساتھ مل جائے، کیوں کہ وہ اس حقیقت کو جان چکی ہے کہ زندگی لوگوں کے ساتھ رہنے میں ہے، ان سے الگ رہنے میں نہیں ہے۔ وہ جب تک زندہ ہے، لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔
Read More »