Health لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Health لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 10 اگست، 2014

عضلات کو مضبوطی فراہم کرنے والی غذائیں

کسی بھی مشقت والی ورزش کے لئے گری دار میوہ کا استعمال نہایت ضروری ہے کیوں کہ ایک اونس بادام اور کاجو میں 150سے 170کیلوریز پائی جاتی ہیں۔
باڈی بلڈنگ (جسمانی اعضاء یا پٹھوں کی مضبوطی اور کٹس بنانا) کرنا آج نوجوانوں کا محبوب مشغلہ بنتا جا رہا ہے۔
اس مقصد کے حصول کے لئے باڈی بلڈنگ کرنے والے بھاری بھرکم اور بہت زیادہ غذا کا استعمال کرتے ہیں، جو بعض اوقات ان کے لئے فائدہ کے بجائے نقصان کا باعث بھی بن جاتی ہے۔ پٹھوں کی مضبوطی اور قوت کے لئے بعض باڈی بلڈر اپنی پسندیدہ یا ذائقہ دار غذا کی قربانی بھی دے دیتے ہیں، لیکن یہاں ہم آپ کو عضلاتی مضبوطی اور خوبصورتی کے لئے ایسی غذاؤں کے بارے میں بتائیں گے، جن کے استعمال سے آپ کو بہت زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے اور آپ کو اپنی پسندیدہ غذا کے ذائقے کی قربانی بھی نہیں دینا پڑے گی۔
انڈہ: غذائیت سے بھرپور انڈہ جسمانی پٹھوں کی مضبوطی اور خوبصورتی کے لئے نہایت موثر خوراک ہے۔ انڈے کی زردی میں موجود کولیسٹرول نہ صرف مختلف ہارمونز کو متحرک کرتا ہے بلکہ انڈے میں موجود لیوسین پٹھوں کو بنانے میں بھی نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
گری دار میوہ: کسی بھی مشقت والی ورزش کے لئے گری دار میوہ کا استعمال نہایت ضروری ہے کیوں کہ ایک اونس بادام اور کاجو میں 150سے 170کیلوریز پائی جاتی ہیں۔ گری دار میوہ جات ایک مکمل مرکب ہے، جس میں مختلف پروٹین، فیٹس اور ریشے پائے جاتے ہیں۔
پروٹین سے بھرپورجوس: پروٹین اور کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور جوس عضلاتی خوبصورتی کے لئے نہایت مفید سمجھا جاتا ہے لیکن باڈی بلڈنگ شروع کرنے سے قبل اسے استعمال کیا جائے، تو پٹھوں کی نشوونما اور بڑھوتری پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
دودھ اور دہی کی پنیر: باڈی بلڈنگ کرنے والوں کے لئے پنیر دو طرح سے خدمات سرانجام دیتا ہے۔ ایک تو پنیر میں موجودکیسن نامی مادہ پروٹین کو ہضم کرنے کا عمل سست کر دیتا ہے، جس سے آپ کے خون کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھتا ہے۔ دوسرا پنیر میں پایا جانے والا بیکٹریا دیگر غذاؤں میں شامل پروٹین کو بھی اچھی طرح سے جسم کا حصہ بنانے کے قابل بنا دیتا ہے۔
مصری چنا: اگر آپ طبعیت میں سستی محسوس کر رہے ہیں تو چاولوں میں مصری چنا کو شامل کرکے اپنی خوراک میں تبدیلی لائیں، کیوں کہ مصری چنا میں 45گرام کاربونیٹ اور 12گرام فائبر(ریشے) ہوتا ہے۔ مصری چنا کے استعمال سے عضلاتی نشوونما پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ان کے علاوہ بڑا گوشت، روسٹ چکن، مسور کی دال، مچھلی اور ڈیری مصنوعات بھی باڈی بلڈنگ کرنے والوں کے لئے ہر لحاظ سے نہایت مفید غذا ہے۔
Read More »

زیتون کے طبی فوائد


زیتون ایک اینٹی آکسیڈینٹ ہے، جو جسم کے مختلف خلیوں کو تباہ ہونے سے بچاتا ہے۔ فوٹو : فائل

زیتون نہ صرف ذائقہ کے اعتبار سے منفرد حیثیت کا حامل ہے بلکہ یہ اپنے اندر متعدد طبی فوائد بھی رکھتا ہے، یہاں ہم آپ کو زیتون کے چند اہم اور دلچسپ طبی فوائد سے آگاہ کریں گے۔
٭ زیتون بڑھے ہوئے کولیسٹرول پر قابو پانے کا نہایت موثر ذریعہ ہے۔
٭ زیتوں بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔
٭ زیتون میں شامل اجزا مختلف پھلوں اور سبزیوں کا نعم البدل ہے۔
٭ زیتوں وٹامن ای کے حصول کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔
٭ زیتون ایک اینٹی آکسیڈینٹ ہے، جو جسم کے مختلف خلیوں کو تباہ ہونے سے بچاتا ہے۔
٭ زیتون کا استعمال الزائمر(یاداشت کی کمی) جیسے مسائل کے خطرات کو کم کردیتا ہے۔
٭ زیتون خون کو رگوں میں جمنے نہیں دیتا۔
٭ زیتون میں شامل اجزاء خلیوں کی حفاظت کرتے ہوئے کینسر جیسی بیماریوں کا راستہ روک دیتے ہیں۔
٭ زیتون کے استعمال سے جسم میں خون کی کمی نہیں ہوتی۔
٭ زیتون بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو بڑھا دیتا ہے۔
٭ زیتون قوت مدافعت کے نظام کو تقویت پہنچاتا ہے۔
اس کے علاوہ بھی زیتون مختلف اقسام کے وٹامنز اور نیوٹریشنز سے بھرپور ہوتا ہے، جو اچھی عمومی صحت کے لئے نہایت ضروری ہوتے ہیں۔
Read More »

جمعہ، 8 اگست، 2014

مکڈونلڈز کے درآمد کردہ گوشت پر شکوک و شبہات


— اے ایف پی فائل فوٹو
کراچی: گوشت سپلائی کرنے والی چین کی مشہور" ہوسی فوڈز کمپنی"، جس کو زائد المیعاد چکن اور بیف کو نئی تاریخوں کے ساتھ پیک کر کے بیچنے کے الزامات کے بعد بند کر دیا گیا ہے، کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کے وہ پاکستان کے ایک مشہور ملٹی نیشنل ریسٹورنٹ کو بھی گوشت سپلائی کرتی رہی ہے۔
گیم کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ اور سیزا فوڈز پرائیویٹ لمیٹڈ نے پاکستان میں مکڈونلڈز کی برانڈڈ چکن پروڈکٹس "مک نگٹس" اور "مک کرسپی برگر پیٹی" کے لئے ہوسی فوڈز کمپنی سے پاکستانی کسٹمز ریکارڈ کے مطابق رواں سال مئی میں 41 ٹن جبکہ جون میں 71 ٹن مرغی کا گوشت درآمد کیا ہے۔
کسٹمز ریکارڈ کے مطابق گوشت ایکسپورٹ کرنے والی کمپنی کا نام ہوسی فوڈز ہے جبکہ امپورٹ کرنی والی کمپنیاں گیم کارپوریشن اور سیزا فوڈز ہیں۔
مکڈونلڈز پاکستان کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ ڈویلپمنٹ جمیل اے مغل کا کہنا تھا کہ ان کی فوڈ چین مطلوبہ پروڈکٹس ہوسی فوڈزکی شنگھائی فیکٹری کے بجائے بیجنگ فیکٹری سے درآمد کرتی ہے، جبکہ زائد المیعاد پروڈکٹس سپلائی کرنے کا الزام شنگھائی فیکٹری پر ہے۔
منگل کے روز ڈان سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی جانب سے ہوسی فوڈز کی بیجنگ فیکٹری کو کلیر قرار دیا گیا ہے، جبکہ فوڈ چین میک فوڈ ملائیشیا سے بھی چکن پروڈکٹس امپورٹ کرتی ہے۔
شنگھائی ہوسی فوڈز کمپنی امریکہ میں قائم او ایس آئی گروپ کا یونٹ ہے، جس پر کھانے کی کوالٹی کے متعلق الزامات ہیں۔ واضح رہے کہ او ایس آئی گروپ کی ویب سائٹ پر بیجنگ ہوسی فوڈز کمپنی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
جمیل مغل کا کہنا تھا کے ان کے گاہک ان سے بہترین کوالٹی کے کھانے کی امید کرتے ہیں، اور کمپنی انھیں وہ مہیا کرنے کے لئے سرگرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی فوڈ چین کھانے کے معاملے میں ہمیشہ تمام معیارات کو مد نظر رکھتی ہے، جبکہ اپنے سپلائرز سے بھی یہی مطالبہ کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کے ان کی تمام گوشت کی پروڈکٹس سو فیصد حلال ہوتی ہیں، اور صرف ان سپلائرز سے لی جاتی ہیں، جو عالمی طور پر مستند اور قابل اعتماد ہیں۔
انہوں نے بتایا کے مکڈونلڈز پاکستان مکمّل طور پر پاکستانی شہریوں کی ملکیت ہے، اور وہی اسکے تمام معاملات چلاتے ہیں۔ جمیل مغل کے مطابق تمام منافع واپس پاکستان میں ہی انویسٹ کر دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں پہلا مکڈونلڈز ریسٹورنٹ 1998 میں کھولا گیا تھا۔ تب سے لے کر کمپنی فوڈ سیکٹر میں خاص مقام رکھتی ہے۔ جمیل مغل نے بتایا کے ملک بھر میں مکڈونلڈز کی 31 برانچز ہیں۔
یاد رہے کے چین میں ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو نے فوڈ کمپنی کے ملازمین کو ایکسپائرڈ پروڈکٹس کو پیک کرتے اور صفائی کے معیارات کو نظرانداز کرتے ہوئے دکھایا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نے مذکورہ فیکٹری کو بند کردیا تھا۔
پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پاس درآمد شدہ گوشت کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق چیک کرنے کے لئے کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ جبکہ پاکستان کسٹمز درآمد شدہ چیزوں کے معیار کو خود چیک کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور اس معاملے میں صرف سپلائر کے سرٹیفکیٹ پر اعتماد کیا جاتا ہے۔
Read More »

انٹرنیٹ پر ماں کے دودھ کی خرید و فروخت؟

انٹرنیٹ پر کتابوں اور جوتوں سے لے کر ریفریجریٹرز تک تقریبا سبھی کچھ خریدا جا سکتا تھا لیکن اب وہاں ماں کا دودھ بھی دستیاب ہے۔ کیا یہ دودھ نہ پلا سکنے والی ماؤں کے لیے حقیقی متبادل، بچوں کے لیے خطرہ یا پھر کار خیر ہے؟
جرمنی میں ماں کے دودھ کی خرید و فروخت کی بنیاد تانیا میولر کی طرف سے رکھی گئی اور اس سال جنوری سے ان کی انٹرنیٹ ویب سائٹ پر ماں کے دودھ کی خرید و فروخت جاری ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’میرے پاس دودھ زیادہ ہوتا تھا اور میں اضافی دودھ پھینک دیتی تھی۔ لیکن یہ اصل میں بہت ہی سادہ خیال تھا کہ ایک ماں کا دودھ دوسری ماں کو دے دیا جائے۔ ایسا ہوتا ہے کہ ایک کے پاس اضافی دودھ ہوتا ہے اور دوسری ماں کے پاس بچے کی ضرورت سے کم۔‘‘ تانیا میولر کا یہ موقف اپنی جگہ لیکن ماں کے دودھ کی آئن لائن خرید و فروخت پر شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔
ماں کے دودھ کی خرید و فروخت
جرمنی کے برعکس امریکا میں گزشتہ دس برسوں سے ماں کے دودھ کی خریدو فروخت یا تبادلہ جاری ہے۔ ماں کے دودھ سے متعلق انٹرنیٹ پلیٹ فارم کے قیام کی وجہ کئی دیگر وجوہات بھی بتائی جاتی ہیں، کئی خواتین کے پاس قدرتی طور پر کم دودھ ہوتا ہے اور کئی خواتین کے آپریشن ہو چکے ہوتے ہیں۔ تانیا میولر کہتی ہیں کہ وہ اپنے آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے دونوں طرح کی ماؤں، دودھ تلاش اور فراہم کرنے والیوں کا آپس میں رابطہ کروانا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ویب سائٹ پر ہر ماں کے لیے پانچ ہدایات دی گئی ہیں، جو ہر کسی کو پڑھنی چاہییں۔ پہلی ہدایت یہ ہے کہ اپنے مضافات میں کوئی ایسی خاتون تلاش کی جائے، جو دودھ عطیہ کرنا یا بیچنا چاہتی ہو۔ قریب ہی رہنے والی خاتون سے براہ راست ملاقات بھی کی جا سکتی ہے تاکہ اعتماد میں اضافہ ہو۔
تانیا میولر اپنی ویب سائٹ پر دودھ خریدنے یا بیچنے سے متعلق اشتہار کے لیے پانچ یورو (تقریبا 650 پاکستانی روپے) وصول کرتی ہے جبکہ دودھ سے متعلق قواعد و ضوابط اور قیمت وغیرہ دونوں مائیں یا دونوں پارٹیاں خود طے کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ دودھ براہ راست خود بھی ڈیلیور کیا جا سکتا ہے یا پھر فریز کیا ہوا دودھ ڈاک کے ذریعے بھیجا جا سکتا ہے۔ ڈاک کے ذریعے ماں کے دودھ کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ کولڈ چین کو برقرار رکھا جائے لیکن کیا یہ سب کچھ انتہائی آسان ہے؟
دودھ کے معیار پر تنقید
تاہم انٹرنیٹ سے ماں کی دودھ کی خریدو فروخت پر شدید تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ سب سے سخت تنقید جرمنی میں ’ماؤں کے دودھ سے متعلق نیشنل کمیشن‘، خطرات کی تشخیص کے وفاقی جرمن ادارے( بی ایف آر) اور بچوں کی غذا سے متعلق جرمن سوسائٹی(ڈی جی کے جی) کی طرف سے کی گئی ہے۔ ان اداروں کا کہنا ہے کہ بغیر تجزیے اور کوالٹی کنٹرول کے کسی دوسری ماں کے دودھ کا استعمال خطرے سے خالی نہیں، ’’ماہرین اور ڈاکٹروں کے مطابق ڈونر ماؤں کے دودھ کے ذریعے بیکٹیریا، جراثیم یا وائرس کی ممکنہ ٹرانسمیشن کا خطرہ ہے۔‘‘
تاہم جرمنی میں ’مدر مِلک بینک‘ بھی قائم ہیں اور یہ مختلف ہسپتالوں سے منسلک ہیں۔ پوٹسڈام میں بیرگمان کلینک کے سربراہ ڈاکٹر مشائیل راڈکے ’مدر مِلک بینکوں‘ میں رکھے گئے ماؤں کے دودھ کے معیار سے متعلق کہتے ہیں کہ وہ دودھ عطیہ کرنے والی خواتین کے پہلے تمام ممکنہ (ہیپاٹائٹس، یرقان، ایچ آئی وی یا وائرل متعدی امراض کے) ٹیسٹ کرتے ہیں اور اس کے بعد ہی ان کا دودھ مدر مِلک بینک‘ میں رکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد ماں کے دودھ کو فریز کر دیا جاتا ہے اور حتمی طور پر کسی بچے کو پلانے سے پہلے ایک مرتبہ پھر دودھ کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے ’مدر مِلک بینکوں‘ کی تعداد میں اضافہ کیا جانا چاہیے نہ کہ آئن لائن خریدو فروخت کا کاروبار شروع کر دیا جائے۔

Read More »