Urdu Columns لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Urdu Columns لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بدھ، 10 ستمبر، 2014
دھرنے کی افادیت از سید طلعت حسین
سیاسی
یا جنگی لائحہ عمل وہی بہتر گردانا جاتا ہے جس میں مشکل حالات سے نکلنے کا بندو
بست موجود ہو ۔ عمران خان نے شروع دن سے ہی اپنے لیے وزیر اعظم کے استعفی کا جو
ہدف مقرر کیا تھا اس میں اس سے کم پر مان جانے کا موقع نہیں چھوڑا گیا۔ دھرنوں میں
افراد کی تعداد اس حد تک کم ہو گئی ہے کہ وہ کسی شام کے اخبار کے دفتر کا منظر پیش
کرتے ہیں ۔ ایڈیشن کے لیے سٹاف اسی وقت آتا ہے جب اخبار نکالنے کی ڈیڈ لائن قریب آتی
ہے ۔ اس سے پہلے یہ دفاتر سائیں سائیں کرتے ہیں ۔ شام کو بھی تعداد کچھ اتنی نہیں
ہوتی کہ اس کو دیکھ کر پارلیمنٹ میں بیٹھی تمام جماعتیں اور حکومت کے ایوان تھرتھر
کانپنے لگیں ۔ کیمرے ابھی بھی وہ چشم پوشی کر رہے ہیں جس کا کسی طور بھی ایک
پروفیشنل معیار پر دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ مگر پھر بھی سڑک پر ارد گرد کے علاقوں
سے آئے ہوئے کارکنان اتنے ہی ہوتے ہیں جتنے وہ اصل میں ہوتے ہیں ۔
خیال کی کی اڑان ، بیان اور کیمرے کی پرواز ان کو بڑھا چڑھا کر
بیان کرنے کے باوجود ان خالی جگہوں کو پُر نہیں کر سکتی جو روز روز واضح ہوتی چلی
جا رہی ہے ۔ لہذا سڑک کے ذریعے دباﺅ
پیدا کر کے اپنا مطالبہ منوانے کا وقت گزر گیا ۔ عمران خان ان حالات کو اگر نہ
سمجھیں تو ان کی مرضی ہے ۔ مگر کسی بڑی غلطی یا حادثے کے علاوہ سڑک پر سے احتجاج کر
کے وہ نہ اب کسی کو متاثر کر رہے ہیں اور نہ حصول منزل کی طرف ایک قدم بڑھا رہے
ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی حالات نے بھی ان کے احتجاج پر گہرے اثرات چھوڑنے شروع
کر دیئے ہیں ۔ سیلاب نے کنٹینر سے نکال کر سیالکوٹ کا دورہ کرنے پر مجبور کر دیا۔
ویسے سیلاب سے پہلے بھی اپنی دوسری ضروریات سے مغلوب ہو کر ان کو دن میں دس ، بارہ
گھنٹے کنٹینر چھوڑنا ہی پڑتا تھا۔
آنے والے دنوں میں بدلتے ہوئے حالات ان کو از خود کنٹینر سے دور رکھ سکتے ہیں ۔ اس جگہ پر ٹِکے رہنے کی سیاسی قیمت میں اضافہ ہوتا چالا جائے گا ۔ جو جماعتیں انتخابی عمل کا حصہ بن کر سیاست کرنا چاہتی ہیں وہ خود کو طویل عرصے کے لیے نظام سے دور نہیں رکھ سکتی ۔ پاکستان تحریک انصاف کے اندر سے عمران خان کے علاوہ تقریبا ہر کوئی یہی بات بار بار دہرا رہا ہے ۔ عمران خان ہر کسی کو غدار ، بزدل یا چیتے کی متضاد شکل کے جانوروں کی شکل سے پیش نہیں کر سکتے ۔ ان کو یہ علم ہونا چاہیے کہ اکثریت کی رائے زیادہ عرصہ تک موقوف نہیں کی جا سکتی ۔ نواز شریف کے خلاف مزاحمت کی دھن میں انہوں نے خود کو جماعت کی رائے کے خلاف کھڑا کر دیا ہے ۔
آنے والے دنوں میں بدلتے ہوئے حالات ان کو از خود کنٹینر سے دور رکھ سکتے ہیں ۔ اس جگہ پر ٹِکے رہنے کی سیاسی قیمت میں اضافہ ہوتا چالا جائے گا ۔ جو جماعتیں انتخابی عمل کا حصہ بن کر سیاست کرنا چاہتی ہیں وہ خود کو طویل عرصے کے لیے نظام سے دور نہیں رکھ سکتی ۔ پاکستان تحریک انصاف کے اندر سے عمران خان کے علاوہ تقریبا ہر کوئی یہی بات بار بار دہرا رہا ہے ۔ عمران خان ہر کسی کو غدار ، بزدل یا چیتے کی متضاد شکل کے جانوروں کی شکل سے پیش نہیں کر سکتے ۔ ان کو یہ علم ہونا چاہیے کہ اکثریت کی رائے زیادہ عرصہ تک موقوف نہیں کی جا سکتی ۔ نواز شریف کے خلاف مزاحمت کی دھن میں انہوں نے خود کو جماعت کی رائے کے خلاف کھڑا کر دیا ہے ۔
ابھی تک ان کے نعرے اور وعدے وہی ہیں جو چند ہفتے پہلے تھے ۔
مگر اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے سیاسی طور پر اپنی جماعت کے لیے
ماحول بری طرح خراب بھی کیا ہے ۔ پاکستان کے اندر بہترین کارکردگی پیش کرنے والی
سیاسی جماعتیں بھی مخالفین کے ساتھ ہاتھ ملانے پر مجبور ہو جاتی ہیں ۔ نظام ہی کچھ
ایسا ہے ۔ ہم معاشرتی اور نسلی طور پر بیسوﺅں
رنگ رکھتے ہیں ۔ یہاں پر چھوٹی بڑی درجنوں جماعتوں کا اپنے اپنے حلقے میں اہم
کردار ہے جو ایک ہی ہلے میں تبدیل یا تباہ نہیں کیا جاسکتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی
پیپلزپارٹی ہو یا نواز لیگ کی دو تہائی اکثریت، انتخابات کے نتیجے میں بننے والی
حکومتیں ہر بڑے اور چھوٹے فیصلے پر دوسری جماعتوں پر انحصار کرتی ہیں۔ عمران خان
نے کنٹینر میںمورچہ بند ہوکر جو پھول جھڑیاں چھوڑی ہیں انکی کی چنگاریاں ہر دامن
پر گری ہیں۔ کوئی جماعت اور اسکا لیڈرعمران خان کی زبان اور ہاتھ کے اشارے محفوظ
نہیں رہا۔
کوئی ایسا الزام باقی نہیں ہے جو انھوں نے خود سے دوسروں پر نہ لگایا ہو۔ دھمکی ، لاٹھی اور سبق سکھانے کی جو نئی سرکار کو انھوں نے کنٹینر پر کھڑے ہوکر ترتیب دیا ہے وہ پاکستان تحریک انصاف کے لئے ایک بہت بڑا درد سر بن چکا ہے۔ اگر آج نواز شریف اور شہباز شریف اور انکے قریبی دوست فضا میں تحلیل ہوجائیں تو بھی عمران خان کو پارلیمان میں بیٹھی ہوئی جماعتیں آسان راستہ فراہم نہیں کریں گی۔ بلوچستان میں قوم پرستوں اور سرداروں سے سینگ پھنسانے کے ساتھ ساتھ پشتون رہنماوں کی بدترین تضحیک پاکستان تحریک انصاف کے لئے مستقبل میں کسی ممکنہ سیاسی اتحاد کے لئے زہر قاتل سے کم نہیں۔
کوئی ایسا الزام باقی نہیں ہے جو انھوں نے خود سے دوسروں پر نہ لگایا ہو۔ دھمکی ، لاٹھی اور سبق سکھانے کی جو نئی سرکار کو انھوں نے کنٹینر پر کھڑے ہوکر ترتیب دیا ہے وہ پاکستان تحریک انصاف کے لئے ایک بہت بڑا درد سر بن چکا ہے۔ اگر آج نواز شریف اور شہباز شریف اور انکے قریبی دوست فضا میں تحلیل ہوجائیں تو بھی عمران خان کو پارلیمان میں بیٹھی ہوئی جماعتیں آسان راستہ فراہم نہیں کریں گی۔ بلوچستان میں قوم پرستوں اور سرداروں سے سینگ پھنسانے کے ساتھ ساتھ پشتون رہنماوں کی بدترین تضحیک پاکستان تحریک انصاف کے لئے مستقبل میں کسی ممکنہ سیاسی اتحاد کے لئے زہر قاتل سے کم نہیں۔
خیبر پختون خواہ میں مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے اوپر اپنی
جماعت کے نمائندگان کے ساتھ پتھروں کی بارش کرکے سیاسی راستے اگر مسدود نہیں کئے
تو محدود ضرور کر دئے ہیں۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کے ساتھ دست و گریبان ہیں اور
سندھی قوم پرستوں کو گھاس تک نہیں ڈالتے۔ کبھی ایم کیوایم پر برستے ہیں اور کبھی
ہاتھ آگے کردیتے ہیں۔ پنجاب میں نواز لیگ کے ساتھ لڑائی ہے اور پیپلزپارٹی کے ساتھ
سیاسی مقابلہ۔ اگر عمران خان نیا پاکستان بنانے کے بعد اور شادی کرنے سے پہلے کے
وقفے کے درمیان وزیراعظم بن گئے تو یہ ملک چلائیں گے کیسے؟
اتنی گالیاں نکانے کے بعد انکے ساتھ بیٹھ کر چائے کون پیے گا۔ دھرنے کا ہدف نواز شریف اس وقت دوبارہ سے حکومت کی باگ ڈور سنبھالتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔عمران خان انکو نکالنے پر مصر تو ہیںمگر سیاسی مشکلات میں گھرے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ حکومت کا نکما پن اور تبدیلی کے نعرے کی پکار ابھی بھی قائم ہے۔ مگر یہ دونوں عناصر عمران خان کو انکی بیان کردہ منزل کی طرف لیجانے کے لئے مناسب نہیں ہیں۔
اتنی گالیاں نکانے کے بعد انکے ساتھ بیٹھ کر چائے کون پیے گا۔ دھرنے کا ہدف نواز شریف اس وقت دوبارہ سے حکومت کی باگ ڈور سنبھالتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔عمران خان انکو نکالنے پر مصر تو ہیںمگر سیاسی مشکلات میں گھرے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ حکومت کا نکما پن اور تبدیلی کے نعرے کی پکار ابھی بھی قائم ہے۔ مگر یہ دونوں عناصر عمران خان کو انکی بیان کردہ منزل کی طرف لیجانے کے لئے مناسب نہیں ہیں۔
اس
تمام قصے میں ہماری اسٹیبلشمنٹ کا کیا کردار رہا ہے یہ موضوع اس وقت اٹھانا موزوں
نہیں ہے۔ اگرچہ حقائق چھپائے بھی نہیں چھپتے مگر انکو ڈھانپنے کے لئے جو گنجائش
چاہےے وہ اس وقت موجود نہیں ۔ اتناکافی ہے کہ اس تمام مسئلے کا یہ تمام زوایہ اس
راز کی طرح ہے جو سب کو معلوم ہونے کے باوجود رازداری کے تقاضے پورے کرتے ہوئے راز
ہی سمجھا جاتا ہے۔ اگلے دو تین ہفتوں میں دھرنوں کے پیچھے ہونے والی یہ کوشش عملاً
رائیگاں ہوکر ختم ہوجائے گی۔ جس سہارے کے ناطے اتنی لمبی چھلانگ لگائی گئی تھی وہ
گزرتی ہوئی ساعتوں کی نذر ہورہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو پس منظر میں کھیلے
جانے والے کھیل نے کتنا نقصان پہنچایا ہے اس کا اندازہ بھی ہوجائے گا۔
اس مشکل منظر نامے کے باوجود تحریک انصاف نے اس احتجاج سے بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے۔ اگر بات چیت کے درجن سے زائد دور کسی ایسے معاہدے کی صورت میں سامنے آجاتے ہیں جس سے لمبی چوڑی اور ضروری اصلاحات کا دروازہ کھل جاتا ہے تو اس کا سہرا احتجاج کے سر ہی باندھا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے لئے یہ سہرا بندی ضروری ہے۔ اس کے بغیر تحریک انصاف خود کو اس مشکل موڑپر سے پھسلے بغیر نہیں نکال سکتی۔معاہدے کے بعد عمران خان ملکی معاملات پر جزوقتی توجہ دینے کی بجائے کلی طور پر اپنی کوششیں صرف کرسکتے ہیں۔جہاں تک رہا معاملہ طاہر القادری کا تو انکو جب ٹیلی فون آئے گا وہ واپس چلے جائیں گے۔ دھرنا اپنی افادیت حاصل کرچکا ہے اس کو
مہذب انداز سے عزت بچا کر ختم کرنے کا انتظام ضروری ہوچکا ہے۔
اس مشکل منظر نامے کے باوجود تحریک انصاف نے اس احتجاج سے بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے۔ اگر بات چیت کے درجن سے زائد دور کسی ایسے معاہدے کی صورت میں سامنے آجاتے ہیں جس سے لمبی چوڑی اور ضروری اصلاحات کا دروازہ کھل جاتا ہے تو اس کا سہرا احتجاج کے سر ہی باندھا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے لئے یہ سہرا بندی ضروری ہے۔ اس کے بغیر تحریک انصاف خود کو اس مشکل موڑپر سے پھسلے بغیر نہیں نکال سکتی۔معاہدے کے بعد عمران خان ملکی معاملات پر جزوقتی توجہ دینے کی بجائے کلی طور پر اپنی کوششیں صرف کرسکتے ہیں۔جہاں تک رہا معاملہ طاہر القادری کا تو انکو جب ٹیلی فون آئے گا وہ واپس چلے جائیں گے۔ دھرنا اپنی افادیت حاصل کرچکا ہے اس کو
مہذب انداز سے عزت بچا کر ختم کرنے کا انتظام ضروری ہوچکا ہے۔
منگل، 26 اگست، 2014
اتوار، 24 اگست، 2014
جمعرات، 14 اگست، 2014
پیر، 11 اگست، 2014
تحریک انصاف کا احتجاج اور نواز لیگ کی صورت حال
دو ماہ
پہلے نواز لیگ کی حکومت شدید بحران کا شکار تھی ۔ جلد بازی اور گزشتہ تجربات سے نہ
سیکھنے کی ریت گلے پڑ چکی تھی ۔ فوج ناراض تھی ۔ ذرایع ابلاغ دھنائی کر رہے تھے ۔
ایک میڈیا گروپ سے تعلقات پالنے کا لائحہ عمل گلے کا پھندا بن چکا تھا ۔ لوڈ شیڈنگ
کے ستائے ہوئے عوام بڑے پرا جیکٹ پر اخراجات دیکھ کر سیخ پا ہو رہے تھے ۔ طالبان
کے ساتھ جنگ تھی نہ امن ۔ حریف اور حلیف دونوں سوچ رہے تھے کہ یہ حکومت اب گئی کہ
کب گئی ۔ پاکستان تحریک انصاف نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے حکومت مکائو مہم کا
فیصلہ کر لیا۔
دو ماہ
بعد نوازشریف حکومت اب بھی کئی مسائل سے دو چار ہے۔ انداز حکمرانی بھی وہی ہے اور
بہت سے معاملات میں انداز فکر بھی پرانا ہے۔ بہترین انداز حکومت کے ثمرات حقیقت کم
اور اشتہاری مہم زیادہ ہے۔ تحریک انصاف ، پاکستان عوامی تحریک ، پاکستان مسلم لیگ
ق ایک بڑے حملے کی تیاری مکمل کر چکے ہیں ۔ حکومت کے جانے کی افواہیںگردش کر رہی
ہیں ۔ مگر اس کے باوجود دو ماہ پہلے کی سی کیفیت نہیں ہے ۔
نواز
لیگ نے ساٹھ دنوں میں اپنے قلعے کو مضبوط کرنے میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے ۔ اس
کی چند ایک وجوہات ہیں۔ پہلی اور بڑی وجہ فوج کے ساتھ معاملات کو سدھارنے کی شعوری
کوشش ، آپریشن ضرب عضب نے راولپنڈی کے غضب کو کافی حد تک کم کر دیا ہے ۔ فوج کے
ساتھ چوہدری نثار علی خان اور شہباز شریف کی ملاقاتوں نے تعیناتیوں ، وسائل کی
فراہمی ، میڈیا میں کا فی زاویوں سے چلائی جانے والی تحریک اور جنرل پرویز مشرف کے
مستقبل جیسے بہت سے مسائل پر پیدا ہونے والی زہر آلودہ فضا کو صاف کیا ہے۔
گزشتہ
ہفتے ہونے والی قومی سلامتی کانفرنس کی تفصیلات مختلف ذرایع سے سامنے آ چکی ہے۔
آرٹیکل 245 پر اپوزیشن کے تحفظات کا جواب جنرل راحیل شریف نے خود دے کر اس تنازعے
کو کافی حد تک کم کرنے میں مدد دی ہے ۔ چودہ اگست کو وزیر اعظم اور فوج کے سربراہ
زیارت میں بانی پاکستان کی رہائشگاہ پر اکٹھے موجود ہوں گے ۔ یہ وہ دن ہے جب تحریک
انصاف حکومت کو گرانے کے لیے اسلام ٓباد میں احتجاجی دستے اکٹھی کر رہی ہوگی۔
طاقت
کے کھیل میں ایک تصویر و تردید شدہ جملے اور ان کے جاری کرنے کا وقت انتہائی اہم
ہوتا ہے ۔ نواز لیگ کے سر پر سیاسی چیلنج کے بادل یقینا گہرے ہو رہے ہیں مگر
فوج کے ساتھ سدھرتے ہوئے معاملات اس کے لیے کچھ تقویت کا باعث یقیناً ہوں
گے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ فوج حکومت کی ممکنہ یا متوقع بے وقوفیوں یا غلط
فیصلوں کے دفاع پر بھی مائل ہو گی؟ بد قسمتی سے نواز شریف حکومت کے بارے میں یہ
تصور بہت گہرا ہو چکا ہے کہ وہ مشکل وقت پڑنے پر سب کچھ مان لیتی ہے مگر حالات
موافق ہوتے ہی پرانے طور طریقوں واپس آ جاتے ہیں۔
حکومت
کی مشکلات میں کمی کی ایک اور وجہ تحریک انصاف کی پالیسیاں ہیں۔ انتخابات میں
دھاندلی ، ایک خاص خاندان کی حکمرانی اور ملک میں پھیلی ہوئی بے چینی پر عمران خان
کی تنقید نواز لیگ کے سیاسی مخالفین کو تحریک انصاف کی طرف مائل کرتی ہے۔ بہت سے
غیر جانب دار حلقے اس کی حمایت بھی کرتے تھے ۔ مگر اس کے بعد عمران خان نے اپنی
سیاست کا گیئر بدلا اور یک دم گردن توڑ رفتار پر گاڑی بھگا دی۔ انھوں نے یہ نہیں
دیکھا کہ ان کے ساتھ آواز سے آواز ملانے والی کتنی قوتیں ان کا کتنا ساتھ دے
سکتی ہیں یا دینا چاہتی ہیں۔
منصفانہ
انتخابات اور دھاندلی کی ایف آئی آر کو انھوں نے اپنی جانب سے طے کیے ہوئے اس
فیصلے میں تبدیل کر دیا کہ نواز شریف کی حکومت کو گرانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے
۔ شاید اس منزل کو پانے کے لیے ان کے ساتھ کئی جماعتیں کھڑی ہو جائیں ۔ اگر انھوں
نے تمام صوبائی اسمبلیوں کے خاتمے کوبھی اپنے ایجنڈے کا حصہ نہ بنایا ہوتا ’’ یہ
سب دھاندلی کا نتیجہ ہے‘ اس کو جانا ہو گا ‘‘ ۔ عمران خان کے ان دو جملوں نے سب کے
کان کھڑے کر دیے ، وہ جو ان کو تبدیلی کا ذریعہ بنا رہے تھے اب ان پر سیاسی فساد
کا الزام لگا رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں اس کا جارحانہ پن سب سے خطرناک نظر آ
رہا ہے۔
جماعت
اسلامی اپنے تمام تر سیاسی تدبر، سیاسی ضبط اور عمل کے باوجود اپنے لیے علیحدہ
راستہ سوچنے پر مجبور ہو گئی ہے ۔ سیاسی ثقافت اور اتحادیوں کے حقوق کو بالائے طاق
رکھتے ہوئے جس طرح عمران خان نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق پر دروازہ بند کیا ہے
، جماعت اسلامی اس کو بھی ہضم نہیں کر پائے گی ۔باوجود اس کے منصورہ سے جاری ہونے
والا بیان انتہائی دھیما ہے مگر بڑھتے ہوئے اندرونی دباؤ کو بھاپنے کے لیے جماعت
اسلامی کے صرف ایک دو عہدیداروں سے بات کرنا کافی ہے۔
دوسری
جماعتوں کو بھی یہ پیغام دینا کہ ان میں سے کوئی سیاسی مفاہمت کے لیے عمران خان کے
پاس نہ آئے۔ تحریک انصاف اکیلی اڑان کو مزید اکیلا بنا رہی ہے۔ طاہر القادری کے
جارحانہ اور شہادت کے حیرت انگیز بیانات اور عمران خان کے ساتھ نظریاتی اور عملی
اتحاد تمام مقتدر سیاسی جماعتوں کو تحریک انصاف سے کہیں دور لے گئے ہیں۔ ان کے
بیانات نے ہر کسی کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ قومی سطح پر کوئی ایسا بحران
پیدا ہو سکتا ہے جس سے یہ ملک عراق والی کیفیت میں چلا جائے ۔
تحریک
انصاف نے قومی اتفاق رائے کی ضرورت کو چھوڑ دیا ہے ۔ عمران خان یہ ورلڈ کپ
جیتنے کا سہرا اپنے سر کرنا چاہتے ہیں، وہ جیتنے کی آخری تقریر اپنے حوالوں سے
تحریر کرنا چاہتے ہیں۔ مگر سیاست کرکٹ نہیں ہے ۔ اس میں اپنے ساتھ کھیلنے والوں کو
عاق نہیں کیا جا سکتا ۔ پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت یا قیادت اتفاق رائے کے بغیر
بڑی تبدیلی نہیں لا سکتی ۔ پاکستان جیسے ملک میں انفرادی کامیابی کی گنجائش بہت کم
ہے۔
پاکستان
تحریک انصاف نے اس حقیقت کو نظر انداز کر کے نواز لیگ کے لیے حالات بہتر کرانے میں
مدد دی ہے ۔ اگر عمران خان تبدیلی کے نام پر خود کو مسلسل ایسے سیاسی احتجاجی کا
داعی بنائے رکھیں گے جس کے نتیجے میں ملک عدم استحکا م اور غیر یقینی بڑھتی چلی
جائے گی تو نواز لیگ کو کمزور نہیں بلکہ مستحکم بنائے گی ۔ فی الحال ان کا رویہ
ایسا ہی ہے۔
حکومت
گرائے بغیر نہ جانے کا فیصلہ تحریک انصاف کو اس نقطہ پر لے آیا ہے جہاں پر فوج کی
پس پردہ ثالثی کے علاوہ دو اور رستے باقی ہیں ۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے لیے
سیاسی شرمندگی یا اسلام آباد میں ایسا جھگڑا جو فوج کو انتظامی باگ ڈور سنبھالنے
پر مجبور کر دے ۔ یہ دونوں صورتیں تحریک انصاف کی سیاست کو نا قابل تلافی نقصان
پہنچائے گی ۔ مخالفین کو ڈبونے کے ساتھ ، خود کو ڈبونے کا بندوبست دانش مندانہ
سیاست کی مثال نہیں ہے ۔ مگر پھر دانش مندی کو حاصل کون کرنا چاہتا ہے یہاں پر ایک
طرف معاملہ ہر صورت میں وزیر اعظم رہنے کا ہے یا دوسری طرف ہر صورت وزیر اعظم بننے
کا ہے۔
پاکستانی معاشرے کی چودہ خرابیاں از جاوید چودھری
یہ
اوکاڑہ کے پسماندہ گاؤں کے غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں‘ غربت اور عسرت میں بچپن
گزارہ‘ وظیفے لے کر ابتدائی تعلیم پائی‘ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایف ایس سی کی‘
میڈیکل کالج میں داخلہ ہوا‘ ڈاکٹر بنے‘ دس بائی دس فٹ کے کمرے سے عملی زندگی کا
آغاز کیا‘ کمرے میں سیمنٹ کی بوریاں بھی ہوتی تھیں‘ کھاد کے تھیلے
بھی اور ان کی چارپائی بھی۔ کمرے میں لیٹے لیٹے کاروبار کا فیصلہ کیا‘ یہ تیس برس
تک مسلسل کام کرتے رہے‘ دن دیکھا نہ رات‘ دنیا کے تمام آرام‘ عیش اور آسائشیں اپنے
لیے حرام قرار دے دیں‘ زندگی میں کبھی سگریٹ پیا‘ شراب کو ہاتھ لگایا اور نہ ہی
کسی قسم کی بدکاری کی۔
اٹھارہ
اٹھارہ گھنٹے کام کیا‘ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور یہ ملک کے بڑے بزنس مینوں میں
شمار ہونے لگے‘ آج ان کی کمپنی میں تین ہزار لوگ ملازم ہیں‘ یہ دس کروڑ روپے ٹیکس
دیتے ہیں‘ یہ کسی بینک کے ڈیفالٹر نہیں ہیں‘ ویلفیئر کے
درجنوں منصوبے چلا رہے ہیں‘ دل کے کھلے ہیں‘ کسی ضرورت مند کو مایوس نہیں کرتے‘
دوستوں کے دوست ہیں‘ مذہبی بھی ہیں‘ درجنوں عمرے اور حج کر چکے ہیں‘ یہ خالص
پاکستانی ہیں‘ زندگی میں جو کمایا پاکستان میں رکھا اور دنیا کے کسی کونے میں کوئی
بینک اکاؤنٹ ہے اور نہ ہی زمین جائیداد۔
یہ
میرے لیے ہمیشہ سورس آف انسپائریشن رہے‘ میں اگر کبھی مایوس ہوا تو ڈاکٹر صاحب نے
میرا ہاتھ پکڑ لیا مگر میں نے انھیں کل پہلی بار مایوس دیکھا‘ ڈاکٹر صاحب نے کل
میرے سامنے دو اعلان کیے‘ ان کا پہلا اعلان تھا ’’میں اب کام نہیں
کروں گا‘ میں نے کمپنی کی گروتھ روک دی ہے‘ ہم اب کوئی نیا پراجیکٹ شروع نہیں کر
رہے‘ ہم بتدریج کام میں کمی لائیں گے‘ملازمین کم کریں گے اور مسائل پیدا کرنے والے
یونٹ بند کر دیں گے‘‘ ڈاکٹر صاحب نے دوسرا اعلان کیا ’’ میں ملک سے باہر گھرتلاش
کر رہا ہوں‘ میں خاندان کو ملک سے باہر شفٹ کر دوں گا‘ میں چھ ماہ ان کے ساتھ باہر
رہوں گا اور چھ ماہ ملک میں رہوں گا‘ میں کوشش کروں گا میرے بچے ملک سے باہر
ایڈجسٹ ہو جائیں‘ وہ وہاں کام کرلیں‘‘۔
میں نے
ان سے وجہ پوچھی تو انھوں نے جواب دیا ’’ پاکستان میں کام کرنے والوں کو عزت نہیں
دی جاتی‘ میں خاک سے اٹھا ہوں مگر آج تک کسی شخص نے میرے کندھے پر تھپکی نہیں دی‘
کسی نے میرے سر پر ہاتھ نہیں پھیرا‘ کسی نے مجھے مبارک باد نہیں دی‘ حکومت ہو‘
معاشرہ ہو یا پھر خاندان ہو‘ ہر شخص نے مجھے تنگ کرنا‘ مجھے پریشان کرنا اور مجھے
بے عزت کرنا اپنا فرض سمجھا‘ میں اب بے عزتی اور پریشانی سے تنگ آ گیا ہوں چنانچہ
میں نے یہ دونوں فیصلے کر لیے‘‘۔
ڈاکٹر
صاحب واحد مثال نہیں ہیں‘ کراچی سے ایمریٹس ائیر لائین کی روزانہ چھ فلائٹس دوبئی
جاتی ہیں‘ آپ دوسری ائیر لائینز کو بھی شامل کر لیں تو کل 12فلائٹس روزانہ کراچی سے یو اے ای روانہ ہوتی ہیں‘ گویا کراچی شہر سے ہر دو گھنٹے بعد ایک فلائٹ
متحدہ عرب امارات جاتی ہے‘ لاہور سے روزانہ 11 فلائٹس یو اے ای روانہ ہوتی ہیں اور
اسلام آباد سے روزانہ چھ۔ آپ اس کے مقابلے میں کراچی سے لاہور اور اسلام آباد آنے
والی فلائٹس کی تعداد دیکھ لیجیے‘ پی آئی اے اور ائیر بلیو کی کل 10 فلائٹس کراچی
سے لاہور اور اسلام آباد روانہ ہوتی ہیں گویا دوبئی جانے والوں کی تعداد ملک کے
اندر سفر کرنے والوں سے دوگنی ہے۔
اب
سوال یہ ہے‘ یہ کون لوگ ہیں‘ یہ یقینا ڈاکٹر صاحب جیسے لوگ ہیں‘ یہ اپنے بچے‘ اپنی
کمپنیاں اور اپنے دفاتر دوبئی شفٹ کر چکے ہیں‘ ہمارے ملک کے اسی فیصد کروڑ پتی ملک
سے باہر ٹھکانے بنا چکے ہیں‘ ہماری کابینہ کے نوے فیصد اور پارلیمنٹ اور صوبائی
اسمبلیوں کے پچانوے فیصد ارکان کی ملک سے باہر رہائش گاہیں‘ کاروبار‘ بچے اور
اکائونٹس موجود ہیں‘ یہ لوگ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ یہ اپنے ملک پر اعتماد کیوں
نہیں کر رہے؟
اس کی
وجہ ہمارے معاشرے کی 14 بڑی خرابیاں ہیں‘ ہم نے جس طرح 10 اگست کے کالم میں اپنے
معاشرے کی 14 خوبیوں کا ذکر کیا ہم آج اسی طرح ان 14 خرابیوں کا تذکرہ کریں گے جو
ڈاکٹر صاحب جیسے لوگوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہیں‘
ہماری پہلی خرابی کامیاب لوگوں سے نفرت ہے‘ دنیا کامیاب لوگوں کی عزت کرتی ہے‘ امریکی بڑے فخر سے خود کو بل گیٹس کی قوم کہتے ہیں لیکن ہم ملک میں ترقی کرنے والے ہر شخص کی توہین کرتےہیں ہم اسے تنگ کرتے ہیں آپ کے پاس دو لاکھ پائونڈ ہیں اور آپ اگر برطانیہ کو لکھ کر دے دیں آپ سال میں تین لوگوں کو نوکری دیں گے تو برطانیہ آپ کو خاندان سمیت امیگریشن دے دیتا ہے، آپ کو یہ سہولت پورا یورپ‘ امریکا اور کینیڈا بھی فراہم کرتا ہے جب کہ اس کے مقابلے میں پاکستان میں تین تین ہزار ملازمین کی کمپنیاں چلانے اور دس دس کروڑ روپے ٹیکس دینے والے لوگ ذلیل ہو رہے ہیں‘ یہ لوگ ملک سے کچھ نہیں مانگتے‘ یہ صرف عزت کے طلب گار ہیں مگر کوئی شخص انھیں عزت دینے کے لیے تیار نہیں۔
ہماری پہلی خرابی کامیاب لوگوں سے نفرت ہے‘ دنیا کامیاب لوگوں کی عزت کرتی ہے‘ امریکی بڑے فخر سے خود کو بل گیٹس کی قوم کہتے ہیں لیکن ہم ملک میں ترقی کرنے والے ہر شخص کی توہین کرتےہیں ہم اسے تنگ کرتے ہیں آپ کے پاس دو لاکھ پائونڈ ہیں اور آپ اگر برطانیہ کو لکھ کر دے دیں آپ سال میں تین لوگوں کو نوکری دیں گے تو برطانیہ آپ کو خاندان سمیت امیگریشن دے دیتا ہے، آپ کو یہ سہولت پورا یورپ‘ امریکا اور کینیڈا بھی فراہم کرتا ہے جب کہ اس کے مقابلے میں پاکستان میں تین تین ہزار ملازمین کی کمپنیاں چلانے اور دس دس کروڑ روپے ٹیکس دینے والے لوگ ذلیل ہو رہے ہیں‘ یہ لوگ ملک سے کچھ نہیں مانگتے‘ یہ صرف عزت کے طلب گار ہیں مگر کوئی شخص انھیں عزت دینے کے لیے تیار نہیں۔
ہماری
دوسری خرابی ملازمتی اپروچ ہے‘ ہم کاروبار کے بجائے ملازمت تلاش کرتے ہیں اور
ملازمت بھی ایسی جس میں تنخواہ اور کرپشن زیادہ ہو اور کام نہ کرنا پڑے جب کہ
قومیں بزنس مین اپروچ سے ترقی کرتی ہیں‘ امریکا‘ یورپ‘ چین اور بھارت کی مثالیں
ہمارے سامنے ہیں، امریکا کو امریکا اس کی 36 ہزار ملٹی نیشنل کمپنیوں نے
بنایا تھا۔
ہماری تیسری خرابی ہنر کی کمی ہے‘ ہم بے ہنر لوگ ہیں‘ ہم ہنر سیکھنا توہین سمجھتے ہیں‘ آپ کو پورے شہر میں اچھا پلمبر‘ اچھا باورچی‘ اچھا الیکٹریشن‘ اچھا ڈرائیور اور اچھا سیکیورٹی گارڈ نہیں ملتا‘ آپ پوری زندگی مالی تلاش کرتے رہتے ہیں مگر آپ کو مالی نہیں ملتا۔
ہماری چوتھی خرابی مذہبی انتہا پسندی ہے‘ ہم نے مذہب کو انتہا پسندی کا مرکز بنا دیا‘ ملک میں درجنوں فرقے ہیں اور ہر فرقہ دوسرے فرقے کے لوگوں کو کافر قرار دے رہا ہے اور اس اپروچ نے ملک کو دوزخ بنا دیا۔
ہماری تیسری خرابی ہنر کی کمی ہے‘ ہم بے ہنر لوگ ہیں‘ ہم ہنر سیکھنا توہین سمجھتے ہیں‘ آپ کو پورے شہر میں اچھا پلمبر‘ اچھا باورچی‘ اچھا الیکٹریشن‘ اچھا ڈرائیور اور اچھا سیکیورٹی گارڈ نہیں ملتا‘ آپ پوری زندگی مالی تلاش کرتے رہتے ہیں مگر آپ کو مالی نہیں ملتا۔
ہماری چوتھی خرابی مذہبی انتہا پسندی ہے‘ ہم نے مذہب کو انتہا پسندی کا مرکز بنا دیا‘ ملک میں درجنوں فرقے ہیں اور ہر فرقہ دوسرے فرقے کے لوگوں کو کافر قرار دے رہا ہے اور اس اپروچ نے ملک کو دوزخ بنا دیا۔
پانچویں
خرابی‘ ہم بے تربیت قوم ہیں‘ ہم نئی نسلوں کی سماجی تربیت نہیں کر رہے‘ ہمیں بولنے
کی تمیز ہے‘ بیٹھنے کی‘ اٹھنے کی اور نہ ہی دوسرے سے ڈیل کرنے کی‘ ہمیں کام کرنے
کی ٹریننگ بھی نہیں دی گئی‘ دکان کا ملازم دکان تباہ کر دیتا ہے اور فیکٹری کے
ملازمین فیکٹری بند کرا دیتے ہیں‘ آپ ڈرائیور کو گاڑی دے دیں تو وہ اپنے رزق کے
ذریعے کو برباد کردے گا‘ ہم جلسوں اور جلوس کے دوران وہ قومی املاک توڑ دیتے ہیں
جو ہمارے ٹیکس کے ذریعے بڑی مشکل سے بنی تھیں‘ دنیا کے جس ملک میں پولیس کی گاڑی
اور ایمبولینس کو آگ لگا دی جائے یا واپڈا کے دفتر پر حملہ ہو جائے اس ملک کی تباہی
میں کیا گنجائش رہ جاتی ہے۔
چھٹی
خرابی‘ ہماری آبادی ہمارے وسائل اور ضرورت سے چھ گنا زیادہ ہے‘ یہ ملک صرف تین
کروڑ لوگوں کا بوجھ برداشت کر سکتا ہے ‘ ہم انیس کروڑ ہیں لہٰذا ملک پندرہ سولہ
کروڑ اضافی لوگوں کے لیے خوراک‘ تعلیم‘ روزگار‘ بجلی اور انصاف کا بندوبست کہاں سے
کرے گا؟ آبادی کی وجہ سے چوری‘ چکاری‘ ڈاکہ زنی‘ اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوری
صنعت اور کاروبار بن چکے ہیں۔ ساتویں خرابی‘ ہم نااہل ہیں‘ ہمارے ملک میں ’’آن جاب
ٹریننگ‘‘ کا تصور تک نہیں‘ ہماری نوے فیصد آبادی ڈرائیونگ نہیں
جانتی‘ پچاس سال سے اوپر اسی فیصد پڑھے لکھے لوگ کمپیوٹر نہیں جانتے‘ ایس ایم ایس
نہیں کر سکتے اور ہمارے دفتر میں آج بھی سٹینو گرافرز اور کلرکوں کی جابز نکلتی
ہیں۔
آٹھویں
خرابی‘ ہم ہوم ورک یا تجزیہ نہیں کرتے‘ علامہ طاہر القادری اور عمران خان انقلاب
لانا چاہتے ہیں مگر کیا یہ لوگ انقلاب کے بعد ملک کو سنبھال سکیں گے؟ اس پر ان کا
کوئی ہوم ورک نہیں‘ 2020ء میں جب ہمارا پانی پچاس فیصد کم ہو جائے گا تو ہم کیا
کریں گے؟ ہم نے کوئی ہوم ورک نہیں کیا؟ ہم پہلے سڑک بناتے ہیں‘ پھر اسے انڈر پاس
کے لیے توڑتے ہیں اور پھر انڈر پاسز کو توڑ کر میٹرو بس چلا دیتے ہیں اور آخر میں
میٹرو ٹرین کے منصوبے شروع کر دیتے ہیں۔
نویں
خرابی‘ ہمارے ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے‘ ہم آج بھی آمریت کے خوف تلے زندگی
گزار رہے ہیں‘ ہماری حکومتیں اول دھاندلی کی پیداوار ہوتی ہیں اور یہ اگر ٹھیک ہوں
تو ہم اس حکومت کو چلنے نہیں دیتے۔ دسویں خرابی‘ ہم میں برداشت کی
کمی ہے‘ ہم دوسرے کا نقطہ نظر برداشت نہیں کرتے‘ ہم ہاتھ توڑ دیں گے‘ گردن اتار
دیں گے اور کھال کھینچ لیں گے سے کم نہیں سوچتے‘ ہم پوری دنیا کو جلا دینا چاہتے
ہیں۔
گیارہویں خرابی‘ ہم بری طرح لاقانونیت کا شکار ہیں‘ ملک میں قانون کوئی نہیں‘
آپ تگڑے ہیں تو آپ کو کوئی روکے گا نہیں اور آپ اگر کمزور ہیں تو آپ کو کوئی جانے
نہیں دے گا ‘ ہم قتل‘ اغواء ڈاکے اور زنا
بالجبر میں دنیا میں سب سے آگے ہیں۔
بارہویں
خرابی‘ ہمارا فیملی سسٹم ٹھیک نہیں‘ ہم جوائنٹ فیملی سسٹم اور سنگل پرسن سسٹم کے
درمیان لٹکے ہوئے ہیں‘ ہم آج تک دونوں نظاموں میں سے کسی ایک کا فیصلہ نہیں کر
سکے‘ پاکستان میں 60 فیصد مقدمات کی بنیاد خاندان ہوتا ہے۔ تیرہویں خرابی‘ ہم
سماجی نرگسیت کا شکار ہیں‘ ہم بدترین زندگی گزار رہے ہیں لیکن ہم خواب پوری دنیا
پر حکمرانی کے دیکھتے ہیں، دنیا میں کشکول لے کر پھرتے ہیں لیکن عزت کے طلب
گار بھی ہیں اور ہم خود کو اس قدر اہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے پوری دنیا
ہمارے خلاف سازشیں کر رہی ہے اور ہماری آخری چودھویں خرابی‘ ہم من حیث القوم سستی
کا شکار ہیں‘ ہم آج کا کام کبھی آج ختم نہیں کریں گے‘ ہم چلتے ہوئے بھی یورپ اور
امریکا کے شہریوں کی نسبت کم قدم اٹھاتے ہیں‘ امریکی شہری ایک منٹ میں اوسطاً پچاس
قدم اٹھاتا ہے جب کہ ہم زیادہ سے زیادہ 35 قدم لیتے ہیں‘ ہمارے طالب علم گیس اور
نقل کے بغیر امتحان پاس نہیں کر پاتے اور ہم آج کی نمازوں تک کو کل پر شفٹ کر دیتے
ہیں۔
ہم میں
14خوبیاں ہیں لیکن ہماری خوبیاں ہماری خامیوں کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں‘ ہم جب تک ان
خرابیوں کا پردہ چاک نہیں کریں گے‘ ہماری خوبیاں دنیا کے سامنے نہیں آئیں گی۔
اتوار، 10 اگست، 2014
ہفتہ، 9 اگست، 2014
پاکستانی معاشرے کی چودہ خوبیاں از جاوید چوہدھری
یہ ڈیلف
کی دوسری شادی تھی۔ وہ جوان ،خوبصورت‘ پڑھی لکھی اور مہذب تھی جب کہ اس کا خاوند گجرات
کا ان پڑھ اور ادھیڑ عمر تھا‘ محمد اکرم اور ڈیلف کی عمروں میں بیس سال کا فرق تھا‘
ڈیلف تیس برس کی دہلیز پر بیٹھی تھی اور اکرم صاحب پچاس کی لکیر عبور کر چکے تھے‘ یہ
دونوں ایمسٹرڈیم میں رہتے تھے‘ اکرم صاحب بیس سال کی عمر میں یورپ آئے‘ دھکے کھاتے
ہالینڈ پہنچے اور یہاں کے ہو کر رہ گئے‘ یہ مزدور تھے‘ پوری زندگی مزدوری میں گزار
دی‘ یہ ایک دن پھولوں کے فارم میں کام کر رہے تھے، فارم کا مالک ان کے پاس آیا اور
ان سے پوچھا ’’کیا تم پاکستانی ہو‘‘ اکرم صاحب نے ہاں میں سر ہلا دیا‘ مالک نے اس کے
بعد ان سے عجیب سوال کیا ’’ کیا تم ہالینڈ کی خوبصورت لڑکی سے شادی کر لو گے‘‘ اکرم
صاحب نے حیران ہو کر پوچھا ’’کیا مطلب‘‘ مالک نے جواب دیا ’’ میری سالی یونیورسٹی میں
پڑھاتی ہے‘ یہ کسی پاکستانی کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے‘ میں صرف تمہیں جانتا ہوں چنانچہ
میں نے تم سے پوچھ لیا‘‘۔
اکرم صاحب
رشتے کے اس عجیب و غریب پیغام پر حیران رہ گئے‘ مالک انھیں حیران دیکھ کر بولا ’’ تم
خاتون سے مل لو‘ اگر تمہیں پسند آئی تو تم اس سے شادی کر لینا ‘‘ اکرم صاحب مان گئے‘
ملاقات ہوئی‘ اکرم صاحب کو خاتون پسند آ گئی اور شادی ہو گئی‘ خاتون نے اکرم صاحب کی
زندگی کی سمت بدل دی‘ وہ فارم ہاؤس کے مزدور سے پھولوں کے بیوپاری بن گئے‘ میں
2005ء میں ایمسٹر ڈیم گیا‘ اکرم صاحب سے ملاقات ہوئی‘ وہ مجھے گھر لے گئے‘ ڈیلف سے
ملاقات ہوئی‘ ڈیلف نے بتایا ’’ یہ میری دوسری شادی ہے، میرا پہلا خاوند بھی پاکستانی
تھا‘ میں نے 20 سال کی عمر میں اس سے شادی کی‘ ہم دس سال اکٹھے رہے‘ وہ بیچارہ حادثے
میں ہلاک ہو گیا‘ میں نے اس کے بعد فیصلہ کیا میرا دوسرا خاوند بھی پاکستانی ہو گا‘‘۔
میں بہت
حیران ہوا‘ میں نے حیرت کا اظہار کیا تو ڈیلف نے عجیب وجہ بتائی‘ اس کا کہنا تھا
’’میں نے پاکستانیوں میں عجیب عادت دیکھی جو دوسری کسی کمیونٹی میں موجود نہیں‘ پاکستانی
کھل کر قہقہہ لگاتے ہیں‘ یہ سارا دن بیٹھے رہیں تو یہ سارا دن قہقہے لگاتے رہیں گے‘
میرا پہلا خاوند بھی اتنا ہی زندہ دل تھا اور میرا یہ خاوند بھی زندگی سے بھرپور قہقہے
لگاتا ہے‘‘ میں ڈیلف کی بات پر حیران رہ گیا اور میں نے اس کے بعد پاکستانیوں کو ڈیلف
کی نظروں سے دیکھنا شروع کر دیا‘ ڈیلف کا مشاہدہ درست تھا۔
ہم لوگ
واقعی کھل کر ہنسنے کے ماہر ہیں‘ ڈیلف سے ملاقات اور اس کا بتایا ہوا نقطہ میری اس
ریسرچ کی بنیاد بن گیا‘ میں نے ریسرچ کی اور مجھے پاکستانیوں میں 14 حیران کن خوبیاں
نظر آئیں‘ میں آج یہ خوبیاں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں‘ آپ بھی یقینا کنٹینروں میں
الجھے پھنسے اس ملک اور اس ملک کے 19 کروڑ مایوس لوگوں کی ان 14 خوبیوں پر حیران رہ
جائینگے‘ یہ خوبیاں آپ کو دوسری اقوام میں کم ملیں گی۔ پاکستانیوں کی پہلی خوبی جمہوریت
پسندی ہے‘ ہمارے لوگ جمہوریت سے محبت کرتے ہیں‘ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جس میں آمریت
کا دور زیادہ سے زیادہ دس سال ہوا ہے‘ جنرل خواہ ایوب خان ہو‘ یحییٰ خان‘ ضیاء الحق
یا پھر پرویز مشرف ہو اس کو بہر حال آٹھ دس برسوں میں اپنا دسترخوان لپیٹنا پڑجاتا
ہے اور وہ اقتدار سیاستدانوں کے حوالے کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے جب کہ دنیا کے دوسرے
ممالک میں جب بھی آمریت آئی‘ یہ تیس چالیس سال سے پہلے ختم نہیں ہوئی، آپ اٹلی سے لے
کر اسپین اور شام سے لے کر مصر‘ لیبیا‘ عراق اور تیونس کی مثالیں دیکھ لیں آپ کو پاکستان
ان سے مختلف لگے گا۔
دو‘ دنیا
میں 58 اسلامی ممالک ہیں‘ ان 58 اسلامی ممالک میں سے صرف چار ملکوں میں صحیح معنوں
میں جمہوریت ہے‘ ترکی‘ ملائیشیا‘ بنگلہ دیش اور پاکستان۔ ہمیں اپنی جمہوریت پر بیشمار
تحفظات ہیں لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت ہے پاکستان میں الیکشن بھی ہوتے ہیں اور عوام
جیسے تیسے سہی اپنی مرضی سے حکمران بھی منتخب کرتے ہیں‘ ملک میں ون پارٹی سسٹم ہے اور
نہ ہی ’’ کنٹرولڈ ڈیموکریسی‘‘۔ ہمارا ملک سیاسی لحاظ سے اس حد تک آزاد ہے کہ یہاں کوئی
بھی پارٹی کسی بھی وقت پورا ملک بند کر سکتی ہے، علامہ طاہر القادری انقلاب لانے کے
لیے کینیڈا سے تشریف لے آتے ہیں اور عمران خان آزادی مارچ کے ذریعے پورا ملک معطل کر
دیتے ہیں اور کوئی انھیں روک نہیں سکتا‘ دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اتنی آزادی ممکن
نہیں۔
تین‘ لوگ
سیاسی لحاظ سے سمجھ دار ہیں‘ میں اس سلسلے میں دو سیاسی جماعتوں کی مثال دوں گا‘ پاکستان
مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف‘ یہ دونوں نئی سیاسی جماعتیں ہیں‘ ن لیگ 6 اکتوبر
1993ء میں بنی اور پی ٹی آئی کے پاس 2002ء کی قومی اسمبلی میں صرف ایک سیٹ تھی لیکن
لوگوں نے ن لیگ کو دوبار ہیوی مینڈیٹ دیا‘ پی ٹی آئی بھی پنجابی پارٹی ہے لیکن اس پارٹی
نے نہ صرف خیبر پختونخواہ میں حکومت بنا لی بلکہ اس نے تین صوبوں اور قومی اسمبلی میں
بھاری نشستیں بھی حاصل کر لیں جب کہ ان کے مقابلے میں مقامی جماعتیں‘ قوم پرست پارٹیاں
اور مذہبی سیاسی جماعتیں الیکشن ہار جاتی ہیں، لوگ علامہ طاہر القادری کے لیے جان دے
دیتے ہیں لیکن یہ انھیں ووٹ نہیں دیتے‘ سندھی قوم پرست جماعتیں بھی پورا سندھ بند کرا
دیتی ہیں لیکن یہ ووٹ نہیں لے پاتیں‘ جماعت اسلامی ملک کا سب سے بڑا جلسہ کر لے گی
لیکن مینڈیٹ نہیں لے سکے گی اور طالبان ملک پر قبضہ کر سکتے ہیں مگر ووٹ نہیں لے سکتے‘
کیا یہ عوام کی سیاسی بلوغت کی نشانی نہیں۔
چار‘ پاکستان
کا بنیادی انفرا سٹرکچر‘ سڑکوں کا معیار‘ صفائی‘ مواصلاتی نظام اور سوک سینس سارک کے
دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت اچھی ہے‘ ہماری سڑکیں یورپ کا مقابلہ نہیں کر سکتیں لیکن
یہ معیار میں ہمسایہ ممالک سے بہت آگے ہیں‘پاکستان میں دنیا کا دوسرا بڑا نہری نظام
بھی ہے، ہم آج بھی ایک سو53 سال پرانی ریل کی پٹڑی پر ٹرین چلا رہے ہیں اور ہمارا گندے
سے گندا شخص بھی کھانا کھانے سے قبل ہاتھ ضرور دھوئے گا جب کہ سارک کے دیگر ممالک میں
یہ روایت موجود نہیں۔
پانچ‘ لوگ
پاکستان میں اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلاتے ہیں‘ ملک کی پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں
بیس فیصد طالبعلم انتہائی نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ کچی بستیوں تک میں پرائیویٹ
انگریزی اسکول قائم ہیں‘ یہ حقائق عوام کی تعلیم پسندی ثابت کرتے ہیں جب کہ تیسری دنیا
کے دیگر ممالک میں یہ رجحان موجود نہیں۔
چھ‘ ہمارے
ملک میں ایک شخص پورے خاندان کی ذمے داری اٹھا لیتا ہے‘ یہ اس ذمے داری کو مذہبی فریضہ
سمجھ کر نبھاتا ہے، آپ کو یہ احساس ذمے داری دنیا کے دیگر ممالک میں نظر نہیں آتا۔
سات‘ ہم لوگ مہمان نواز ہیں‘ ہم لوگ کسی مہمان کو چائے اور کھانے کے بغیر نہیں جانے
دیتے‘ ہم ادھار لے لیں گے مگر مہمان کو خاطر داری کے بغیر اٹھنے نہیں دینگے۔ آٹھ ‘
ہم میں حس مزاح ہے‘ ہم ہنسنا جانتے ہیں‘ لوگ یورپ اور امریکا کے تعلیمی اداروں میں
ہمارے طالبعلموں کو ٹولیوں میں بیٹھ کر ہنستے اور لوٹ پوٹ ہوتے دیکھ کر حیران ہوتے
ہیں ۔ نو‘ ہمارا میڈیا اور ہماری عدلیہ آزاد ہے‘ ہمارا میڈیا وہ کچھ دکھا دیتا ہے جس
کا دوسرے ملکوں میں تصور نہیں کیا جاتا‘ ہماری عدالتیں بھی انصاف فراہم کریں یا نہ
کریں لیکن یہ احکامات جاری کرنے میں مکمل آزاد ہیں‘ ہمارے جج کوئی بھی حکم جاری کر
سکتے ہیں اور کوئی ان کا احتساب نہیں کر سکتا‘ یہ آزادی دنیا کے کسی دوسرے ملک میں
موجود نہیں۔
دس‘ ہم
لوگ صدقات اور خیرات میں دنیا میں پانچویں نمبر پر ہیں‘ ہم میں سے 98 فیصد لوگ صدقہ
کرتے ہیں‘ ہم خیرات بھی دیتے ہیں، ہمارے دروازوں سے ضرورت مند خالی ہاتھ واپس نہیں
جاتے۔ گیارہ‘ ہم میں ’’لوک دانش‘‘ موجود ہے‘ آپ چٹے ان پڑھ لوگوں سے گفتگو کریں‘ آپ
کو ان کی گفتگو میں محاورے بھی ملیں گے‘ ضرب المثل بھی‘ قصے بھی‘ واقعات بھی اور زندگی
کے سبق بھی‘ ہمارے لوگوں کے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے جب کہ دنیا کے دیگر علاقوں
کے لوگ کہنے کے معاملے میں بانجھ واقع ہوئے ہیں۔ یہ دو تین فقرے بولنے کے بعد خاموش
ہو جاتے ہیں۔ بارہ‘ ہمارے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں‘ یہ نہ صرف برائیوں اور خرابیوں سے
واقف ہیں بلکہ یہ ان کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں‘ آپ کسی شخص کے پاس بیٹھ جائیں وہ
’’ہم لوگ‘‘ کے فقروں سے گفتگو شروع کرے گا اور پھر پورے معاشرے کی خرابیاں بیان کر
دیگا‘ میں نے یہ معاشرتی اعلیٰ ظرفی اور اعتراف جرم کسی دوسری قوم میں نہیں دیکھا‘
لوگ یہ معاشرتی برائیاں دور بھی کرنا چاہتے ہیں شاید یہی وجہ ہے ہمارے لوگ ہر قسم کے
احتجاج‘ مارچز‘ جلسے‘ جلوس اور ریلیوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔
تیرہ‘ ہم
لوگ جی جان سے دوسروں کی مدد کرتے ہیں‘ آپ کسی جگہ کھڑے ہو جائیں اور کسی گزرنے والے
سے راستہ پوچھ لیں‘ وہ باقاعدہ رک کر نہ صرف آپ کو راستہ بتائے گا بلکہ وہ آپ کے ساتھ
چل پڑیگا‘ لوگ دوسرے لوگوں کو راستہ بھی دیتے ہیں‘ خواتین اور بزرگوں کے لیے جگہ بھی
خالی کر دیتے ہیں اور راستوں میں پانی اور دودھ کی سبیلیں بھی لگاتے ہیں‘ یورپ میں
لوگ دوسروں سے صرف عادتاً پوچھتے ہیں ’’ میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں‘‘ جب کہ ہمارے
ملک میں لوگ حقیقتاً دوسروں کی مدد کرتے ہیں، یہ ایکسیڈنٹ کی صورت میں زخمیوں کو اسپتال
چھوڑ کر آتے ہیں‘ آگ لگنے کے بعد پورا محلہ مل کر آگ بجھاتا ہے اور زلزلے اور سیلابوں
کے بعد پورے ملک سے امدادی قافلے چل پڑتے ہیں اور چودہ‘ پاکستان 19 کروڑ لوگوں کی مارکیٹ
ہے‘ یہ دنیا کی ساتویں بڑی کنزیومر مارکیٹ ہے‘ لوگوں کو یہاں سوئی سے لے کر جہاز تک
درکار ہیں۔
پاکستان
کے بارے میں کہا جاتا ہے‘ آپ یہاں زہر بھی بیچنا چاہیں تو وہ بک جائے گا‘ ہم زرعی ملک
ہونے کے باوجود سبزی بازار سے خریدتے ہیں‘ گھر میں لان موجود ہوگا لیکن ہم اس سے آلو‘
پیاز اور لیموں حاصل کرنا توہین سمجھتے ہیں چنانچہ ہم انیسں کروڑ لوگ کنزیومر ہیں‘
دنیا میں کسی جگہ اتنی بڑی مارکیٹ موجود نہیں چنانچہ پاکستان میں صنعت‘ کاروبار اور
تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں‘ حکومت بس کاروباری ماحول پیدا کر دے اور اس کے بعد
ملک کی معیشت کو آسمان سے باتیں کرتا دیکھے۔
یہ پاکستانی
معاشرے کے 14 خوبصورت رنگ ہیں‘ ہم شاندار لوگ ہیں بس ہمیں اپنی خوبیاں نظر نہیں آتیں‘
ہم نے جس دن ڈیلف کی طرح اپنی خوبیاں پا لیں‘ ہم نے اپنے رنگ دیکھ لیے‘ ہم اس دن ترقی
کے راستے پر آ جائیں گے‘ ہم اس دن پاک سرزمین شاد باد بن جائیں گے‘ ہم اس دن پاکستانی
ہو جائیں گے۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)


















