سید طلعت حسین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سید طلعت حسین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 10 ستمبر، 2014

دھرنے کی افادیت از سید طلعت حسین

سیاسی یا جنگی لائحہ عمل وہی بہتر گردانا جاتا ہے جس میں مشکل حالات سے نکلنے کا بندو بست موجود ہو ۔ عمران خان نے شروع دن سے ہی اپنے لیے وزیر اعظم کے استعفی کا جو ہدف مقرر کیا تھا اس میں اس سے کم پر مان جانے کا موقع نہیں چھوڑا گیا۔ دھرنوں میں افراد کی تعداد اس حد تک کم ہو گئی ہے کہ وہ کسی شام کے اخبار کے دفتر کا منظر پیش کرتے ہیں ۔ ایڈیشن کے لیے سٹاف اسی وقت آتا ہے جب اخبار نکالنے کی ڈیڈ لائن قریب آتی ہے ۔ اس سے پہلے یہ دفاتر سائیں سائیں کرتے ہیں ۔ شام کو بھی تعداد کچھ اتنی نہیں ہوتی کہ اس کو دیکھ کر پارلیمنٹ میں بیٹھی تمام جماعتیں اور حکومت کے ایوان تھرتھر کانپنے لگیں ۔ کیمرے ابھی بھی وہ چشم پوشی کر رہے ہیں جس کا کسی طور بھی ایک پروفیشنل معیار پر دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ مگر پھر بھی سڑک پر ارد گرد کے علاقوں سے آئے ہوئے کارکنان اتنے ہی ہوتے ہیں جتنے وہ اصل میں ہوتے ہیں ۔
خیال کی کی اڑان ، بیان اور کیمرے کی پرواز ان کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کے باوجود ان خالی جگہوں کو پُر نہیں کر سکتی جو روز روز واضح ہوتی چلی جا رہی ہے ۔ لہذا سڑک کے ذریعے دبا پیدا کر کے اپنا مطالبہ منوانے کا وقت گزر گیا ۔ عمران خان ان حالات کو اگر نہ سمجھیں تو ان کی مرضی ہے ۔ مگر کسی بڑی غلطی یا حادثے کے علاوہ سڑک پر سے احتجاج کر کے وہ نہ اب کسی کو متاثر کر رہے ہیں اور نہ حصول منزل کی طرف ایک قدم بڑھا رہے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی حالات نے بھی ان کے احتجاج پر گہرے اثرات چھوڑنے شروع کر دیئے ہیں ۔ سیلاب نے کنٹینر سے نکال کر سیالکوٹ کا دورہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ ویسے سیلاب سے پہلے بھی اپنی دوسری ضروریات سے مغلوب ہو کر ان کو دن میں دس ، بارہ گھنٹے کنٹینر چھوڑنا ہی پڑتا تھا۔
آنے والے دنوں میں بدلتے ہوئے حالات ان کو از خود کنٹینر سے دور رکھ سکتے ہیں ۔ اس جگہ پر ٹِکے رہنے کی سیاسی قیمت میں اضافہ ہوتا چالا جائے گا ۔ جو جماعتیں انتخابی عمل کا حصہ بن کر سیاست کرنا چاہتی ہیں وہ خود کو طویل عرصے کے لیے نظام سے دور نہیں رکھ سکتی ۔ پاکستان تحریک انصاف کے اندر سے عمران خان کے علاوہ تقریبا ہر کوئی یہی بات بار بار دہرا رہا ہے ۔ عمران خان ہر کسی کو غدار ، بزدل یا چیتے کی متضاد شکل کے جانوروں کی شکل سے پیش نہیں کر سکتے ۔ ان کو یہ علم ہونا چاہیے کہ اکثریت کی رائے زیادہ عرصہ تک موقوف نہیں کی جا سکتی ۔ نواز شریف کے خلاف مزاحمت کی دھن میں انہوں نے خود کو جماعت کی رائے کے خلاف کھڑا کر دیا ہے ۔
ابھی تک ان کے نعرے اور وعدے وہی ہیں جو چند ہفتے پہلے تھے ۔ مگر اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے سیاسی طور پر اپنی جماعت کے لیے ماحول بری طرح خراب بھی کیا ہے ۔ پاکستان کے اندر بہترین کارکردگی پیش کرنے والی سیاسی جماعتیں بھی مخالفین کے ساتھ ہاتھ ملانے پر مجبور ہو جاتی ہیں ۔ نظام ہی کچھ ایسا ہے ۔ ہم معاشرتی اور نسلی طور پر بیسوں رنگ رکھتے ہیں ۔ یہاں پر چھوٹی بڑی درجنوں جماعتوں کا اپنے اپنے حلقے میں اہم کردار ہے جو ایک ہی ہلے میں تبدیل یا تباہ نہیں کیا جاسکتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلزپارٹی ہو یا نواز لیگ کی دو تہائی اکثریت، انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومتیں ہر بڑے اور چھوٹے فیصلے پر دوسری جماعتوں پر انحصار کرتی ہیں۔ عمران خان نے کنٹینر میںمورچہ بند ہوکر جو پھول جھڑیاں چھوڑی ہیں انکی کی چنگاریاں ہر دامن پر گری ہیں۔ کوئی جماعت اور اسکا لیڈرعمران خان کی زبان اور ہاتھ کے اشارے محفوظ نہیں رہا۔
کوئی ایسا الزام باقی نہیں ہے جو انھوں نے خود سے دوسروں پر نہ لگایا ہو۔ دھمکی ، لاٹھی اور سبق سکھانے کی جو نئی سرکار کو انھوں نے کنٹینر پر کھڑے ہوکر ترتیب دیا ہے وہ پاکستان تحریک انصاف کے لئے ایک بہت بڑا درد سر بن چکا ہے۔ اگر آج نواز شریف اور شہباز شریف اور انکے قریبی دوست فضا میں تحلیل ہوجائیں تو بھی عمران خان کو پارلیمان میں بیٹھی ہوئی جماعتیں آسان راستہ فراہم نہیں کریں گی۔ بلوچستان میں قوم پرستوں اور سرداروں سے سینگ پھنسانے کے ساتھ ساتھ پشتون رہنماوں کی بدترین تضحیک پاکستان تحریک انصاف کے لئے مستقبل میں کسی ممکنہ سیاسی اتحاد کے لئے زہر قاتل سے کم نہیں۔
خیبر پختون خواہ میں مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے اوپر اپنی جماعت کے نمائندگان کے ساتھ پتھروں کی بارش کرکے سیاسی راستے اگر مسدود نہیں کئے تو محدود ضرور کر دئے ہیں۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کے ساتھ دست و گریبان ہیں اور سندھی قوم پرستوں کو گھاس تک نہیں ڈالتے۔ کبھی ایم کیوایم پر برستے ہیں اور کبھی ہاتھ آگے کردیتے ہیں۔ پنجاب میں نواز لیگ کے ساتھ لڑائی ہے اور پیپلزپارٹی کے ساتھ سیاسی مقابلہ۔ اگر عمران خان نیا پاکستان بنانے کے بعد اور شادی کرنے سے پہلے کے وقفے کے درمیان وزیراعظم بن گئے تو یہ ملک چلائیں گے کیسے؟
اتنی گالیاں نکانے کے بعد انکے ساتھ بیٹھ کر چائے کون پیے گا۔ دھرنے کا ہدف نواز شریف اس وقت دوبارہ سے حکومت کی باگ ڈور سنبھالتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔عمران خان انکو نکالنے پر مصر تو ہیںمگر سیاسی مشکلات میں گھرے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ حکومت کا نکما پن اور تبدیلی کے نعرے کی پکار ابھی بھی قائم ہے۔ مگر یہ دونوں عناصر عمران خان کو انکی بیان کردہ منزل کی طرف لیجانے کے لئے مناسب نہیں ہیں۔
اس تمام قصے میں ہماری اسٹیبلشمنٹ کا کیا کردار رہا ہے یہ موضوع اس وقت اٹھانا موزوں نہیں ہے۔ اگرچہ حقائق چھپائے بھی نہیں چھپتے مگر انکو ڈھانپنے کے لئے جو گنجائش چاہےے وہ اس وقت موجود نہیں ۔ اتناکافی ہے کہ اس تمام مسئلے کا یہ تمام زوایہ اس راز کی طرح ہے جو سب کو معلوم ہونے کے باوجود رازداری کے تقاضے پورے کرتے ہوئے راز ہی سمجھا جاتا ہے۔ اگلے دو تین ہفتوں میں دھرنوں کے پیچھے ہونے والی یہ کوشش عملاً رائیگاں ہوکر ختم ہوجائے گی۔ جس سہارے کے ناطے اتنی لمبی چھلانگ لگائی گئی تھی وہ گزرتی ہوئی ساعتوں کی نذر ہورہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو پس منظر میں کھیلے جانے والے کھیل نے کتنا نقصان پہنچایا ہے اس کا اندازہ بھی ہوجائے گا۔
اس مشکل منظر نامے کے باوجود تحریک انصاف نے اس احتجاج سے بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے۔ اگر بات چیت کے درجن سے زائد دور کسی ایسے معاہدے کی صورت میں سامنے آجاتے ہیں جس سے لمبی چوڑی اور ضروری اصلاحات کا دروازہ کھل جاتا ہے تو اس کا سہرا احتجاج کے سر ہی باندھا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے لئے یہ سہرا بندی ضروری ہے۔ اس کے بغیر تحریک انصاف خود کو اس مشکل موڑپر سے پھسلے بغیر نہیں نکال سکتی۔معاہدے کے بعد عمران خان ملکی معاملات پر جزوقتی توجہ دینے کی بجائے کلی طور پر اپنی کوششیں صرف کرسکتے ہیں۔جہاں تک رہا معاملہ طاہر القادری کا تو انکو جب ٹیلی فون آئے گا وہ واپس چلے جائیں گے۔ دھرنا اپنی افادیت حاصل کرچکا ہے اس کو
مہذب انداز سے عزت بچا کر ختم کرنے کا انتظام ضروری ہوچکا ہے۔
Read More »

پیر، 11 اگست، 2014

تحریک انصاف کا احتجاج اور نواز لیگ کی صورت حال

دو ماہ پہلے نواز لیگ کی حکومت شدید بحران کا شکار تھی ۔ جلد بازی اور گزشتہ تجربات سے نہ سیکھنے کی ریت گلے پڑ چکی تھی ۔ فوج ناراض تھی ۔ ذرایع ابلاغ دھنائی کر رہے تھے ۔ ایک میڈیا گروپ سے تعلقات پالنے کا لائحہ عمل گلے کا پھندا بن چکا تھا ۔ لوڈ شیڈنگ کے ستائے ہوئے عوام بڑے پرا جیکٹ پر اخراجات دیکھ کر سیخ پا ہو رہے تھے ۔ طالبان کے ساتھ جنگ تھی نہ امن ۔ حریف اور حلیف دونوں سوچ رہے تھے کہ یہ حکومت اب گئی کہ کب گئی ۔ پاکستان تحریک انصاف نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے حکومت مکائو مہم کا فیصلہ کر لیا۔
دو ماہ بعد نوازشریف حکومت اب بھی کئی مسائل سے دو چار ہے۔ انداز حکمرانی بھی وہی ہے اور بہت سے معاملات میں انداز فکر بھی پرانا ہے۔ بہترین انداز حکومت کے ثمرات حقیقت کم اور اشتہاری مہم زیادہ ہے۔ تحریک انصاف ، پاکستان عوامی تحریک ، پاکستان مسلم لیگ ق ایک بڑے حملے کی تیاری مکمل کر چکے ہیں ۔ حکومت کے جانے کی افواہیںگردش کر رہی ہیں ۔ مگر اس کے باوجود دو ماہ پہلے کی سی کیفیت نہیں ہے ۔
نواز لیگ نے ساٹھ دنوں میں اپنے قلعے کو مضبوط کرنے میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے ۔ اس کی چند ایک وجوہات ہیں۔ پہلی اور بڑی وجہ فوج کے ساتھ معاملات کو سدھارنے کی شعوری کوشش ، آپریشن ضرب عضب نے راولپنڈی کے غضب کو کافی حد تک کم کر دیا ہے ۔ فوج کے ساتھ چوہدری نثار علی خان اور شہباز شریف کی ملاقاتوں نے تعیناتیوں ، وسائل کی فراہمی ، میڈیا میں کا فی زاویوں سے چلائی جانے والی تحریک اور جنرل پرویز مشرف کے مستقبل جیسے بہت سے مسائل پر پیدا ہونے والی زہر آلودہ فضا کو صاف کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے ہونے والی قومی سلامتی کانفرنس کی تفصیلات مختلف ذرایع سے سامنے آ چکی ہے۔ آرٹیکل 245 پر اپوزیشن کے تحفظات کا جواب جنرل راحیل شریف نے خود دے کر اس تنازعے کو کافی حد تک کم کرنے میں مدد دی ہے ۔ چودہ اگست کو وزیر اعظم اور فوج کے سربراہ زیارت میں بانی پاکستان کی رہائشگاہ پر اکٹھے موجود ہوں گے ۔ یہ وہ دن ہے جب تحریک انصاف حکومت کو گرانے کے لیے اسلام ٓباد میں احتجاجی دستے اکٹھی کر رہی ہوگی۔
طاقت کے کھیل میں ایک تصویر و تردید شدہ جملے اور ان کے جاری کرنے کا وقت انتہائی اہم ہوتا ہے ۔ نواز لیگ کے سر پر سیاسی چیلنج کے بادل یقینا گہرے ہو رہے ہیں مگر فوج  کے ساتھ سدھرتے ہوئے معاملات اس کے لیے کچھ تقویت کا باعث یقیناً ہوں گے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ فوج حکومت کی ممکنہ یا متوقع بے وقوفیوں یا غلط فیصلوں کے دفاع پر بھی مائل ہو گی؟ بد قسمتی سے نواز شریف حکومت کے بارے میں یہ تصور بہت گہرا ہو چکا ہے کہ وہ مشکل وقت پڑنے پر سب کچھ مان لیتی ہے مگر حالات موافق ہوتے ہی پرانے طور طریقوں واپس آ جاتے ہیں۔
حکومت کی مشکلات میں کمی کی ایک اور وجہ تحریک انصاف کی پالیسیاں ہیں۔ انتخابات میں دھاندلی ، ایک خاص خاندان کی حکمرانی اور ملک میں پھیلی ہوئی بے چینی پر عمران خان کی تنقید نواز لیگ کے سیاسی مخالفین کو تحریک انصاف کی طرف مائل کرتی ہے۔ بہت سے غیر جانب دار حلقے اس کی حمایت بھی کرتے تھے ۔ مگر اس کے بعد عمران خان نے اپنی سیاست کا گیئر بدلا اور یک دم گردن توڑ رفتار پر گاڑی بھگا دی۔ انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کے ساتھ آواز سے آواز ملانے والی کتنی قوتیں ان کا کتنا ساتھ دے سکتی ہیں یا دینا چاہتی ہیں۔
منصفانہ انتخابات اور دھاندلی کی ایف آئی آر کو انھوں نے اپنی جانب سے طے کیے ہوئے اس فیصلے میں تبدیل کر دیا کہ نواز شریف کی حکومت کو گرانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ شاید اس منزل کو پانے کے لیے ان کے ساتھ کئی جماعتیں کھڑی ہو جائیں ۔ اگر انھوں نے تمام صوبائی اسمبلیوں کے خاتمے کوبھی اپنے ایجنڈے کا حصہ نہ بنایا ہوتا ’’ یہ سب دھاندلی کا نتیجہ ہے‘ اس کو جانا ہو گا ‘‘ ۔ عمران خان کے ان دو جملوں نے سب کے کان کھڑے کر دیے ، وہ جو ان کو تبدیلی کا ذریعہ بنا رہے تھے اب ان پر سیاسی فساد کا الزام لگا رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں اس کا جارحانہ پن سب سے خطرناک نظر آ رہا ہے۔
جماعت اسلامی اپنے تمام تر سیاسی تدبر، سیاسی ضبط اور عمل کے باوجود اپنے لیے علیحدہ راستہ سوچنے پر مجبور ہو گئی ہے ۔ سیاسی ثقافت اور اتحادیوں کے حقوق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جس طرح عمران خان نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق پر دروازہ بند کیا ہے ، جماعت اسلامی اس کو بھی ہضم نہیں کر پائے گی ۔باوجود اس کے منصورہ سے جاری ہونے والا بیان انتہائی دھیما ہے مگر بڑھتے ہوئے اندرونی دباؤ کو بھاپنے کے لیے جماعت اسلامی کے صرف ایک دو عہدیداروں سے بات کرنا کافی ہے۔
دوسری جماعتوں کو بھی یہ پیغام دینا کہ ان میں سے کوئی سیاسی مفاہمت کے لیے عمران خان کے پاس نہ آئے۔ تحریک انصاف اکیلی اڑان کو مزید اکیلا بنا رہی ہے۔ طاہر القادری کے جارحانہ اور شہادت کے حیرت انگیز بیانات اور عمران خان کے ساتھ نظریاتی اور عملی اتحاد تمام مقتدر سیاسی جماعتوں کو تحریک انصاف سے کہیں دور لے گئے ہیں۔ ان کے بیانات نے ہر کسی کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ قومی سطح پر کوئی ایسا بحران پیدا ہو سکتا ہے جس سے یہ ملک عراق والی کیفیت میں چلا جائے ۔
تحریک انصاف نے قومی اتفاق رائے کی ضرورت کو چھوڑ دیا ہے ۔ عمران خان  یہ ورلڈ کپ جیتنے کا سہرا اپنے سر کرنا چاہتے ہیں، وہ جیتنے کی آخری تقریر اپنے حوالوں سے تحریر کرنا چاہتے ہیں۔ مگر سیاست کرکٹ نہیں ہے ۔ اس میں اپنے ساتھ کھیلنے والوں کو عاق نہیں کیا جا سکتا ۔ پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت یا قیادت اتفاق رائے کے بغیر بڑی تبدیلی نہیں لا سکتی ۔ پاکستان جیسے ملک میں انفرادی کامیابی کی گنجائش بہت کم ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے اس حقیقت کو نظر انداز کر کے نواز لیگ کے لیے حالات بہتر کرانے میں مدد دی ہے ۔ اگر عمران خان تبدیلی کے نام پر خود کو مسلسل ایسے سیاسی احتجاجی کا داعی بنائے رکھیں گے جس کے نتیجے میں ملک عدم استحکا م اور غیر یقینی بڑھتی چلی جائے گی تو نواز لیگ کو کمزور نہیں بلکہ مستحکم بنائے گی ۔ فی الحال ان کا رویہ ایسا ہی ہے۔
حکومت گرائے بغیر نہ جانے کا فیصلہ تحریک انصاف کو اس نقطہ پر لے آیا ہے جہاں پر فوج کی پس پردہ ثالثی کے علاوہ دو اور رستے باقی ہیں ۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے لیے سیاسی شرمندگی یا اسلام آباد میں ایسا جھگڑا جو فوج کو انتظامی باگ ڈور سنبھالنے پر مجبور کر دے ۔ یہ دونوں صورتیں تحریک انصاف کی سیاست کو نا قابل تلافی نقصان پہنچائے گی ۔ مخالفین کو ڈبونے کے ساتھ ، خود کو ڈبونے کا بندوبست دانش مندانہ سیاست کی مثال نہیں ہے ۔ مگر پھر دانش مندی کو حاصل کون کرنا چاہتا ہے یہاں پر ایک طرف معاملہ ہر صورت میں وزیر اعظم رہنے کا ہے یا دوسری طرف ہر صورت وزیر اعظم بننے کا ہے۔


Read More »

جمعرات، 10 جولائی، 2014

تحر یک انصاف کے جلسے کا مسئلہ - سید طلعت حسین


تحر یک انصاف کے جلسے کا مسئلہ

سید طلعت حسین

سیاسی داﺅ پیچ ،حقائق اور مفروضوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ بسا اوقات حقائق تبدیل ہوجاتے ہیں مفروضوں کی بنیا دیں بدل جاتی ہیں۔ جو لائحہ عمل ان تبدیلیوں سے لاتعلق رہتا ہے وہ طاقت کے کھیل کی بساط پرمات کھاجاتاہے۔ پاکستان تحریک انصاف سیاسی طور پر ایک دوراہے پر آن کھڑی ہوئی ہے۔عمران خان کی مسلسل احتجاجی پالیسی نے تحریک انصاف کے لئے وہ راستے آہستہ آہستہ بند کرنے شروع کردیئے ہیں جن کو کھلا رکھنا سیاسی دانش مندی اور وقت کی ضرورت اکثر تقاضہ کرتی ہے۔ کل کی پارٹی میٹنگ سے کوئی خاص خبر سامنے نہیں آئی۔اتنا ضرور پتہ چلا کہ جماعت میں 14اگست کے جلسے کے حوالے سے مختلف آراءپائی جاتی ہیں۔اس کے حق اور مخالفت میں بولنے والے بہرحال اس پر اتفاق کرتے ہیں کہ انہیں احتجاج کے حتمی اہداف کے بارے میں کوئی خاص علم نہیں۔

حکومت پر دباﺅ ڈال کر مستقبل کے انتخابی عمل کے لئے اصطلا حات تو کروائی جاسکتی ہیں لیکن جو ہو چکا اُس کی پٹاری کھولنے کے بعد بننے والی تصویر سے کوئی آگاہ نہیں ہے ۔ جب اس احتجاج کا آغاز ہوا تو اُس وقت نوازشریف کی حکومت ہچکولے کھاتی ہوئی نظر آرہی تھی۔وزراءکے بیانات سے آرمی کے ساتھ پیدا ہونے والی بدمزگی جنرل مشرف کے مقدمے کی کڑواہٹ کو اپنے ساتھ ملاتے ہوئے باہمی تعلقات کو زہر آلودہ کرچکی تھی۔اُس کے بعد جیو کی اخباری جنگ نے نواز لیگ کو مزیدپر یشا نیوں میں دکھیل دیا۔وہ ایسا وقت تھا جب نواز لیگ کے سنیئر لیڈران آرمی کی طرف سے ممکنہ وار کے خلاف محاذ بندی کے بارے میں سوچ رہے تھے’بڑی گڑ بڑ‘ہونے کی پریشانی وزیراعظم نواز شریف تک پہنچ گئی تھی۔طالبان کے ساتھ مذاکرات اور شمالی وزیر ستان میں آپریشن پر پس وپیش نے بڑھتے ہوئے فاصلوں کو گہری کھائیوں میں تبدیل کردیا تھا۔

اگر آپ کویاد ہو تو اُس ما حول میں دیئے گئے تحریک انصاف کے بیانات حکومت کی ان غلطیوں کے حوالوں سے بھرے ہوئے تھے۔ تحریک انصاف نے نوازلیگ کو جیو کی جنگ میں آرمی کے خلاف کھڑا دیکھتے ہوئے اپنی تمام تر قو ت وفاقی حکومت کو نیچا دکھانے پر صرف کردی تھی۔خیال یہ تھا کہ اگر کوئی ملک گیر تحریک شروع ہوگئی تو طاقت ور حلقے نوازلیگ کی حکومت کوگرنے سے بچائے گے نہیں۔ ہوسکتا ہے تحریک انصاف کی نظر میں اس’نیک کام‘میں خاموشی سے کچھ حصہ ہی ڈال دے۔ طاہرالقادری نے سڑکوں پر احتجاج کا چیختا چلاتا ہراول دستہ بننا تھا۔ تحریک انصاف اور دوسری جماعتوں پاکستان کے نعرے لگاتے ہوئے حب الوطنی کے جھنڈے تھا مے ہوئے اپنی تمام تر سیاسی قوت کوبروئے کار کر نئے انتخابات کے ذریعے نواز حکومت کی چھٹی کروانے والی قوت بننا چاہتے تھے۔

اس ماحول میں یہ لائحہ عمل حکومت کی نااہلیوں کی وجہ سے ایک بھر پور چیلنج تھا۔انتخابات جمہوریت کے تسلسل کو بر قرار رکھتے ہوئے انتخابی تبدیلی پر مختلف جماعتیں راضی ہوجاتی۔اور اس طر ح ایک نیا نظام معرض وجود میں آجاتا۔ مگر پھر حقائق تبدیل ہوگئے نواز شریف حکومت نے میڈیا کی جنگ میں اپنا نقصان کروانے کے بعد پینترا بدل لیا۔ دلیل اور غلیل کی بحث میں سے نکل کر اپنے فوری مفادات کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ چینل بند بھی ہوا اور کھلنے کے بعد کھل بھی نہ سکا،جس کی تیماداری کے لئے نواز شریف کراچی چلے گئے تھے اب اس حامد میر کا نوازلیگ کے کسی حلقے میں ذکر تک نہیں کیا جاتا۔یہ معاملہ ختم نہیں ہوا لیکن کافی حد تک ٹھنڈا ہوگیا ہے۔حکومت نے خود کو اپنی بنائی ہوئی دلدل میں سے نکال کر ایک ایسی غیر جانب دار پو زیشن اختیار کرلی ہے جہاں دوسروں کے گناہ اس کے سر نہیں تھوپے جارہے ۔

شمالی وزیرستان آپریشن کے بعد طالبان کے ساتھ مذاکرات کی فائل بند ہوگئی نواز شریف نے اس کروی گولی کوہنسی خوشی ہضم کرلیا۔فوج کو جس سیاسی مدد کی ضرورت تھی وہ نوازلیگ نے طشتری میں رکھ کر حاضر کردی ۔پچھلے چند ہفتوں میں وزیراعظم نوازشریف اور اُن کی ٹیم نے آپریشن ضرب عضب کو آرمی کے ساتھ تعلقات میں پڑی ہوئی دارڑوں کو پرکرنے کے لئے موثر انداز میں استعمال کیا ہے۔آنے والوں دنوں میں جب اس علاقے میں ترقیاتی کاموں اور وہاں سے نکلے ہوئے شہریوں کی واپسی کے معاملات شروع ہوگے تو آپ حکومت اور فوج میں مزید قریبی تعلقات دیکھ پائیں گے۔

جنرل پرویز مشرف کا معاملہ بہر حال لٹکا ہوا ہے۔حکومت نے اگر اس مسئلے پر واضح موقف اپنا یاہوتا تو شاید فوج سابق آرمی چیف کے خلاف کاروائی بادل نا خواستہ ہضم کر لیتی۔اگرچے آج کل چوہدری نثار فوج کو وزیراعظم کی طرف سے دیئے گئے اختیارات سے کہیں زیادہ تجاوز کرتے ہوئے کٹمنٹ دینے کے الزامات کی زد میں ہیں۔ مگر یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کو ان وعدوں کا علم نہ ہو جو چوہدری نثار ،شہباز شریف اور ایک آدھ میٹنگ میں محتر م اسحق ڈار خود فوج کو دے آئے تھے۔آنے والے دنوں میں اس مسئلے پر حکومت اور فوج میں کشدگی بڑھ سکتی ہے۔ مگر اس کے باوجود دو اڑھائی ماہ پہلے بننے والا ماحول فوری واپس آنے کا ظاہراًکوئی امکان نہیں۔

مگر عمران خان کے خیا ل میں نوازشریف کی حکومت ابھی بھی ایک گرتی ہوئی دیوار ہے جو 14اگست کے دھکے سے گر جائے گی۔اگر حکومت نے اپنے خلاف اپنے ہاتھوں سے کوئی بڑی سازش نہ کردی تو شاید عمران خان کا مفروضہ غلط ثابت ہو اور عین ممکن ہے کہ ان کا احتجاج پارٹی کے گلے پڑ جائے۔ تحریک انصاف میں موجود سنجیدہ سیاستدانوں کا خیال ہے کہ 14 اگست کے جلسے کو فیصل آباد،بہاولپور،سیالکوٹ کے جلسوں کا اختتا می ایکٹ ہو نا چاہیے۔تحریک انصاف اسکو حکومت کے لئے ایک بڑی وارننگ کے طور پر استعمال کرکے اپنے مطالبات کو پارلیمانی انداز میں مزید تقویت دے سکتی ہے۔عمران خان 14اگست کے احتجا ج کو تاریخ ساز بنانے کے چکروں میں ہیں۔وہ یہاں سے ایک ایسی تحریک کی شروعات کرنے کاسوچ رہے ہے جسکے اختتا م کے بارے میں وہ باوجود سوالوں کے کوئی واضح جواب نہیں دیتے۔ خیبر پختو نخواہ کی اسمبلی کے ایک وزیر نے تحریک انصاف کے اس مخمصہ کو دوجملوں میں سمودیا ہے۔انہوں نے کہا 14اگست کا جلسہ فی الحال حکومت کے لئے مسئلہ بننے کی بجائے ہمارے لئے مسئلہ بناہوا ہے۔
Read More »