جاوید چودھری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
جاوید چودھری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 26 اگست، 2014

پیر، 11 اگست، 2014

پاکستانی معاشرے کی چودہ خرابیاں از جاوید چودھری

یہ اوکاڑہ کے پسماندہ گاؤں کے غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں‘ غربت اور عسرت میں بچپن گزارہ‘ وظیفے لے کر ابتدائی تعلیم پائی‘ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایف ایس سی کی‘ میڈیکل کالج میں داخلہ ہوا‘ ڈاکٹر بنے‘ دس بائی دس فٹ کے کمرے سے عملی زندگی کا آغاز کیا‘ کمرے میں سیمنٹ کی بوریاں بھی ہوتی تھیںکھاد کے تھیلے بھی اور ان کی چارپائی بھی۔ کمرے میں لیٹے لیٹے کاروبار کا فیصلہ کیا‘ یہ تیس برس تک مسلسل کام کرتے رہے‘ دن دیکھا نہ رات‘ دنیا کے تمام آرام‘ عیش اور آسائشیں اپنے لیے حرام قرار دے دیں‘ زندگی میں کبھی سگریٹ پیا‘ شراب کو ہاتھ لگایا اور نہ ہی کسی قسم کی بدکاری کی۔
اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کیا‘ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور یہ ملک کے بڑے بزنس مینوں میں شمار ہونے لگے‘ آج ان کی کمپنی میں تین ہزار لوگ ملازم ہیں‘ یہ دس کروڑ روپے ٹیکس دیتے ہیں‘ یہ کسی بینک کے ڈیفالٹر نہیں ہیںویلفیئر کے درجنوں منصوبے چلا رہے ہیں‘ دل کے کھلے ہیں‘ کسی ضرورت مند کو مایوس نہیں کرتے‘ دوستوں کے دوست ہیں‘ مذہبی بھی ہیں‘ درجنوں عمرے اور حج کر چکے ہیں‘ یہ خالص پاکستانی ہیں‘ زندگی میں جو کمایا پاکستان میں رکھا اور دنیا کے کسی کونے میں کوئی بینک اکاؤنٹ ہے اور نہ ہی زمین جائیداد۔
یہ میرے لیے ہمیشہ سورس آف انسپائریشن رہے‘ میں اگر کبھی مایوس ہوا تو ڈاکٹر صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ لیا مگر میں نے انھیں کل پہلی بار مایوس دیکھا‘ ڈاکٹر صاحب نے کل میرے سامنے دو اعلان کیے‘ ان کا پہلا اعلان تھا ’’میں اب کام نہیں کروں گا‘ میں نے کمپنی کی گروتھ روک دی ہے‘ ہم اب کوئی نیا پراجیکٹ شروع نہیں کر رہے‘ ہم بتدریج کام میں کمی لائیں گے‘ملازمین کم کریں گے اور مسائل پیدا کرنے والے یونٹ بند کر دیں گے‘‘ ڈاکٹر صاحب نے دوسرا اعلان کیا ’’ میں ملک سے باہر گھرتلاش کر رہا ہوں‘ میں خاندان کو ملک سے باہر شفٹ کر دوں گا‘ میں چھ ماہ ان کے ساتھ باہر رہوں گا اور چھ ماہ ملک میں رہوں گا‘ میں کوشش کروں گا میرے بچے ملک سے باہر ایڈجسٹ ہو جائیںوہ وہاں کام کرلیں‘‘۔
میں نے ان سے وجہ پوچھی تو انھوں نے جواب دیا ’’ پاکستان میں کام کرنے والوں کو عزت نہیں دی جاتی‘ میں خاک سے اٹھا ہوں مگر آج تک کسی شخص نے میرے کندھے پر تھپکی نہیں دی‘ کسی نے میرے سر پر ہاتھ نہیں پھیرا‘ کسی نے مجھے مبارک باد نہیں دی‘ حکومت ہو‘ معاشرہ ہو یا پھر خاندان ہو‘ ہر شخص نے مجھے تنگ کرنا‘ مجھے پریشان کرنا اور مجھے بے عزت کرنا اپنا فرض سمجھا‘ میں اب بے عزتی اور پریشانی سے تنگ آ گیا ہوں چنانچہ میں نے یہ دونوں فیصلے کر لیے‘‘۔
ڈاکٹر صاحب واحد مثال نہیں ہیں‘ کراچی سے ایمریٹس ائیر لائین کی روزانہ چھ فلائٹس دوبئی جاتی ہیں‘ آپ دوسری ائیر لائینز کو بھی شامل کر لیں تو کل 12فلائٹس روزانہ  کراچی  سے یو اے ای روانہ ہوتی ہیں‘ گویا کراچی شہر سے ہر دو گھنٹے بعد ایک فلائٹ متحدہ عرب امارات جاتی ہے‘ لاہور سے روزانہ 11 فلائٹس یو اے ای روانہ ہوتی ہیں اور اسلام آباد سے روزانہ چھ۔ آپ اس کے مقابلے میں کراچی سے لاہور اور اسلام آباد آنے والی فلائٹس کی تعداد دیکھ لیجیے‘ پی آئی اے اور ائیر بلیو کی کل 10 فلائٹس کراچی سے لاہور اور اسلام آباد روانہ ہوتی ہیں گویا دوبئی جانے والوں کی تعداد ملک کے اندر سفر کرنے والوں سے دوگنی ہے۔
اب سوال یہ ہے‘ یہ کون لوگ ہیں‘ یہ یقینا ڈاکٹر صاحب جیسے لوگ ہیں‘ یہ اپنے بچے‘ اپنی کمپنیاں اور اپنے دفاتر دوبئی شفٹ کر چکے ہیں‘ ہمارے ملک کے اسی فیصد کروڑ پتی ملک سے باہر ٹھکانے بنا چکے ہیں‘ ہماری کابینہ کے نوے فیصد اور پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے پچانوے فیصد ارکان کی ملک سے باہر رہائش گاہیں‘ کاروبار‘ بچے اور اکائونٹس موجود ہیں‘ یہ لوگ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ یہ اپنے ملک پر اعتماد کیوں نہیں کر رہے؟
اس کی وجہ ہمارے معاشرے کی 14 بڑی خرابیاں ہیں‘ ہم نے جس طرح 10 اگست کے کالم میں اپنے معاشرے کی 14 خوبیوں کا ذکر کیا ہم آج اسی طرح ان 14 خرابیوں کا تذکرہ کریں گے جو ڈاکٹر صاحب جیسے لوگوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہیں‘
 ہماری پہلی خرابی کامیاب لوگوں سے نفرت ہے‘ دنیا کامیاب لوگوں کی عزت کرتی ہے‘ امریکی بڑے فخر سے خود کو بل گیٹس کی قوم کہتے ہیں لیکن ہم ملک میں ترقی کرنے والے ہر شخص کی توہین کرتےہیں   ہم اسے تنگ کرتے ہیں   آپ کے پاس دو لاکھ پائونڈ ہیں اور آپ اگر برطانیہ کو لکھ کر دے دیں آپ سال میں تین لوگوں کو نوکری دیں گے تو برطانیہ آپ کو خاندان سمیت امیگریشن دے دیتا ہے، آپ کو یہ سہولت پورا یورپ‘ امریکا اور کینیڈا بھی فراہم کرتا ہے جب کہ اس کے مقابلے میں پاکستان میں تین تین ہزار ملازمین کی کمپنیاں چلانے اور دس دس کروڑ روپے ٹیکس دینے والے لوگ ذلیل ہو رہے ہیں‘ یہ لوگ ملک سے کچھ نہیں مانگتے‘ یہ صرف عزت کے طلب گار ہیں مگر کوئی شخص انھیں عزت دینے کے لیے تیار نہیں۔
ہماری دوسری خرابی ملازمتی اپروچ ہے‘ ہم کاروبار کے بجائے ملازمت تلاش کرتے ہیں اور ملازمت بھی ایسی جس میں تنخواہ اور کرپشن زیادہ ہو اور کام نہ کرنا پڑے جب کہ قومیں بزنس مین اپروچ سے ترقی کرتی ہیں‘ امریکا‘ یورپ‘ چین اور بھارت کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، امریکا کو امریکا اس کی 36 ہزار ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بنایا تھا۔
 ہماری تیسری خرابی ہنر کی کمی ہے‘ ہم بے ہنر لوگ ہیں‘ ہم ہنر سیکھنا توہین سمجھتے ہیں‘ آپ کو پورے شہر میں اچھا پلمبر‘ اچھا باورچی‘ اچھا الیکٹریشن‘ اچھا ڈرائیور اور اچھا سیکیورٹی گارڈ نہیں ملتا‘ آپ پوری زندگی مالی تلاش کرتے رہتے ہیں مگر آپ کو مالی نہیں ملتا۔
 ہماری چوتھی خرابی مذہبی انتہا پسندی ہے‘ ہم نے مذہب کو انتہا پسندی کا مرکز بنا دیا‘ ملک میں درجنوں فرقے ہیں اور ہر فرقہ دوسرے فرقے کے لوگوں کو کافر قرار دے رہا ہے اور اس اپروچ نے ملک کو دوزخ بنا دیا۔
پانچویں خرابی‘ ہم بے تربیت قوم ہیں‘ ہم نئی نسلوں کی سماجی تربیت نہیں کر رہے‘ ہمیں بولنے کی تمیز ہے‘ بیٹھنے کی‘ اٹھنے کی اور نہ ہی دوسرے سے ڈیل کرنے کی‘ ہمیں کام کرنے کی ٹریننگ بھی نہیں دی گئی‘ دکان کا ملازم دکان تباہ کر دیتا ہے اور فیکٹری کے ملازمین فیکٹری بند کرا دیتے ہیں‘ آپ ڈرائیور کو گاڑی دے دیں تو وہ اپنے رزق کے ذریعے کو برباد کردے گا‘ ہم جلسوں اور جلوس کے دوران وہ قومی املاک توڑ دیتے ہیں جو ہمارے ٹیکس کے ذریعے بڑی مشکل سے بنی تھیں‘ دنیا کے جس ملک میں پولیس کی گاڑی اور ایمبولینس کو آگ لگا دی جائے یا واپڈا کے دفتر پر حملہ ہو جائے اس ملک کی تباہی میں کیا گنجائش رہ جاتی ہے۔
چھٹی خرابی‘ ہماری آبادی ہمارے وسائل اور ضرورت سے چھ گنا زیادہ ہے‘ یہ ملک صرف تین کروڑ لوگوں کا بوجھ برداشت کر سکتا ہے ‘ ہم انیس کروڑ ہیں لہٰذا ملک پندرہ سولہ کروڑ اضافی لوگوں کے لیے خوراک‘ تعلیم‘ روزگار‘ بجلی اور انصاف کا بندوبست کہاں سے کرے گا؟ آبادی کی وجہ سے چوری‘ چکاری‘ ڈاکہ زنی‘ اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوری صنعت اور کاروبار بن چکے ہیں۔ ساتویں خرابی‘ ہم نااہل ہیں‘ ہمارے ملک میں ’’آن جاب ٹریننگ‘‘ کا تصور تک نہیںہماری نوے فیصد آبادی ڈرائیونگ نہیں جانتی‘ پچاس سال سے اوپر اسی فیصد پڑھے لکھے لوگ کمپیوٹر نہیں جانتے‘ ایس ایم ایس نہیں کر سکتے اور ہمارے دفتر میں آج بھی سٹینو گرافرز اور کلرکوں کی جابز نکلتی ہیں۔
آٹھویں خرابی‘ ہم ہوم ورک یا تجزیہ نہیں کرتے‘ علامہ طاہر القادری اور عمران خان انقلاب لانا چاہتے ہیں مگر کیا یہ لوگ انقلاب کے بعد ملک کو سنبھال سکیں گے؟ اس پر ان کا کوئی ہوم ورک نہیں‘ 2020ء میں جب ہمارا پانی پچاس فیصد کم ہو جائے گا تو ہم کیا کریں گے؟ ہم نے کوئی ہوم ورک نہیں کیا؟ ہم پہلے سڑک بناتے ہیں‘ پھر اسے انڈر پاس کے لیے توڑتے ہیں اور پھر انڈر پاسز کو توڑ کر میٹرو بس چلا دیتے ہیں اور آخر میں میٹرو ٹرین کے منصوبے شروع کر دیتے ہیں۔
نویں خرابی‘ ہمارے ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے‘ ہم آج بھی آمریت کے خوف تلے زندگی گزار رہے ہیں‘ ہماری حکومتیں اول دھاندلی کی پیداوار ہوتی ہیں اور یہ اگر ٹھیک ہوں تو ہم اس حکومت کو چلنے نہیں دیتے۔ دسویں خرابیہم میں برداشت کی کمی ہے‘ ہم دوسرے کا نقطہ نظر برداشت نہیں کرتے‘ ہم ہاتھ توڑ دیں گے‘ گردن اتار دیں گے اور کھال کھینچ لیں گے سے کم نہیں سوچتے‘ ہم پوری دنیا کو جلا دینا چاہتے ہیں۔
 گیارہویں خرابی‘ ہم بری طرح لاقانونیت کا شکار ہیں‘ ملک میں قانون کوئی نہیں‘ آپ تگڑے ہیں تو آپ کو کوئی روکے گا نہیں اور آپ اگر کمزور ہیں تو آپ کو کوئی جانے نہیں دے گا  ہم قتل‘ اغواء ڈاکے اور زنا بالجبر میں دنیا میں سب سے آگے ہیں۔
بارہویں خرابی‘ ہمارا فیملی سسٹم ٹھیک نہیں‘ ہم جوائنٹ فیملی سسٹم اور سنگل پرسن سسٹم کے درمیان لٹکے ہوئے ہیں‘ ہم آج تک دونوں نظاموں میں سے کسی ایک کا فیصلہ نہیں کر سکے‘ پاکستان میں 60 فیصد مقدمات کی بنیاد خاندان ہوتا ہے۔ تیرہویں خرابی‘ ہم سماجی نرگسیت کا شکار ہیں‘ ہم بدترین زندگی گزار رہے ہیں لیکن ہم خواب پوری دنیا پر حکمرانی کے دیکھتے ہیں، دنیا میں کشکول لے کر پھرتے ہیں لیکن عزت کے طلب گار بھی ہیں اور ہم خود کو اس قدر اہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے پوری دنیا ہمارے خلاف سازشیں کر رہی ہے اور ہماری آخری چودھویں خرابی‘ ہم من حیث القوم سستی کا شکار ہیں‘ ہم آج کا کام کبھی آج ختم نہیں کریں گے‘ ہم چلتے ہوئے بھی یورپ اور امریکا کے شہریوں کی نسبت کم قدم اٹھاتے ہیں‘ امریکی شہری ایک منٹ میں اوسطاً پچاس قدم اٹھاتا ہے جب کہ ہم زیادہ سے زیادہ 35 قدم لیتے ہیں‘ ہمارے طالب علم گیس اور نقل کے بغیر امتحان پاس نہیں کر پاتے اور ہم آج کی نمازوں تک کو کل پر شفٹ کر دیتے ہیں۔
ہم میں 14خوبیاں ہیں لیکن ہماری خوبیاں ہماری خامیوں کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں‘ ہم جب تک ان خرابیوں کا پردہ چاک نہیں کریں گے‘ ہماری خوبیاں دنیا کے سامنے نہیں آئیں گی۔

Read More »

ہفتہ، 9 اگست، 2014

پاکستانی معاشرے کی چودہ خوبیاں از جاوید چوہدھری

یہ ڈیلف کی دوسری شادی تھی۔ وہ جوان ،خوبصورت‘ پڑھی لکھی اور مہذب تھی جب کہ اس کا خاوند گجرات کا ان پڑھ اور ادھیڑ عمر تھا‘ محمد اکرم اور ڈیلف کی عمروں میں بیس سال کا فرق تھا‘ ڈیلف تیس برس کی دہلیز پر بیٹھی تھی اور اکرم صاحب پچاس کی لکیر عبور کر چکے تھے‘ یہ دونوں ایمسٹرڈیم میں رہتے تھے‘ اکرم صاحب بیس سال کی عمر میں یورپ آئے‘ دھکے کھاتے ہالینڈ پہنچے اور یہاں کے ہو کر رہ گئے‘ یہ مزدور تھے‘ پوری زندگی مزدوری میں گزار دی‘ یہ ایک دن پھولوں کے فارم میں کام کر رہے تھے، فارم کا مالک ان کے پاس آیا اور ان سے پوچھا ’’کیا تم پاکستانی ہو‘‘ اکرم صاحب نے ہاں میں سر ہلا دیا‘ مالک نے اس کے بعد ان سے عجیب سوال کیا ’’ کیا تم ہالینڈ کی خوبصورت لڑکی سے شادی کر لو گے‘‘ اکرم صاحب نے حیران ہو کر پوچھا ’’کیا مطلب‘‘ مالک نے جواب دیا ’’ میری سالی یونیورسٹی میں پڑھاتی ہے‘ یہ کسی پاکستانی کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے‘ میں صرف تمہیں جانتا ہوں چنانچہ میں نے تم سے پوچھ لیا‘‘۔
اکرم صاحب رشتے کے اس عجیب و غریب پیغام پر حیران رہ گئے‘ مالک انھیں حیران دیکھ کر بولا ’’ تم خاتون سے مل لو‘ اگر تمہیں پسند آئی تو تم اس سے شادی کر لینا ‘‘ اکرم صاحب مان گئے‘ ملاقات ہوئی‘ اکرم صاحب کو خاتون پسند آ گئی اور شادی ہو گئی‘ خاتون نے اکرم صاحب کی زندگی کی سمت بدل دی‘ وہ فارم ہاؤس کے مزدور سے پھولوں کے بیوپاری بن گئے‘ میں 2005ء میں ایمسٹر ڈیم گیا‘ اکرم صاحب سے ملاقات ہوئی‘ وہ مجھے گھر لے گئے‘ ڈیلف سے ملاقات ہوئی‘ ڈیلف نے بتایا ’’ یہ میری دوسری شادی ہے، میرا پہلا خاوند بھی پاکستانی تھا‘ میں نے 20 سال کی عمر میں اس سے شادی کی‘ ہم دس سال اکٹھے رہے‘ وہ بیچارہ حادثے میں ہلاک ہو گیا‘ میں نے اس کے بعد فیصلہ کیا میرا دوسرا خاوند بھی پاکستانی ہو گا‘‘۔
میں بہت حیران ہوا‘ میں نے حیرت کا اظہار کیا تو ڈیلف نے عجیب وجہ بتائی‘ اس کا کہنا تھا ’’میں نے پاکستانیوں میں عجیب عادت دیکھی جو دوسری کسی کمیونٹی میں موجود نہیں‘ پاکستانی کھل کر قہقہہ لگاتے ہیں‘ یہ سارا دن بیٹھے رہیں تو یہ سارا دن قہقہے لگاتے رہیں گے‘ میرا پہلا خاوند بھی اتنا ہی زندہ دل تھا اور میرا یہ خاوند بھی زندگی سے بھرپور قہقہے لگاتا ہے‘‘ میں ڈیلف کی بات پر حیران رہ گیا اور میں نے اس کے بعد پاکستانیوں کو ڈیلف کی نظروں سے دیکھنا شروع کر دیا‘ ڈیلف کا مشاہدہ درست تھا۔
ہم لوگ واقعی کھل کر ہنسنے کے ماہر ہیں‘ ڈیلف سے ملاقات اور اس کا بتایا ہوا نقطہ میری اس ریسرچ کی بنیاد بن گیا‘ میں نے ریسرچ کی اور مجھے پاکستانیوں میں 14 حیران کن خوبیاں نظر آئیں‘ میں آج یہ خوبیاں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں‘ آپ بھی یقینا کنٹینروں میں الجھے پھنسے اس ملک اور اس ملک کے 19 کروڑ مایوس لوگوں کی ان 14 خوبیوں پر حیران رہ جائینگے‘ یہ خوبیاں آپ کو دوسری اقوام میں کم ملیں گی۔ پاکستانیوں کی پہلی خوبی جمہوریت پسندی ہے‘ ہمارے لوگ جمہوریت سے محبت کرتے ہیں‘ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جس میں آمریت کا دور زیادہ سے زیادہ دس سال ہوا ہے‘ جنرل خواہ ایوب خان ہو‘ یحییٰ خان‘ ضیاء الحق یا پھر پرویز مشرف ہو اس کو بہر حال آٹھ دس برسوں میں اپنا دسترخوان لپیٹنا پڑجاتا ہے اور وہ اقتدار سیاستدانوں کے حوالے کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے جب کہ دنیا کے دوسرے ممالک میں جب بھی آمریت آئی‘ یہ تیس چالیس سال سے پہلے ختم نہیں ہوئی، آپ اٹلی سے لے کر اسپین اور شام سے لے کر مصر‘ لیبیا‘ عراق اور تیونس کی مثالیں دیکھ لیں آپ کو پاکستان ان سے مختلف لگے گا۔
دو‘ دنیا میں 58 اسلامی ممالک ہیں‘ ان 58 اسلامی ممالک میں سے صرف چار ملکوں میں صحیح معنوں میں جمہوریت ہے‘ ترکی‘ ملائیشیا‘ بنگلہ دیش اور پاکستان۔ ہمیں اپنی جمہوریت پر بیشمار تحفظات ہیں لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت ہے پاکستان میں الیکشن بھی ہوتے ہیں اور عوام جیسے تیسے سہی اپنی مرضی سے حکمران بھی منتخب کرتے ہیں‘ ملک میں ون پارٹی سسٹم ہے اور نہ ہی ’’ کنٹرولڈ ڈیموکریسی‘‘۔ ہمارا ملک سیاسی لحاظ سے اس حد تک آزاد ہے کہ یہاں کوئی بھی پارٹی کسی بھی وقت پورا ملک بند کر سکتی ہے، علامہ طاہر القادری انقلاب لانے کے لیے کینیڈا سے تشریف لے آتے ہیں اور عمران خان آزادی مارچ کے ذریعے پورا ملک معطل کر دیتے ہیں اور کوئی انھیں روک نہیں سکتا‘ دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اتنی آزادی ممکن نہیں۔
تین‘ لوگ سیاسی لحاظ سے سمجھ دار ہیں‘ میں اس سلسلے میں دو سیاسی جماعتوں کی مثال دوں گا‘ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف‘ یہ دونوں نئی سیاسی جماعتیں ہیں‘ ن لیگ 6 اکتوبر 1993ء میں بنی اور پی ٹی آئی کے پاس 2002ء کی قومی اسمبلی میں صرف ایک سیٹ تھی لیکن لوگوں نے ن لیگ کو دوبار ہیوی مینڈیٹ دیا‘ پی ٹی آئی بھی پنجابی پارٹی ہے لیکن اس پارٹی نے نہ صرف خیبر پختونخواہ میں حکومت بنا لی بلکہ اس نے تین صوبوں اور قومی اسمبلی میں بھاری نشستیں بھی حاصل کر لیں جب کہ ان کے مقابلے میں مقامی جماعتیں‘ قوم پرست پارٹیاں اور مذہبی سیاسی جماعتیں الیکشن ہار جاتی ہیں، لوگ علامہ طاہر القادری کے لیے جان دے دیتے ہیں لیکن یہ انھیں ووٹ نہیں دیتے‘ سندھی قوم پرست جماعتیں بھی پورا سندھ بند کرا دیتی ہیں لیکن یہ ووٹ نہیں لے پاتیں‘ جماعت اسلامی ملک کا سب سے بڑا جلسہ کر لے گی لیکن مینڈیٹ نہیں لے سکے گی اور طالبان ملک پر قبضہ کر سکتے ہیں مگر ووٹ نہیں لے سکتے‘ کیا یہ عوام کی سیاسی بلوغت کی نشانی نہیں۔
چار‘ پاکستان کا بنیادی انفرا سٹرکچر‘ سڑکوں کا معیار‘ صفائی‘ مواصلاتی نظام اور سوک سینس سارک کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت اچھی ہے‘ ہماری سڑکیں یورپ کا مقابلہ نہیں کر سکتیں لیکن یہ معیار میں ہمسایہ ممالک سے بہت آگے ہیں‘پاکستان میں دنیا کا دوسرا بڑا نہری نظام بھی ہے، ہم آج بھی ایک سو53 سال پرانی ریل کی پٹڑی پر ٹرین چلا رہے ہیں اور ہمارا گندے سے گندا شخص بھی کھانا کھانے سے قبل ہاتھ ضرور دھوئے گا جب کہ سارک کے دیگر ممالک میں یہ روایت موجود نہیں۔
پانچ‘ لوگ پاکستان میں اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلاتے ہیں‘ ملک کی پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں بیس فیصد طالبعلم انتہائی نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ کچی بستیوں تک میں پرائیویٹ انگریزی اسکول قائم ہیں‘ یہ حقائق عوام کی تعلیم پسندی ثابت کرتے ہیں جب کہ تیسری دنیا کے دیگر ممالک میں یہ رجحان موجود نہیں۔
چھ‘ ہمارے ملک میں ایک شخص پورے خاندان کی ذمے داری اٹھا لیتا ہے‘ یہ اس ذمے داری کو مذہبی فریضہ سمجھ کر نبھاتا ہے، آپ کو یہ احساس ذمے داری دنیا کے دیگر ممالک میں نظر نہیں آتا۔ سات‘ ہم لوگ مہمان نواز ہیں‘ ہم لوگ کسی مہمان کو چائے اور کھانے کے بغیر نہیں جانے دیتے‘ ہم ادھار لے لیں گے مگر مہمان کو خاطر داری کے بغیر اٹھنے نہیں دینگے۔ آٹھ ‘ ہم میں حس مزاح ہے‘ ہم ہنسنا جانتے ہیں‘ لوگ یورپ اور امریکا کے تعلیمی اداروں میں ہمارے طالبعلموں کو ٹولیوں میں بیٹھ کر ہنستے اور لوٹ پوٹ ہوتے دیکھ کر حیران ہوتے ہیں ۔ نو‘ ہمارا میڈیا اور ہماری عدلیہ آزاد ہے‘ ہمارا میڈیا وہ کچھ دکھا دیتا ہے جس کا دوسرے ملکوں میں تصور نہیں کیا جاتا‘ ہماری عدالتیں بھی انصاف فراہم کریں یا نہ کریں لیکن یہ احکامات جاری کرنے میں مکمل آزاد ہیں‘ ہمارے جج کوئی بھی حکم جاری کر سکتے ہیں اور کوئی ان کا احتساب نہیں کر سکتا‘ یہ آزادی دنیا کے کسی دوسرے ملک میں موجود نہیں۔
دس‘ ہم لوگ صدقات اور خیرات میں دنیا میں پانچویں نمبر پر ہیں‘ ہم میں سے 98 فیصد لوگ صدقہ کرتے ہیں‘ ہم خیرات بھی دیتے ہیں، ہمارے دروازوں سے ضرورت مند خالی ہاتھ واپس نہیں جاتے۔ گیارہ‘ ہم میں ’’لوک دانش‘‘ موجود ہے‘ آپ چٹے ان پڑھ لوگوں سے گفتگو کریں‘ آپ کو ان کی گفتگو میں محاورے بھی ملیں گے‘ ضرب المثل بھی‘ قصے بھی‘ واقعات بھی اور زندگی کے سبق بھی‘ ہمارے لوگوں کے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے جب کہ دنیا کے دیگر علاقوں کے لوگ کہنے کے معاملے میں بانجھ واقع ہوئے ہیں۔ یہ دو تین فقرے بولنے کے بعد خاموش ہو جاتے ہیں۔ بارہ‘ ہمارے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں‘ یہ نہ صرف برائیوں اور خرابیوں سے واقف ہیں بلکہ یہ ان کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں‘ آپ کسی شخص کے پاس بیٹھ جائیں وہ ’’ہم لوگ‘‘ کے فقروں سے گفتگو شروع کرے گا اور پھر پورے معاشرے کی خرابیاں بیان کر دیگا‘ میں نے یہ معاشرتی اعلیٰ ظرفی اور اعتراف جرم کسی دوسری قوم میں نہیں دیکھا‘ لوگ یہ معاشرتی برائیاں دور بھی کرنا چاہتے ہیں شاید یہی وجہ ہے ہمارے لوگ ہر قسم کے احتجاج‘ مارچز‘ جلسے‘ جلوس اور ریلیوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔
تیرہ‘ ہم لوگ جی جان سے دوسروں کی مدد کرتے ہیں‘ آپ کسی جگہ کھڑے ہو جائیں اور کسی گزرنے والے سے راستہ پوچھ لیں‘ وہ باقاعدہ رک کر نہ صرف آپ کو راستہ بتائے گا بلکہ وہ آپ کے ساتھ چل پڑیگا‘ لوگ دوسرے لوگوں کو راستہ بھی دیتے ہیں‘ خواتین اور بزرگوں کے لیے جگہ بھی خالی کر دیتے ہیں اور راستوں میں پانی اور دودھ کی سبیلیں بھی لگاتے ہیں‘ یورپ میں لوگ دوسروں سے صرف عادتاً پوچھتے ہیں ’’ میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں‘‘ جب کہ ہمارے ملک میں لوگ حقیقتاً دوسروں کی مدد کرتے ہیں، یہ ایکسیڈنٹ کی صورت میں زخمیوں کو اسپتال چھوڑ کر آتے ہیں‘ آگ لگنے کے بعد پورا محلہ مل کر آگ بجھاتا ہے اور زلزلے اور سیلابوں کے بعد پورے ملک سے امدادی قافلے چل پڑتے ہیں اور چودہ‘ پاکستان 19 کروڑ لوگوں کی مارکیٹ ہے‘ یہ دنیا کی ساتویں بڑی کنزیومر مارکیٹ ہے‘ لوگوں کو یہاں سوئی سے لے کر جہاز تک درکار ہیں۔
پاکستان کے بارے میں کہا جاتا ہے‘ آپ یہاں زہر بھی بیچنا چاہیں تو وہ بک جائے گا‘ ہم زرعی ملک ہونے کے باوجود سبزی بازار سے خریدتے ہیں‘ گھر میں لان موجود ہوگا لیکن ہم اس سے آلو‘ پیاز اور لیموں حاصل کرنا توہین سمجھتے ہیں چنانچہ ہم انیسں کروڑ لوگ کنزیومر ہیں‘ دنیا میں کسی جگہ اتنی بڑی مارکیٹ موجود نہیں چنانچہ پاکستان میں صنعت‘ کاروبار اور تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں‘ حکومت بس کاروباری ماحول پیدا کر دے اور اس کے بعد ملک کی معیشت کو آسمان سے باتیں کرتا دیکھے۔
یہ پاکستانی معاشرے کے 14 خوبصورت رنگ ہیں‘ ہم شاندار لوگ ہیں بس ہمیں اپنی خوبیاں نظر نہیں آتیں‘ ہم نے جس دن ڈیلف کی طرح اپنی خوبیاں پا لیں‘ ہم نے اپنے رنگ دیکھ لیے‘ ہم اس دن ترقی کے راستے پر آ جائیں گے‘ ہم اس دن پاک سرزمین شاد باد بن جائیں گے‘ ہم اس دن پاکستانی ہو جائیں گے۔
Read More »

پیر، 14 جولائی، 2014

جمعرات، 10 جولائی، 2014

جہاں سورج غروب نہیں ہوتا





تھرمسو میں کسی شخص کو شام سے پہلے گھر پہنچنے کی جلدی نہیں ہوتی کیونکہ یہاں شام ہی نہیں ہوتی‘ سورج اس شہر میں 24 گھنٹے چمکتا ہے‘ شہر میں مشرق اور مغرب کی تمیز بھی ممکن نہیں‘ سورج چھتوں پر بھی نہیں پہنچتا‘ یہ صرف کھڑکیوں‘ دروازوں پر دستک دے کر آگے بڑھ جاتا ہے‘ آپ اگر زمین کا گلوب دیکھیں تو آپ کو قطب شمالی اس کی چوٹی پر نظر آئے گا‘ نارتھ پول دراصل زمین کی چھت ہے‘ یہ چھت سورج کے گرد دائیں سے بائیں گھومتی ہے۔

سورج گھومنے کے دوران اسے ایک خاص زاویے سے فوکس رکھتا ہے اور یوں شمالی ناروے میں رات نہیں ہوتی‘ سورج چوبیس گھنٹے آسمان پر چمکتا رہتا ہے‘ سورج کی یہ چمک 25 ستمبر تک جاری رہتی ہے‘ 25 ستمبر کو قطب شمالی سے سورج اچانک غائب ہو جاتا ہے اور پورے خطے پر طویل رات طاری ہو جاتی ہے‘ چوبیس گھنٹے کی لمبی رات۔ شمالی ناروے کے ایک گائوں ’’روزویا‘‘ میں 19 اکتوبر سے 23 فروری تک 24 گھنٹے مکمل اندھیرا رہتا ہے‘ آپ دن کے وقت بھی باہر نکلیں تو آپ کو ہاتھ سے ہاتھ سجھائی نہیں دیتا‘ قطب شمالی کی رات18 مارچ تک جاری رہتی ہے 25 ستمبر سے 18 مارچ تک 175 دن یہ خطہ اندھیرے میں ڈوبا رہتا ہے‘ اس دوران یہاں برف ہوتی ہے‘ سردی ہوتی ہے اور قطب شمالی کے سفید ریچھ ہوتے ہیں۔

25 ستمبر کو سورج واپس آ جاتا ہے اور قطب شمالی کے لوگ سورج کی واپسی کا تہوار مناتے ہیں اور پھر یہ سورج 25 ستمبر تک ڈوبتا نہیں‘ ان 175 دنوں میں 20 جون سے 20 جولائی کے دوران قطب شمالی میں ’’ مڈ نائیٹ سن‘‘ رہتا ہے‘ سورج دائیں سے بائیں گھومتے ہوئے رات کے بارہ بجے نقطہ انتہا تک  پہنچتا ہے اور پھر ڈوبے بغیر آگے کا سفر شروع کر دیتا ہے‘ یہ ایک حیران کن تجربہ ہوتا ہے‘ آپ کے سامنے سورج مشرق سے مغرب تک جاتا ہے اور پھر وہاں سے چمکتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے اور آپ رات کے بارہ بجے سورج کو دن کے بارہ بجے کی پوزیشن پر دیکھتے ہیں۔

تھرمسو شمالی ناروے کا آخری بڑا شہر ہے‘ ہم رات پونے بارہ بجے تھرمسو ایئر پورٹ پر اترے‘ سورج پوری طرح چمک رہا تھا‘ رات کے بارہ بجے‘ پھر ایک‘ دو اور تین بج گئے لیکن دن ختم نہیں ہوا شہر کی گلیاں سونی ہوگئیں‘ سڑکوں پر ٹریفک ختم ہو گئی‘ لوگ گھروں میں گھس گئے لیکن دن ختم نہیں ہوا‘ آپ اپنی سہولت کے لیے یوں سمجھ لیں‘ آپ کے شہر میں دن کے دو بجے ہوں اور لوگ گھروں میں گھس کر سو جائیں اور شہر ویران ہو جائے‘ تھرمسو شہر کی صورتحال رات کے دو تین بجے یہ ہوتی ہے۔

سورج چمک رہا ہے لیکن لوگ غائب ہیں‘ میں اور میرے دوست جہانزیب نے تھرمسو میں ایک رات گزاری‘ صبح اٹھے تو سورج وہیں تھا جہاں ہم نے اسے رات کے وقت چھوڑا تھا۔ تھرمسو ایک درمیانے سائز کا جزیرہ ہے‘ یہ جزیرہ سمندر کے درمیان واقع ہے‘ اس کے چاروں اطراف سمندر ہے لیکن اس سمندر کو تین اطراف سے پہاڑوں نے گھیر رکھا ہے‘ حکومت نے سمندر پر دو پل بنا کر تھرمسو کو دونوں اطراف کی پہاڑیوں سے جوڑ دیا ہے، شہر کے چاروں اطراف سبزہ اور پانی ہے‘ آپ کسی جگہ کھڑے ہو جائیں آپ کو برف پوش پہاڑ‘ سبزہ اور پانی دکھائی دے گا۔

تھرمسو کی دائیں طرف آپ پل پار کر کے پہاڑ کے دامن میں پہنچتے ہیں تو آپ شہر کی واحد کیبل کار تک پہنچ جاتے ہیں‘ یہ کیبل کار 1961ء میں بنائی گئی تھی‘ آپ کیبل کار کے ذریعے پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ جاتے ہیں‘ چوٹی سے آپ کو پورا تھرمسو شہر‘ تاحد نظر پھیلا ٹھنڈا سمندر اور اس لا محدود کائنات میں چھوٹا سا اپنا آپ نظر آتا ہے اور آپ قدرت کی صناعی کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے‘ آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں‘ میں نے بھی کلمہ پڑھا‘ درود شریف کا ورد کیا اور اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا جس نے مجھے کائنات کی وسعتیں دیکھنے اور اپنی حیران کن دنیا میں جھانکنے کا موقع عنایت کیا۔

پہاڑ کی چوٹی پر لوگوں نے ایک ڈیڑھ فٹ کے چھوٹے چھوٹے مینار بنا رکھے تھے‘ لوگ زمین پر بیٹھتے تھے‘ چھوٹے چھوٹے پتھر جمع کرتے تھے‘ پتھر پر پتھر جماتے تھے اور یوں چھوٹا سا مینار بن جاتا تھا‘ یہ دعاؤں کے مینار تھے‘ ناروے کے لوگوں کا عقیدہ ہے‘ آپ پہاڑ کی چوٹی پر پتھروں کا چھوٹا سا مینار بنائیں‘ یہ مینار جب مکمل ہو جائے تو آپ اس کے قریب بیٹھ کر جو دعا مانگیں وہ قبول ہو جاتی ہے، آپ اگر دور سے ان میناروں کو دیکھیں تو یہ آپ کو چھوٹا سا قبرستان دکھائی دیتے تھے‘ میں نے جب لوگوں کو مینار بناتے اور منہ ہی منہ میں کچھ پڑھتے دیکھا تو میں توہم پرستی کے اس شہکار تک پہنچ گیا‘ انسان دنیا کے جس کونے میں بھی ہو وہ بہرحال انسان ہی ہوتا ہے‘ کمزور‘ لاچار اور دکھی اور اس کے دکھ ‘ اس کی بے چارگی اوراس کی کمزوری اسے اکثر اوقات پتھروں کے مینار بنانے پر مجبور کر دیتی ہے۔

یہ سمجھتا ہے اللہ تعالیٰ (نعوذ بااللہ) بچہ ہے‘ ہم اسے پتھر جوڑ جوڑ کر دکھائیں گے تو یہ راضی ہو جائے گا‘ ہم دو ہزار سیڑھیاں چڑھ کر چوٹی پر پہنچیں گے‘ مندر یا معبد کی گھنٹی بجائیں گے تو یہ خوش ہو جائے گا، ہم بہت سادہ ہیں‘ ہم یہ بھول جاتے ہیں‘ اللہ کے نزدیک خلوص نیت سے بڑی کوئی عبادت نہیں‘ آپ دل میں خلوص بھر کر اس سے جو مانگیں یہ فوراً عنایت کر دیتا ہے، والدین اور بچے اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ خلوص نیت سے مانگتے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ چند سیکنڈ میں ان کی سن لیتا ہے جب کہ باقی لوگوں کی دعائیں لفظوں کے خوبصورت پیکیج کے سوا کچھ نہیں ہوتیں۔ آپ دل میں صرف خلوص پیدا کر لیں‘ آپ کی اللہ تعالیٰ سے اس وقت کمیونی کیشن شروع ہو جائے گی‘ آپ اللہ تعالیٰ سے کہیں گے اور اللہ تعالیٰ آپ کی سننے لگے گا۔

چوبیس گھنٹے جاگنے والے شہروں کی اپنی ہی روایات ہوتی ہیں‘ لوگ اپنی مرضی کے اوقات طے کر لیتے ہیں مثلاً آپ اس کیبل کار ہی کو لے لیجیے‘ یہ کیبل کار چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے‘ آپ کو ہر آدھ گھنٹے بعد کیبل کار مل جاتی ہے‘ لوگ اس کیبل کار کے ذریعے پہاڑ پر آتے ہیں اور یہاں کھڑے ہو کر ’’مڈ نائیٹ سن ‘‘ کا نظارہ کرتے ہیں‘ رات کے بارہ بجے آسمان پر چمکتا سورج دیکھتے ہیں‘ آپ اس شہر میں اپنی مرضی کا دن اور مرضی کی رات بھی طے کر سکتے ہیں۔

آپ یہ فیصلہ کرلیں میری صبح اس وقت شروع ہو گی جب دنیا سہ پہر کے وقت کام ختم کر کے گھر جا رہی ہو گی اور میری رات اس وقت شروع ہو گی جب لوگ سو کر اٹھ رہے ہوں گے اور کوئی شخص آپ پر اعتراض نہیں کرے گا کیونکہ وہاں دن 24 گھنٹے کا ہوتا ہے اور آپ اسے اپنی مرضی سے رات بنا سکتے ہیں‘ تھرمسو کے پرندے اور جانور بھی اس اصول کے تحت زندگی گزارتے ہیں‘ یہ بے چارے جب تھک جاتے ہیں تو یہ دن کو رات بنا لیتے ہیں اور یہ جب آرام کر کے تھک جاتے ہیں تو یہ رات کو دن میں تبدیل کر لیتے ہیں۔

ہم نے تھرمسو سے ’’نارتھ پول‘‘ کے لیے بحری جہاز لیا تھرمسو سے شام (یا پھر دن) ساڑھے چھ بجے نارتھ پول کے لیے جہاز چلتا ہے‘ یہ ہوٹل جہاز ہے‘ اس میں کمرے بنے ہیں‘ جہاز چل پڑتا ہے اور آپ کمرے میں جا کر سو جاتے ہیں‘ ہم ساڑھے چھ بجے ہوٹل میں داخل ہوئے‘ یہ سات منزلہ ہوٹل تھا‘ میں یہ کالم اسی ہوٹل جہاز میں بیٹھ کر لکھ رہا ہوں‘ جہاز کی پہلی دو منزلیں بار برداری کے لیے استعمال ہوتی تھیں‘ تیسری منزل پر کمرے تھے‘ چوتھی منزل کافی شاپس‘ دکانوں‘ ڈائننگ ہال‘ بار روم‘ اسٹیم باتھ اور جم پر مشتمل تھی‘ پانچویں اور چھٹی منزل پر کمرے تھے اور ساتویں منزل ایک طویل ڈرائنگ روم تھی‘ اس میں بیٹھنے کے چھ قسم کے بندوبست تھے‘ آپ ڈیک (عرشے) پر کھلی فضا میں بھی بیٹھ سکتے تھے‘  سن روم میں بھی اور اس کے بعد ڈرائنگ روموں اور لابیوں میں بھی۔

آپ جہاں بھی بیٹھ جائیں‘ آپ کو چاروں اطراف سمندر دکھائی دیتا تھا‘ ہم ساڑھے چھ بجے روانہ ہوئے تو ہمارے دائیں بائیں پہاڑوں کا لا متناہی سلسلہ تھا‘ سمندر میں چھوٹے بڑے ہزاروں جزیرے تھے‘ یہ جزیرے غیر آباد تھے‘ ان پر پرندوں کے جھنڈ تھے اور برفیں تھیں‘ چوبیس گھنٹے چمکتا ہوا سورج تھا‘ خنکی تھی اور پانی پر سرکتا ہوا جہاز تھا‘ راستے میں مچھیروں کی چند بستیاں آئیں‘ یہ پانچ پانچ سو اور ہزار ہزار لوگوں کی آبادیاں تھیں لیکن ان بستیوں میں بھی تمام سہولتیں موجود تھیں۔

اس جہاز نے اگلے دن ساڑھے گیارہ بجے ’’ہوینگ وینگ‘‘ پہنچنا تھا‘ جہاز ہوینگ وینگ‘‘ پہنچ کر رک جاتا ہے‘ یہاں سے ’’نارتھ پول‘‘ دو گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے‘ مسافر جہاز سے اتر کر بسیں اور گاڑیاں کرائے پر لیتے ہیں اور نارتھ پول کی طرف نکل جاتے ہیں‘ آپ دو گھنٹے بعد اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں ’’سولائزیشن‘‘ ختم ہو جاتی ہے‘ اس سے آگے سمندر ہے اور سمندر پر ہزاروں سال کی جمی برفیں ہیں‘ عام لوگوں کے لیے اس مقام سے آگے جانا مشکل ہوتا ہے‘ اس سے آگے صرف وہ خاص لوگ جا سکتے ہیں جو منفی چالیس درجے پر زندہ رہ سکتے ہیں‘ ہم نے اس مقام پر پہنچنا تھا جہاں سولائزیشن ختم ہو جاتی ہے‘ اور قطب شمالی شروع ہوتا ہے‘ اگلی صبح گیارہ بجے ہوینگ وینگ آگیا۔

ہوینگ وینگ میں دھند تھی‘ ہمیں دور سے زمین کا کنارہ نظر آرہا تھا لیکن وہ کنارہ دھند میں لپٹا تھا‘ دھند کے اس پار دو گھنٹے کی ڈرائیو پر قطب شمالی تھا‘ وہ مقام جہاں انسان کے قدم تو پہنچے لیکن یہ وہاں آباد نہیں ہو سکا‘ جہاں زندگی ہے لیکن وہ زندگی موت سے بد تر ہے‘ وہ قطب شمالی جہاں گرمیوں میں سورج 24 گھنٹے چمکتا ہے اور سردیوں میں چمکنا بھول جاتا ہے‘ ’’ہوینگ وینگ‘‘ جہاز کے کپتان نے ہوینگ وینگ کی انائونسمنٹ کی اور اس کے ساتھ ہی ہمارے دل پر ہلکی ہلکی خارش شروع ہو گئی۔
Read More »

منگل، 8 جولائی، 2014