Sports لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Sports لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 9 ستمبر، 2014

مشکوک ایکشن: سعید اجمل پر پابندی عائد

پاکستانی اسٹار آف اسپنر سعید اجمل—۔فائل فوٹو
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی ) نے پاکستانی اسٹار آف اسپنر سعید اجمل کا بالنگ ایکشن مشکوک قرار دے کر ان پر پابندی عائد کر دی ہے۔
چھتیس سالہ بالر اپنا ایکشن درست کیے بغیر انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیل پائیں گے، تاہم سعید اجمل اس فیصلے کے خلاف پندرہ دن کے اندراپیل کرسکتے ہیں۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان گال میں کھیلے گئے ٹیسٹ کے دوران آفیشلز اور امپائرز نےسعید اجمل کے بالنگ ایکشن پر اعتراض کیا جس کے بعد اگست کے آخری ہفتے میں آسٹریلیا میں ان کے بالنگ ایکشن کی جانچ پڑتال ہوئی۔
آئی سی سی کی جانب سے آج جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سعید اجمل کا بالنگ ایکشن عالمی معیار کے مطابق نہیں اور وہ اب انٹرنیشنل کرکٹ میں بالنگ نہیں کروا سکیں گے۔
تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئی سی سی کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

Read More »

اتوار، 10 اگست، 2014

گال ٹیسٹ: پاکستان کو سری لنکا سے 7 وکٹوں سے شکست

گال: گال ٹیسٹ کے آخری روز پاکستان نے چار رنز ایک وکٹ کے نقصان پر دوسری اننگز شروع کی تاہم پاکستانی بیٹسمین روایتی غیر ذمہ دارانہ اور سست رفتار بیٹنگ نے ڈرا کی جانب گامزن میچ کو شکست میں تبدیل کر دیا۔
پاکستان کی پوری ٹیم 180رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
سری لنکا کی جانب سے رنگانا ہیراتھ نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 6وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستانی وکٹ کیپر سرفراز احمد نے 52رنز کی اننگز کھیلی جبکہ اظہر علی نے 41 رنز اور کپتان مصباح الحق 28رنز بنا سکے۔
سری لنکا کو کامیابی کے لیے 21اوورز میں 99رنز کا ہدف ملا جو سری لنکن بیٹسمنوں نے تین وکٹوں کے نقصان پر 17ویں اوور میں ہی حاصل کرلیا۔
واضح رہے کہ پاکستان نے پہلی اننگز میں 451 رنز بنائے تھے جبکہ 145 اوورز میں یہ اسکور بنایا گیا تھا جس میں یونس خان کی 177 رنز کی شاندار اننگز بھی شامل تھی ان کے علاوہ اسد شفیق نے 75 رنز، سرفراز احمد نے 55 رنز اور عبدالرحمن نے 50 رنز بنائے تھے، سری لنکا دلروان پریرا نے 137 رنز کے عوض 5 کھلاڑیوں کو پولین کا راستہ دکھایا جبکہ رنگانا ہیرات نے 116 رنز دے کر 3 وکٹیں اور دہمیکا پرساد نے 81 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان کے 451 رنز کے جواب میں سری لنکا نے 163اوورز میں پہلی اننگز میں 533 رنز بنا کر 9 کھلاڑی آوٹ پر اننگز ڈکلیئر کر دی، سری لنکن بیٹسمین کمار سنگا کارا 221 رنز کے ساتھ سر فہرست رہے جبکہ اینگو میتھیوز نے 91رنز، کوشال سلوا نے 64رنز اور مہیلا جے وردنے نے 59رنز بنائے، پاکستان کی جانب سے سعید اجمل نے 166رنز دے کر 5 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا جبکہ جنید خان نے 104 رنز دے کر 2وکٹیں، محمد طلحہ نے 104 رنز دے کر ایک وکٹ اور عبدالرحمن نے 123 رنز کے دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔
پاکستان نے اپنی دوسری اننگز میں بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور پوری ٹیم 80 اوورز میں 180 رنز پر آئوٹ ہو گئی۔
جس میں سرفراز احمد 52 رنز(ناٹ آئوٹ) بنا کر نمایاں رہے ان کے علاوہ اظہر علی نے 41رنز، مصباح الحق نے 28، احمد شہزاد نے 16 اور یونس خان نے 13 رنز بنائے، ان کے علاوہ کوئی بھی کھلاڑی دو ہندسوں میں داخل نہ ہو سکا۔
سری لنکا نے پاکستان کے خلاف صرف 4 بالرز استعمال کیے جس میں رنگانا ہیرات نے صرف 48 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کیں، ان کے علاوہ دلوران پریرہ نے 68 رنز دے کر 2 وکٹیں، دہمیکا پرساد نے 10 رنز دے کر ایک وکٹ اور شاہمندہ ایرنگا نے 44 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔
دوسری اننگز میں پاکستان کے 180 رنز پر آئوٹ ہونے سے سری لنکا کو صرف 99 رنز کا ہدف ملا تھا۔
سری لنکا کو یہ ہدف 21 اوورز میں حاصل کرنا تھا جو کہ اس نے صرف 2۔16 اوورز میں حاصل کر لیا جبکہ اس کے تین کھلاڑی آئوٹ ہوئے۔
مہیلا جے وردنے 26رنز، کمار سنگا کارا 21رنز اور اوپل ترنگا 12 رنز بنا کر آئوٹ ہوئے جبکہ انڈریومیتھیوز 25 اور کھیتروان ویتھنگے 11رنز کے ساتھ ناٹ آئوٹ رہے۔
پاکستان کی جانب سے جنید خان نے 55 رنز دے 2وکٹیں اور محمد طلحہ نے 12رنز کے عوض ایک وکٹ حاصل کی۔
یاد رہے کہ اس کامیابی کے بعد سری لنکا کو دو میچوں کی سیریز میں 0-1 سے برتری حاصل ہو گئی ہے۔
Read More »

اتوار، 13 جولائی، 2014

چوبیس برس کا انتظار ختم، جرمنی چوتھی بار ورلڈ چیمپیئن بن گیا

جرمنی کی ٹیم کا یہ ریکارڈ آٹھواں ورلڈ کپ فائنل تھا اور وہ 24 برس بعد یہ ٹورنامنٹ جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے
برازیل میں منعقد ہونے والا فٹبال کا 20واں ورلڈ کپ فائنل میں جرمنی کی ارجنٹائن پر ایک گول سے فتح کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔
یہ چوتھا موقع ہے کہ جرمنی کی ٹیم ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے تاہم اس موقع کے لیے اسے 24 برس انتظار کرنا پڑا ہے۔
اتوار کی شب ریو ڈی جنیرو کے ماراکانہ سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے فائنل میں مقابلہ مقررہ وقت میں برابر رہا تاہم اضافی وقت کے دوسرے ہاف میں ماریوگوئتیز نے میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول کیا۔
ارجنٹائن کو اس میچ میں گول کرنے کی کئی یقینی مواقع ملے لیکن وہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکی۔
توقعات کے عین مطابق فائنل میچ کا آغاز تیزی سے ہوا اور دونوں جانب سے جارحانہ کھیل دیکھنے کو ملا۔
پہلے ہاف کی ابتدا میں ارجنٹائن کی ٹیم زیادہ خطرناک دکھائی دی اور اس نے متعدد اچھی مووز بنائیں۔
ایسی ہی ایک کوشش کے دوران 20ویں منٹ میں ہیگوائن کو گول کرنے کا سنہری موقع ملا لیکن ان کی شاٹ گول سے کہیں دور تھی۔
میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول جرمنی کے 22 سالہ ماریو گوئتیز (بائیں) نے 113ویں منٹ میں آندرے شولر کے پاس پر کیا
دس منٹ بعد ہیگوائن نے ہی لویزی کے پاس پرگیند جرمن گول میں ڈال دی لیکن ریفری نے ان کے آف سائیڈ ہونے پر یہ گول رد کر دیا۔
پہلے ہاف کے اختتام کے قریب ارجنٹائن کے حملوں میں دوبارہ تیزی آئی اور لیونیل میسی کی اچھی کوشش کے نتیجے میں ارجنٹائن کو گول کرنے کا ایک اور موقع ملا لیکن جرمن دفاعی کھلاڑی بوٹینگ نے یقینی گول بچا لیا۔
43 اور 44ویں منٹ میں جرمنی نے بھی مخالف گول پر اچھے حملے کیے لیکن اوزل کی کمزور کک اور پھر کلوزے کی سستی کی وجہ سے جرمنی برتری نہ لے سکا۔
پہلے ہاف کے اضافی وقت میں جرمن کھلاڑی بینیڈکٹ کا ہیڈر ارجنٹائن کے گول پوسٹ سے ٹکرا کر واپس آ گیا اور یوں یہ ہاف بغیر کسی گول کے ختم ہوا۔
دوسرے ہاف کے آغاز میں ہی لیونیل میسی کو ارجنٹائن کو برتری دلوانے کا اچھا موقع ملا مگر وہ بھی گول نہ کر سکے۔
پہلے ہاف کی طرح جرمن ٹیم نے ابتدائی دس منٹ کے کھیل کے بعد دوسرے ہاف میں بھی گیند پر کنٹرول حاصل کر لیا اور پھر زیادہ کھیل ارجنٹائن کے ہاف میں ہی ہوا۔
تاہم سیمی فائنل کی طرح اس میچ میں بھی ماشیرانو سمیت ارجنٹائن کے دفاعی کھلاڑیوں نے عمدہ کھیل پیش کیا اور جرمن فارورڈ کو گول پر نشانہ لگانے کے زیادہ مواقع نہیں دیے۔
دوسرے ہاف میں بھی دونوں ٹیمیں گول کرنے میں ناکام رہیں جس کے بعد اضافی وقت دیا گیا جس کے پہلے ہی منٹ میں جرمنی کے شولر اور اوزل کی کوششوں کو ارجنٹائن کے کیپر رومیرو نے ناکام بنایا۔
لیونیل میسی سے ارجنٹائن کو فائنل میں بہت امیدیں تھیں جو پوری نہ ہو سکیں
لیونیل میسی سے ارجنٹائن کو فائنل میں بہت امیدیں تھیں جو پوری نہ ہو سکیں
اضافی وقت کے ساتویں منٹ میں ارجنٹائن کے پلاسیو بھی گول کرنے میں ناکام رہے۔ یہ اس میچ میں ارجنٹائن کو ملنے والا چوتھا ایسا موقع تھا جس پر یقیناً گول ہو سکتا تھا۔
میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول جرمنی کے 22 سالہ ماریو گوئتیز نے 113ویں منٹ میں آندرے شولر کے پاس پر کیا۔ گوئتیز کو میرسلاو کلوز کی جگہ دوسرے ہاف میں میدان میں اتارا گیا تھا۔
جرمنی کی ٹیم کا یہ ریکارڈ آٹھواں ورلڈ کپ فائنل تھا اور وہ 24 برس بعد یہ ٹورنامنٹ جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ آخری مرتبہ بھی 1990 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں اس نے ارجنٹائن کو ہی شکست دی تھی۔
2006 اور 2010 کے ورلڈ کپ میں بھی ارجنٹائن کی ٹیم جرمنی سے ہار کر ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہوئی تھی اور ورلڈ کپ کی تاریخ یہ پہلا موقع ہے میں کوئی ٹیم لگاتار تین مقابلوں میں ایک ہی حریف کے ہاتھوں ناک آؤٹ ہوئی ہے۔
Read More »