News لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
News لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 26 اگست، 2014

لاہورہائیکورٹ نے وزیراعظم اوروزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف مقدمہ درج نہ کرنے کی درخواست مسترد کردی


درخواست گزاروں نے جسٹس آف پیس کے فیصلے کے خلاف کوئی ٹھوس قانونی جواز پیش نہیں کیا،لاہور ہائیکورٹ، فوٹو:فائل

لاہور ہائی کورٹ نے وزیراعظم اوروزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا سیشن کورٹ کا حکم کالعدم قرار دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیصلے کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔
 لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مقبول باجوہ نے وفاقی وزرا پرویز رشید،خواجہ آصف،سعدرفیق اور عابد شیر علی کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کی جس میں وفاقی وزرا نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر ایڈیشنل سیشن جج کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت 21 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی، درخواستوں پر دلائل دینے کے لیے پاکستان عوامی تحریک اور وفاقی وزرا کے وکلا پیش ہوئے جبکہ عدالت نے دوران سماعت جے آئی ٹی کے سربراہ اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو بھی طلب کیا۔
عدالت عالیہ نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ایڈیشنل سیشن جج کا حکم برقرار رکھتے ہوئے وفاقی وزرا کی درخواستیں مسترد کردیں۔ عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ درخواست گزاروں نے جسٹس آف پیس کے فیصلے کے خلاف کوئی ٹھوس قانونی جواز پیش نہیں کیا جس کے بعد سانحہ ماڈل ٹاؤن پر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت 21 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم برقرار رکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 17 جون کو ماڈل ٹاؤن میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے گھر کے باہر سے بیریئر ہٹانے کے معاملے پر پولیس اور کارکنان میں تصادم ہوا جس میں 14 افراد جاں بحق اور 80 سے زائد زخمی ہوئے تھے

 
 
Read More »

ہفتہ، 16 اگست، 2014

’چن کتھاں گزاری ای رات وے‘

پاکستانی سوشل میڈیا پر انقلاب اور آزادی مارچ کے لیے ایک جنگ لڑی جا رہی ہے۔
گذشتہ رات عمران خان اور طاہر القادری کے اسلام آباد پہنچنے کی گہما گہمی ٹوئٹر پر نظر آئی مگر اسلام آباد پہنچ کر عمران خان کا مبینہ طور پر غائب ہونا اور بنی گالا چلے جانے کا ٹوئٹر نے شدید نوٹس لیا۔
یہ ان چند مواقع میں سے ایک تھا جب کٹر انصافین بھی اپنے قائد اور ان کے اس اقدام کی حمایت یا دفاع کرنے کے قابل نظر نہیں آرہے تھے۔
اس پر مزید تیل چھڑکنے کے لیے سرکردہ سیاستدان، اینکر، صحافی بھی میدان میں اترے جس کا اندازہ آپ کو اُن کی ٹویٹس سے ہو جائے گا۔
وزیر دفاع اور مسلم لیگ کے رہنما خواجہ آصف جو ٹوئٹر پر کبھی کبھی کبھار نظر آتے ہیں نے ٹویٹ کی کہ ’ وہ لوگ کہاں گئے جنہوں نے عوام کے ساتھ سڑک پر سونے کا عہد کیا تھا؟؟؟
یہ ابھی کافی نہیں تھا کہ اینکر شاہ ذیب خانزادہ نے فیس بک پر لکھا کہ ’ایک گھنٹے کے زبردست شو کے بعد خبر ہے کہ عمران خان اپنے بیچارے کارکنوں کو بارش میں چھوڑ کر بنی گالا سونے چلے گئے۔ رہنمائی کے ایک سنہری موقعے کا کس قدر ضیاع ہے یہ۔
مرتضیٰ سولنگی نے ٹویٹ کی کہ ’استعفے منزل ہیں تو اگر وزیراعظم استعفیٰ نہیں دیتے تو عمران خان کو خود مارچ کا ناکامی پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ امپائر انگلی اٹھائیں تاکہ عمران خان بنی گالا جا سکیں۔
اور ہمارے ٹوئٹر حضرات کہاں اپنی حسِ مزاح کےاستعمال کا ایسا سنہری موقع ہاتھ سے جانے دیتے انہوں نے ٹویٹس کا ایک سلسلہ شروع کیا جو لمبے عرصے تک شاید انصافینز کا پیچھا نہ چھوڑے۔
جمیل قاضی نے ٹویٹ کی کہ ’اسلام آباد ٹیسٹ میں بارش ،بخار اور لیڈروں کی تهکاوٹ کی وجہ سے کھیل روک دیا گیا ہے۔ امپائروں کا 3 بجے کھیل دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ
محسن حجازی نے ٹویٹ کی کہ ’جدہ بھاگ گیا، جدہ بھاگ گیا کے بعد اب پیش خدمت ہے نئی مزاحیہ فلم بنی گالا بھاگ گیا۔ رنگین سینما سکوپ ٹیکنی کلر۔
جمیل قاضی کی یہ ٹویٹ تو بہت ہی مقبول رہی ’آج تین بجے کے جلسے کی ابتداء اس گانے سے ہو گی ’چن کتھاں گزاری ائی رات وے‘۔
اسد نے مزاح سے ہٹ کر ٹویٹ کی کہ ’انقلاب آج کے لیے ختم، کارکنوں کے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ حکومت گرانے کے ہمت کے دعوے مگر اسے چلانے کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں۔ ہمیشہ کے لیے
اسی دوران وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے ٹویٹ کی کہ ’وزیراعظم نواز شریف بے یارو مددگار چھوڑے جانے والح آزادی مارچ کے پی ٹی آئی کارکنوں کے لیے پانی اور کھانا بھجوا رہے ہیں۔ ان کے لیے ضروری انتظامات بھی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ان مارچ کرنے والوں کے مقاصد کے حوالے سے ٹوئٹر پر صارفین نے میڈیا اور مارچ کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا  - ایسا ہی ہونا چاہیے اور یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ پچیس سیٹوں والا سٹریٹ پاور شو کرسکتا ہے تو ایک سو پچیس والا بھی کرسکتا ہے
زالان نے میڈیا کی جانب سے مارچ کرنے والوں کی تعداد کو بے معنی قرار دینے پر ٹویٹ کی کہ ’میڈیا کے جوکر کہہ رہے ہیں کہ تعداد کوئی معنی نہیں رکھتی ، کل میں بھی دس لوگوں کو لے کر دھرنا دونگا تم کوریج کرو گے؟
صحافی طلعت حسین نے ٹویٹ کی کہ ’یہ آدمی سفید جھوٹ بولتا ہے اور میڈیا اسے چلاتا ہے؟ کیوں؟ ایک مداری جو کہ انقلابی کے بہروپ میں ہے اور اسے ہر جگہ دکھایا جا رہا ہے؟ کیوں؟
Read More »

منگل، 12 اگست، 2014

وزیراعظم کاقوم سےخطاب،چیدہ چیدہ نکات سامنےآگئے

اسلام آباد : وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا آج قوم سے ہونے والے خطاب کے اہم نکات سامنے آگئے، ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کا قوم سے خطاب 3 بنیادی نکات پر مشتمل ہوگا۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے قوم سے خطاب کے نکات سامنے آگئے، ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اپنے خطاب میں ایک بار پھر عمران خان کو مفاہمت کی پیشکش کریں گے، وزیراعظم عمران خان کو مل کر ترقی کا لانگ مارچ کرنے کی دعوت بھی دیں گے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ قوم سے خطاب میں وزیراعظم بتائیں گے کہ انہوں نے کتنی لچک کا مظاہرہ کیا، خطاب میں ملک دشمنوں کے خلاف شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب میں فوج کی قربانیوں کا بھی ذکر ہوگا، جب کہ وزیراعظم یہ بھی بتائیں گے کہ آپریشن کے ضرب عضب کے دوران ملک محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم حکومت کی معاشی کامیابیوں کا بھی ذکر کریں گے، دھرنوں سے متاثر معیشت کا بھی ذکر کیا جائے گا۔ وزیراعظم انتخابی اصلاحات پر آمادگی بھی ظاہر کریں گے
Read More »

پیر، 11 اگست، 2014

وزیراعظم نوازشریف کل قوم سے خطاب کریں گے


وزیراعظم ایک سالہ حکومتی کارکرگی بھی قوم کے سامنے پیش کریں گے، فوٹو:فائل



 وزیراعظم نوازشریف کل قوم سے خطاب کریں گے جس میں وہ قوم کو موجودہ صورتحال پر اعتماد میں لیں گے۔
Read More »

ہفتہ، 9 اگست، 2014

عسکری قیادت سے ساتھ دینے کی اپیل ، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت ہونیوالے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے جس کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں نے فوج سے مارشل لاءنہ لگانے کی اپیل کردی اور موقف اپنایاکہ پاکستان کی ترقی جمہوریت سے ہی وابستہ ہے تاہم عسکری قیادت نے مالی معاونت کی درخواست کرتے ہوئے تمام ترتوجہ ’ضرب عضب‘ تک مرکوز رکھی ۔
ذرائع نے انکشاف کیاکہ اجلاس کے دوران تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے پاک فوج سے جمہوریت کا ساتھ دینے کی اپیل کی اور موقف اپنایاکہ ملکی ترقی کیلئے سول و عسکری قیادت کو اکٹھے چلناہوگا۔
محمود خان اچکزئی نے کہاکہ جمہوریت ملکی ترقی کیلئے ناگزیر ہے ، مسلح افواج بھی سول قیادت کا ساتھ دیں ۔
ایم کیوایم کے رہنماءفاروق ستار نے ملک کی موجودہ صورتحال کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے گرفتاریوں اور پکڑ دھکڑکی مذمت کی ۔اُنہوں نے حکومتی پالیسیوں کوتنقید کانشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیاکہ حکومت مظاہرین کے ساتھ سوجھ بوجھ سے کام لے اور جانی نقصان سے گریز کریں ۔
اجلاس کے دوران بی این پی کی رکن سینیٹر کلثوم پروین نے دہشتگردی کیخلاف پاک فوج کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیاکہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کیخلاف شروع کیاگیاآپریشن ہرحال میں مکمل کیاجائے ۔
ڈی جی ایم او نے ضرب عضب پر شرکاءکو بریفنگ دی اور سیاسی جماعتوں سے آپریشن کا ساتھ دینے ، آپریشن کے لیے مالی معاونت کا مطالبہ کردیا۔
بعدازاں سید خورشید شاہ نے بتایاکہ پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی موثر بنانے پر بھی اتفاق کیاگیاہے ۔
آرمی چیف جنرل راحیل شریف کاکہناتھاکہ وہ عملی بندے ہیں ، دہشتگردوں میں بہت سے غیرملکی ہیں ،آپریشن کا ٹارگٹ شخصیات نہیں ، دہشتگردہیں، پختونوں سے کوئی زیادتی نہیں ہوگی تاہم سیاستی معاملات پر بات کرنے سے گریز کیا۔
Read More »