برصغیر
میں پاپ میوزک کو فروغ دینے والی پاکستانی گلوکار نازیہ حسن کی 14 ویں برسی آج
منائی جا رہی ہے۔ ان کے ہر گیت اور ہر ادا سے لوگ محبت کرتے تھے نازیہ کو اپنے
کریئر میں اتنی شہرت ملی جس کی لوگ صرف خواہش ہی کرسکتے ہیں۔
تصاویر
بشکریہ ہیرالڈ اور وائیٹ اسٹار۔
آج
وہ ہم میں نہیں مگر ان کی میٹھی آواز ہمیشہ ہمار ے کانوں میں رس گھولتی رہے گی۔
![]() |
| تین اپریل 1965 کو کراچی میں پیدا ہونے والی ننھی سی گڑیا کے بارے میں کسی کو گمان نہیں تھا کہ وہ آگے چل کر اپنا اور ملک کا نام روشن کرے گی۔ |
![]() |
| نازیہ حسن کو یقین ہی نہیں تھا کہ ان کے کام کو دنیا بھر میں پذیرائی ملے گی 1980 میں پندرہ سال کی عمر میں وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔ |
![]() |
| میں اور زوہیب بالکل جڑواں بہن بھائیوں کی طرح ہیں، ہماری سوچ، ہماری پسند ایک جیسی ہے۔ ہم ایک ہی جگہ بیٹھ کر زیبو کی ٹیون سنتے اور مل جل کر گانوں کے بول لکھ لیتے، نازیہ حسن۔ |
![]() |
| جب بھی ہم اپنا البم ریلیز کرتے تو اپنی سانسیں روک لیتے تھے اور ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ کہیں یہ البم ہمیں تباہ تو نہیں کر دے گا، نازیہ حسن۔ |
![]() |
| نازیہ حسن کی صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں فلم فیئر، پلاٹینیم، ڈبل پلاٹینیم اور گولڈن ڈسکس ایوارڈز سے بھی نوازا گیا، آج وہ ہم میں نہیں مگر ان کی میٹھی آواز ہمیشہ ہمار ے کانوں میں رس گھولتی رہے گی۔ |












کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں