سیاسی
یا جنگی لائحہ عمل وہی بہتر گردانا جاتا ہے جس میں مشکل حالات سے نکلنے کا بندو
بست موجود ہو ۔ عمران خان نے شروع دن سے ہی اپنے لیے وزیر اعظم کے استعفی کا جو
ہدف مقرر کیا تھا اس میں اس سے کم پر مان جانے کا موقع نہیں چھوڑا گیا۔ دھرنوں میں
افراد کی تعداد اس حد تک کم ہو گئی ہے کہ وہ کسی شام کے اخبار کے دفتر کا منظر پیش
کرتے ہیں ۔ ایڈیشن کے لیے سٹاف اسی وقت آتا ہے جب اخبار نکالنے کی ڈیڈ لائن قریب آتی
ہے ۔ اس سے پہلے یہ دفاتر سائیں سائیں کرتے ہیں ۔ شام کو بھی تعداد کچھ اتنی نہیں
ہوتی کہ اس کو دیکھ کر پارلیمنٹ میں بیٹھی تمام جماعتیں اور حکومت کے ایوان تھرتھر
کانپنے لگیں ۔ کیمرے ابھی بھی وہ چشم پوشی کر رہے ہیں جس کا کسی طور بھی ایک
پروفیشنل معیار پر دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ مگر پھر بھی سڑک پر ارد گرد کے علاقوں
سے آئے ہوئے کارکنان اتنے ہی ہوتے ہیں جتنے وہ اصل میں ہوتے ہیں ۔
خیال کی کی اڑان ، بیان اور کیمرے کی پرواز ان کو بڑھا چڑھا کر
بیان کرنے کے باوجود ان خالی جگہوں کو پُر نہیں کر سکتی جو روز روز واضح ہوتی چلی
جا رہی ہے ۔ لہذا سڑک کے ذریعے دباﺅ
پیدا کر کے اپنا مطالبہ منوانے کا وقت گزر گیا ۔ عمران خان ان حالات کو اگر نہ
سمجھیں تو ان کی مرضی ہے ۔ مگر کسی بڑی غلطی یا حادثے کے علاوہ سڑک پر سے احتجاج کر
کے وہ نہ اب کسی کو متاثر کر رہے ہیں اور نہ حصول منزل کی طرف ایک قدم بڑھا رہے
ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی حالات نے بھی ان کے احتجاج پر گہرے اثرات چھوڑنے شروع
کر دیئے ہیں ۔ سیلاب نے کنٹینر سے نکال کر سیالکوٹ کا دورہ کرنے پر مجبور کر دیا۔
ویسے سیلاب سے پہلے بھی اپنی دوسری ضروریات سے مغلوب ہو کر ان کو دن میں دس ، بارہ
گھنٹے کنٹینر چھوڑنا ہی پڑتا تھا۔
آنے والے دنوں میں بدلتے ہوئے حالات ان کو از خود کنٹینر سے دور رکھ سکتے ہیں ۔ اس جگہ پر ٹِکے رہنے کی سیاسی قیمت میں اضافہ ہوتا چالا جائے گا ۔ جو جماعتیں انتخابی عمل کا حصہ بن کر سیاست کرنا چاہتی ہیں وہ خود کو طویل عرصے کے لیے نظام سے دور نہیں رکھ سکتی ۔ پاکستان تحریک انصاف کے اندر سے عمران خان کے علاوہ تقریبا ہر کوئی یہی بات بار بار دہرا رہا ہے ۔ عمران خان ہر کسی کو غدار ، بزدل یا چیتے کی متضاد شکل کے جانوروں کی شکل سے پیش نہیں کر سکتے ۔ ان کو یہ علم ہونا چاہیے کہ اکثریت کی رائے زیادہ عرصہ تک موقوف نہیں کی جا سکتی ۔ نواز شریف کے خلاف مزاحمت کی دھن میں انہوں نے خود کو جماعت کی رائے کے خلاف کھڑا کر دیا ہے ۔
آنے والے دنوں میں بدلتے ہوئے حالات ان کو از خود کنٹینر سے دور رکھ سکتے ہیں ۔ اس جگہ پر ٹِکے رہنے کی سیاسی قیمت میں اضافہ ہوتا چالا جائے گا ۔ جو جماعتیں انتخابی عمل کا حصہ بن کر سیاست کرنا چاہتی ہیں وہ خود کو طویل عرصے کے لیے نظام سے دور نہیں رکھ سکتی ۔ پاکستان تحریک انصاف کے اندر سے عمران خان کے علاوہ تقریبا ہر کوئی یہی بات بار بار دہرا رہا ہے ۔ عمران خان ہر کسی کو غدار ، بزدل یا چیتے کی متضاد شکل کے جانوروں کی شکل سے پیش نہیں کر سکتے ۔ ان کو یہ علم ہونا چاہیے کہ اکثریت کی رائے زیادہ عرصہ تک موقوف نہیں کی جا سکتی ۔ نواز شریف کے خلاف مزاحمت کی دھن میں انہوں نے خود کو جماعت کی رائے کے خلاف کھڑا کر دیا ہے ۔
ابھی تک ان کے نعرے اور وعدے وہی ہیں جو چند ہفتے پہلے تھے ۔
مگر اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے سیاسی طور پر اپنی جماعت کے لیے
ماحول بری طرح خراب بھی کیا ہے ۔ پاکستان کے اندر بہترین کارکردگی پیش کرنے والی
سیاسی جماعتیں بھی مخالفین کے ساتھ ہاتھ ملانے پر مجبور ہو جاتی ہیں ۔ نظام ہی کچھ
ایسا ہے ۔ ہم معاشرتی اور نسلی طور پر بیسوﺅں
رنگ رکھتے ہیں ۔ یہاں پر چھوٹی بڑی درجنوں جماعتوں کا اپنے اپنے حلقے میں اہم
کردار ہے جو ایک ہی ہلے میں تبدیل یا تباہ نہیں کیا جاسکتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی
پیپلزپارٹی ہو یا نواز لیگ کی دو تہائی اکثریت، انتخابات کے نتیجے میں بننے والی
حکومتیں ہر بڑے اور چھوٹے فیصلے پر دوسری جماعتوں پر انحصار کرتی ہیں۔ عمران خان
نے کنٹینر میںمورچہ بند ہوکر جو پھول جھڑیاں چھوڑی ہیں انکی کی چنگاریاں ہر دامن
پر گری ہیں۔ کوئی جماعت اور اسکا لیڈرعمران خان کی زبان اور ہاتھ کے اشارے محفوظ
نہیں رہا۔
کوئی ایسا الزام باقی نہیں ہے جو انھوں نے خود سے دوسروں پر نہ لگایا ہو۔ دھمکی ، لاٹھی اور سبق سکھانے کی جو نئی سرکار کو انھوں نے کنٹینر پر کھڑے ہوکر ترتیب دیا ہے وہ پاکستان تحریک انصاف کے لئے ایک بہت بڑا درد سر بن چکا ہے۔ اگر آج نواز شریف اور شہباز شریف اور انکے قریبی دوست فضا میں تحلیل ہوجائیں تو بھی عمران خان کو پارلیمان میں بیٹھی ہوئی جماعتیں آسان راستہ فراہم نہیں کریں گی۔ بلوچستان میں قوم پرستوں اور سرداروں سے سینگ پھنسانے کے ساتھ ساتھ پشتون رہنماوں کی بدترین تضحیک پاکستان تحریک انصاف کے لئے مستقبل میں کسی ممکنہ سیاسی اتحاد کے لئے زہر قاتل سے کم نہیں۔
کوئی ایسا الزام باقی نہیں ہے جو انھوں نے خود سے دوسروں پر نہ لگایا ہو۔ دھمکی ، لاٹھی اور سبق سکھانے کی جو نئی سرکار کو انھوں نے کنٹینر پر کھڑے ہوکر ترتیب دیا ہے وہ پاکستان تحریک انصاف کے لئے ایک بہت بڑا درد سر بن چکا ہے۔ اگر آج نواز شریف اور شہباز شریف اور انکے قریبی دوست فضا میں تحلیل ہوجائیں تو بھی عمران خان کو پارلیمان میں بیٹھی ہوئی جماعتیں آسان راستہ فراہم نہیں کریں گی۔ بلوچستان میں قوم پرستوں اور سرداروں سے سینگ پھنسانے کے ساتھ ساتھ پشتون رہنماوں کی بدترین تضحیک پاکستان تحریک انصاف کے لئے مستقبل میں کسی ممکنہ سیاسی اتحاد کے لئے زہر قاتل سے کم نہیں۔
خیبر پختون خواہ میں مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے اوپر اپنی
جماعت کے نمائندگان کے ساتھ پتھروں کی بارش کرکے سیاسی راستے اگر مسدود نہیں کئے
تو محدود ضرور کر دئے ہیں۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کے ساتھ دست و گریبان ہیں اور
سندھی قوم پرستوں کو گھاس تک نہیں ڈالتے۔ کبھی ایم کیوایم پر برستے ہیں اور کبھی
ہاتھ آگے کردیتے ہیں۔ پنجاب میں نواز لیگ کے ساتھ لڑائی ہے اور پیپلزپارٹی کے ساتھ
سیاسی مقابلہ۔ اگر عمران خان نیا پاکستان بنانے کے بعد اور شادی کرنے سے پہلے کے
وقفے کے درمیان وزیراعظم بن گئے تو یہ ملک چلائیں گے کیسے؟
اتنی گالیاں نکانے کے بعد انکے ساتھ بیٹھ کر چائے کون پیے گا۔ دھرنے کا ہدف نواز شریف اس وقت دوبارہ سے حکومت کی باگ ڈور سنبھالتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔عمران خان انکو نکالنے پر مصر تو ہیںمگر سیاسی مشکلات میں گھرے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ حکومت کا نکما پن اور تبدیلی کے نعرے کی پکار ابھی بھی قائم ہے۔ مگر یہ دونوں عناصر عمران خان کو انکی بیان کردہ منزل کی طرف لیجانے کے لئے مناسب نہیں ہیں۔
اتنی گالیاں نکانے کے بعد انکے ساتھ بیٹھ کر چائے کون پیے گا۔ دھرنے کا ہدف نواز شریف اس وقت دوبارہ سے حکومت کی باگ ڈور سنبھالتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔عمران خان انکو نکالنے پر مصر تو ہیںمگر سیاسی مشکلات میں گھرے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ حکومت کا نکما پن اور تبدیلی کے نعرے کی پکار ابھی بھی قائم ہے۔ مگر یہ دونوں عناصر عمران خان کو انکی بیان کردہ منزل کی طرف لیجانے کے لئے مناسب نہیں ہیں۔
اس
تمام قصے میں ہماری اسٹیبلشمنٹ کا کیا کردار رہا ہے یہ موضوع اس وقت اٹھانا موزوں
نہیں ہے۔ اگرچہ حقائق چھپائے بھی نہیں چھپتے مگر انکو ڈھانپنے کے لئے جو گنجائش
چاہےے وہ اس وقت موجود نہیں ۔ اتناکافی ہے کہ اس تمام مسئلے کا یہ تمام زوایہ اس
راز کی طرح ہے جو سب کو معلوم ہونے کے باوجود رازداری کے تقاضے پورے کرتے ہوئے راز
ہی سمجھا جاتا ہے۔ اگلے دو تین ہفتوں میں دھرنوں کے پیچھے ہونے والی یہ کوشش عملاً
رائیگاں ہوکر ختم ہوجائے گی۔ جس سہارے کے ناطے اتنی لمبی چھلانگ لگائی گئی تھی وہ
گزرتی ہوئی ساعتوں کی نذر ہورہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو پس منظر میں کھیلے
جانے والے کھیل نے کتنا نقصان پہنچایا ہے اس کا اندازہ بھی ہوجائے گا۔
اس مشکل منظر نامے کے باوجود تحریک انصاف نے اس احتجاج سے بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے۔ اگر بات چیت کے درجن سے زائد دور کسی ایسے معاہدے کی صورت میں سامنے آجاتے ہیں جس سے لمبی چوڑی اور ضروری اصلاحات کا دروازہ کھل جاتا ہے تو اس کا سہرا احتجاج کے سر ہی باندھا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے لئے یہ سہرا بندی ضروری ہے۔ اس کے بغیر تحریک انصاف خود کو اس مشکل موڑپر سے پھسلے بغیر نہیں نکال سکتی۔معاہدے کے بعد عمران خان ملکی معاملات پر جزوقتی توجہ دینے کی بجائے کلی طور پر اپنی کوششیں صرف کرسکتے ہیں۔جہاں تک رہا معاملہ طاہر القادری کا تو انکو جب ٹیلی فون آئے گا وہ واپس چلے جائیں گے۔ دھرنا اپنی افادیت حاصل کرچکا ہے اس کو
مہذب انداز سے عزت بچا کر ختم کرنے کا انتظام ضروری ہوچکا ہے۔
اس مشکل منظر نامے کے باوجود تحریک انصاف نے اس احتجاج سے بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے۔ اگر بات چیت کے درجن سے زائد دور کسی ایسے معاہدے کی صورت میں سامنے آجاتے ہیں جس سے لمبی چوڑی اور ضروری اصلاحات کا دروازہ کھل جاتا ہے تو اس کا سہرا احتجاج کے سر ہی باندھا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے لئے یہ سہرا بندی ضروری ہے۔ اس کے بغیر تحریک انصاف خود کو اس مشکل موڑپر سے پھسلے بغیر نہیں نکال سکتی۔معاہدے کے بعد عمران خان ملکی معاملات پر جزوقتی توجہ دینے کی بجائے کلی طور پر اپنی کوششیں صرف کرسکتے ہیں۔جہاں تک رہا معاملہ طاہر القادری کا تو انکو جب ٹیلی فون آئے گا وہ واپس چلے جائیں گے۔ دھرنا اپنی افادیت حاصل کرچکا ہے اس کو
مہذب انداز سے عزت بچا کر ختم کرنے کا انتظام ضروری ہوچکا ہے۔
