جمعہ، 11 جولائی، 2014

سربرنیکا یادگار دن،برطانیہ کے مسلمان خصوصی دعائیں کرینگے




پورے برطانیہ کی 600 سے زیادہ مساجد میں مسلمان یوم سربرنیکا پر اس دن شہید کئے جانے والے مسلمانوں کیلئے خصوصی دعائیں کریں گے۔11 جولائی 1995 کو بوسنیا کے شہر سربرنیکا میں ایک منظم سازش کے تحت 8 ہزار سے زیادہ مسلمان مردوں، خواتین اوربچوں کو بیدردی سے شہید کردیا گیا تھااور ان کو اجتماعی قبروں میں سپرد خاک کردیاگیاتھا۔ اقوام متحدہ نے اس قتل عام کو دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپی سرزمین پر سفاکی کاسب سے بڑا واقعہ قرار دیاتھا۔ بین الاقوامی عدالت انصاف اور بین الاقوامی کرمنل ٹریبونل نے سربرنیکا میں سفاکی کے اس واقعہ کو قتل عام قرار دیاتھا۔

 لیڈز میں مکہ مسجد کے امام قاری محمد عاصم ایم بی ای نے اس موقع کیلئے خصوصی خطبہ تیار کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ سربرنیکا میں رونما ہونے والا یہ المناک واقعہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں قتل عام کاسب سے بڑا واقعہ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعات یورپ کے قلب میں رونما ہوئے ہیں اس اعتبار سے یہ اور بھی زیادہ وحشت ناک اوردلخراش ہیں۔خطبے میں پورے ملک کی مساجد میں پڑھا جائے گاجو کہ سربرنیکا میں شہید ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے اور قتل عام کے اس واقعے کے بعد اس کے مسلسل رونما ہونے والے اثرات پر روشنی ڈالنے کامنفرد موقع ہوگا۔خطبے میں نفرت ،عدم تحمل اور تعصبات کے خاتمے اور برطانیہ میں کمیونٹیز کے درمیان تعلقات مستحکم کرنے کی کوششیں کرنے کے عزم کااظہار کیاگیا ہے۔یہ دن 2009 میں یورپی پارلیمنٹ کی منظور کردہ ایک قرارداد کے مطابق منایاجارہا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ یورپی یونین کاہر ملک سربرنیکا کی یادگار کادن منائے گا جس کامقصد متاثرین کو یاد کرنا اور نفرت اور عدم تحمل کامقابلہ کرنے اور سب کیلئے ایک بہتر معاشرے کی تعمیر کاعہد کرنا ہے۔سربرنیکا کے شہیدوں کی یاد منانے کا سلسلہ اتوار 6 جولائی سے شروع ہواہے جس میں خصوصی خطبے ،دعائیں، یادگار افطار اوربعض دیگر تقریبات شامل ہیں۔

سربرینیکا پر بوسنیائی سربوں نے گیارہ جولائی انیس سو پچانوے میں حملہ کیا۔ اس وقت قریب ہی اقوام متحدہ کے فوجی تعینات تھے جن کا تعلق ہالینڈ سے تھا، اور شہر کو محفوظ علاقہ قرار دیا جا چکا تھا۔ حملہ آوروں نے لیکن اس کی بالکل پرواہ نہیں کی۔
ہلاک ہونے والی افراد ہالینڈ کی حکومت کے خلاف ہرجانے کے دعوے دائر کر چکے ہیں لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی۔
بوسنیا میں امریکہ کے سفیر چارلز انگش نے سربرینیکا میں تدفین کی موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا نے اس وقت کچھ نہیں کیا اور بوسنیا کے معصوموں کو بچانے میں ناکام رہی۔
چودہ سال سے بہتر سال کی عمر کے مقتولین کو، جن کی لاشیں اب دفنائی گئی ہیں، سرب فوجیوں نے پہلے ایک جگہ دفنایا پھر اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے نئی قبر میں منتقل کر دیا تھا۔
ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں قائم انصاف کی عالمی عدالت سربرینیکا کے قتل عام کو نسل کشی قرار دے چکی ہے۔ عدالت میں بوسنیائی سرب رہنما راڈووان کراچک کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے۔ کراچک جرم سے انکار کرتے ہیں۔ انہیں سن دو ہزار آٹھ میں گرفتار کیا گیا تھا

 
سربرینیکا قتل عام کے ذمہ دار امریکہ میں روپوش ہیں اکثر سرب ریاست فونکس میں رہ رہے ہیں۔اپنے جنگی جرائم اورفوجی پس منظر کو چھپاتے ہیں
آپ سربرینیکا کے رہائش پذیر مسلمان مردوں،خواتین ،لڑکیوں اور چھوٹے بچوں کو الگ الگ کرکے مختلف علاقوں تک لے جایا جارہا تھا تب سرب حکام کے ساتھ براٹونیک بریگیڈ ملٹری پولیس سے منسلک درجنوں سرب اہلکار اس کام میں شریک تھے۔ا س کے بعد کم از کم ایک ہزار بوسنیائی مسلمان مردوں کو سرب حکام نے قتل کرنے کے لئے الگ کیا اور انہیں کئی بسوںمیں بھر کر راتوں رات سربرینیکا کے نواحی قصبات تک ایک اسکول میں پہنچا دیا گیا۔اس وقت براٹونیک بریگیڈ ملٹری پولیس کے اہلکار ان کی حفاظت پر مامور تھے لیکن صرف موت تک یعنی وہ انہیں بحفاظت لاکر موت کے منہ میں دھکیلنے کے لئے مامور تھے۔براٹونیک کے قریب ایک جگہ مناسب دیکھ کر درجنو ں مسلمانوں کو تشدد کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کردیاگیا اور ان کی لاشیں ایک گڑھے میں ڈال دی گئیں۔ایسے ہی واقعات تسلسل کے ساتھ جونجولائی1995میں پیش آئے جب سرب حکام اور فوجیوں نے سیکڑوں ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا۔یہ جنگ دراصل سلطان مراداول کی کوسوو میں 27اگست کی فتح کا جواب بنا کر پیش کی گئی کہ آج سے تقریبًا سوا چھ سو سال پہلے یورپ کی متحدہ طاقت کو شکست دینے کا بدلہ جنگ بوسنیا میں دیاگیا۔
جب دولاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو شہید کردیاگیا اور ہزاروں لوگگھرانے بے گھر ہوگئے۔تب ناٹو اور اقوام متحدہ کو جنگی جرائم میں ملوث افراد کو پکڑنے کا خیال آیا۔دی ہیگ میں عالمی ٹربیونلعدالت انصاف قائم کی گئی اور وہاں سربوں اور جنگی جرائم میں ملوث سرب حکام کے خلاف مقدمات چلائے گئے۔ان مقدمات کے چلتے ہی سیکڑوں سرب فوجی یورپ بھاگ نکلے ۔ان کے ساتھ ساتھ سیکڑوں سرب امریکہ بھی پنچ گئے جہاں ان کو بحافظت رکھا گیا ۔آج بھی مختلف امریکی ریاستوں میں سرب جنگی مجرموں کی ایک بڑی تعداد رہائش پذیر ہے ۔یہ لوگ جنگی جرائم کے ٹربیونل کو مطلوب ہیں لیکن کوئی ان کا پتہ بتانے پر تیار نہیں۔
امریکی ریاست فونکس میں ایسے سیکڑوں سربوںکا پتہ چلا ہے جو بوسنیائی مسلمانوں کے قتل عام اور خصوصًا سربرینیکا کے واقعے میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔معروف امریکی اخبار نیوز ڈے کے اسپیشل رپورٹر میتھو میک کلٹر نے اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ایسے 24سربوں سے ملاقات کی ہے جو سربرینیکا کے واقعے میں خود شامل تھے اور جب ان کے وارنٹ نکلے تو وہ بھاگ کر امریکہ آگئے جہاں ان کو مکمل آزادی ہے بلکہ ان کے لئے مقامی کلیسا کے حکام نے ایک گرجا گھر بھی تعمیر کیا ہے جس میں وہ مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے جاتے ہیں۔ایک سرب جنگی کمانڈر نے ٹربیونل کو بتایا کہ جب سربرینیکا میں مسلمانوں کو اجتماعی طورپر قتل کیا جاتا تھا تو ان کی لاشیں بریگیڈ ملٹری پولیس کے جوان ہی دفن کرتے تھے ۔ان کے پاس ہیوی بلڈوزر تھے جن کے ذریعے قبر بناکر درجنوں اور سیکڑوں افراد کی لاشیں ڈال کر انہیں مٹی سے ڈھانپ دیا جاتا تھا۔اقوام متحدہ کے جنگی ٹربیونل نے ان واقعات کو مسلمانوں کی نسل کشی سے تعبیر کیا ہے۔
نیوز ڈے سے منسلک رپورٹر میتھیو نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ملاڈین بلاگوجیوک اور ڈراکو بوزک کا تعلق بھی بریگیڈ ملٹری پولیس سربیا سے ہے۔لیکن آج کل یہ دیگر سربوں کی طرح سڑکوںپر مزے کررہے ہیں۔ان کی زندگی فکر سے پاک ہے۔یہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ اجتماعی طورپر 2003میںامریکہ پہنچے تھے۔لیکن ان میں کئی ایسے بھی ہیں جو جنگی جرائم کے ساتھ ساتھ امیگریشن فراڈ میں بھی ملوث ہیں اور امریکی حکام ان کی ملک بدری کے لئے کوششیں کررہے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی جائے رہائش بوسنیا بتائی ہے تاکہ جنگی جرائم کے ٹربیونل سے بچ سکیں حالانکہ یہ سربیا میں پیدا ہوئے ہیں۔
نیوز ڈے نے بتایا کہ پوٹوکاری وہی مقام ہے جہاں مسلمانوں کو الگ الگ کرکے قتل کے لئے لے جایا گیا تھا۔جب عورتوں اور بچوں نے رونا شروع کیا تو وہاں موجود سرب فوجیوں نے ناچنا گانا اور تھرکنا شروع کر دیا حتیٰ کہ انہوں نے عورتوںاوربچوں کو الگ الگ کرکے مردوں کو قتل کرنا شروع کردیا۔اس سانحے میں زندہ بچ جانے والے چند ایک مسلمانوں نے بعد ازاں ٹربیونل کو بتایاکہ وہاںکیا ظلم روا رکھا گیا تھا۔
سربرینیکا سانحے میں زندہ بچ جانے ولا مولود ین ادررس بھی اس سانحے کا عینی شاہد ہے ۔وہ بتاتا ہے کہ ہمیں سربوں نے براٹونیک قصبے میں لے جاکے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا تھا پھر گولیاں برسادیں۔میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا لیکن بچ گیا ۔بعد ازاں کسی نہ کسی طرح نکل کر بھاگا،قسمت اچھی تھی جو  بچ گیا۔اس نے مزید کہا کہ سرب فوجی ہنس رہے تھے ،کئی ایک گانا گارہے تھے۔میں ان میں سے ایک کو اچھی طرح جانتاہوں کہ وہ اسکول میں میرے ساتھ ہی زیر تعلیم تھا۔اس نے بھی مجھے بہت مارا اور میرے منہ پر تھوکا۔
سربرینیکا سانحے میں زندہ بچ جانے ولا ایک اور مسلمان سلبوق تھا جس نے بتایاکہ وہاں موجود سرب اہلکاروں نے تمام مسلمانوں کو مارا پیٹا اورپھر گولیاں مارکر ہلاک کردیا۔سلبوق آج کل اقوام متحدہ کے زیر اہتمام حفاظتی پناہ میں ہے ۔اسے اقوام متحدہ نے اسپیشل گواہ کا درجہ دیکر حفاظتی تحویل میں لیا ہواہے۔
 
 یہ یادگار ہفتہ منانے کیلئے 3 قومی اور20 لوکل تقریبات کااہتمام کیاجارہا ہے۔ان تقریبات کے بیشتر آرگنائزر سربرنیکا سے حاصل کردہ سبق کی تعلیم سے متعلق فلاحی تنظیم کے سابق مندوبین ہیں۔جو ممتاز شخصیات کے گروپوں کو بوسنیا ہرزیگونیا لے جاکر انھیں قتل عام کے اثرات اورنفرت کے معاشرے پر پڑنے والے منفی نتائج کامشاہدہ کرائیں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں