ہفتہ، 12 جولائی، 2014

نہتے فلسطینیوں پرصیہونی سفاکیت مسلسل پانچویں روز بھی جاری، مزید 25 افراد شہید


 صیہونی فورسز کی مقبوضہ غزہ کی پٹی میں سفاکانہ کارروائیاں مسلسل پانچویں روز بھی جاری ہیں، اسرائیلی جیٹ طیاروں کی تازہ بمباری میں مزید 25 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ اقوام متحدہ نے ایک بار پھر فریقین سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی جیٹ طیاروں نے غزہ کی پٹی پر مسلسل پانچویں روز بھی شدید بمباری کی جس کے نتیجے میں مزید 25 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ امدادی ٹیموں کے اہلکاروں نے زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جہاں ڈاکٹرز کے مطابق شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ فلسطینی کی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 4 افراد جبلیہ میں، 2 افراد شمالی غزہ کے علاقے بیت لاہیہ میں, 3 مشرقی غزہ میں شہید ہوئے۔ اسرائیل کی جانب سے گزشتہ 5 روز سے جاری بمباری میں اب تک 135 نہتے فلسطینی شہید جب کہ 700 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں، شہید اور زخمی ہونے والوں میں ایک بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
شہید ا ہونے والوں میں ایک بڑی تعداد بچوں کی ہے۔
 ادھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک بار پھر فریقین سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ 15 رکنی سلامتی کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں عام شہریوں کو اموات پر انہیں سخت تشویش ہے۔ اس لیے اسرائیل اور فلسطین سے اپل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر جنگ بند کردیں اور 2012 کے جنگ بندی کے معاہدے کو بحال کریں۔ برطانیہ، جرمنی، فرانس اور امریکہ نے جنگ بندی کے لیے عالمی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے اتوار کو ویانا میں اجلاس طلب کر لیا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے لندن میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اس بات کی فوری ضرورت ہے کہ جنگ بندی روکنے کے لیے عالمی کوششیں تیز کی جائیں اور فریقین کے درمیان 2012 کےجنگ بندی کے معاہدے کو بحال کیا جائے۔


دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اقوام متحدہ کی پر امن رہنے کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ پر پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ حملے کئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ پر حملوں کو روکنے کے لیے ان پر کوئی عالمی دباؤ نہیں اور اگر کوئی ایسا دباؤ ڈالا گیا تو اس کی مزاحمت کی جائے گی۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے اسرائیل میں 5 راکٹ فائر کئ گئے جس میں کو ئی جانی نقصان نہیں ہوا، حماس کے راکٹ تل ابیب میں ایک گھر پر گرے سے جس ایک خاتون کو معمولی زخم آئے۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی بمباری کو فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے تعاون کی اپیل کی ہے۔
واضح رہے کہ 2 روز قبل اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے فریقین سے جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے عالمی برادری پر زوردیا تھا کہ وہ غزہ میں تشدد کو رکوانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے۔ امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیلی جارحیت کو رکوانے کے لئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی تھی جسے اسرائیلی وزیراعظم نے مسترد کر دیا تھا۔ جب کہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے جنگ بندی کی کوششوں کے لیے وزارتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ گزشتہ روز بھی اسرائیلی بمباری سے 22 افراد شہید جب کہ درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں