اسلام
آباد(خصوصی رپورٹ) وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت ہونیوالے قومی سلامتی کمیٹی کے
اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے جس کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں نے فوج سے
مارشل لاءنہ لگانے کی اپیل کردی اور موقف اپنایاکہ پاکستان کی ترقی جمہوریت سے ہی
وابستہ ہے تاہم عسکری قیادت نے مالی معاونت کی درخواست کرتے ہوئے تمام ترتوجہ ’ضرب
عضب‘ تک مرکوز رکھی ۔
ذرائع نے انکشاف کیاکہ اجلاس کے دوران تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے پاک فوج سے جمہوریت کا ساتھ دینے کی اپیل کی اور موقف اپنایاکہ ملکی ترقی کیلئے سول و عسکری قیادت کو اکٹھے چلناہوگا۔
محمود خان اچکزئی نے کہاکہ جمہوریت ملکی ترقی کیلئے ناگزیر ہے ، مسلح افواج بھی سول قیادت کا ساتھ دیں ۔
ایم کیوایم کے رہنماءفاروق ستار نے ملک کی موجودہ صورتحال کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے گرفتاریوں اور پکڑ دھکڑکی مذمت کی ۔اُنہوں نے حکومتی پالیسیوں کوتنقید کانشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیاکہ حکومت مظاہرین کے ساتھ سوجھ بوجھ سے کام لے اور جانی نقصان سے گریز کریں ۔
اجلاس کے دوران بی این پی کی رکن سینیٹر کلثوم پروین نے دہشتگردی کیخلاف پاک فوج کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیاکہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کیخلاف شروع کیاگیاآپریشن ہرحال میں مکمل کیاجائے ۔
ڈی جی ایم او نے ضرب عضب پر شرکاءکو بریفنگ دی اور سیاسی جماعتوں سے آپریشن کا ساتھ دینے ، آپریشن کے لیے مالی معاونت کا مطالبہ کردیا۔
بعدازاں سید خورشید شاہ نے بتایاکہ پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی موثر بنانے پر بھی اتفاق کیاگیاہے ۔
آرمی چیف جنرل راحیل شریف کاکہناتھاکہ وہ عملی بندے ہیں ، دہشتگردوں میں بہت سے غیرملکی ہیں ،آپریشن کا ٹارگٹ شخصیات نہیں ، دہشتگردہیں، پختونوں سے کوئی زیادتی نہیں ہوگی تاہم سیاستی معاملات پر بات کرنے سے گریز کیا۔
ذرائع نے انکشاف کیاکہ اجلاس کے دوران تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے پاک فوج سے جمہوریت کا ساتھ دینے کی اپیل کی اور موقف اپنایاکہ ملکی ترقی کیلئے سول و عسکری قیادت کو اکٹھے چلناہوگا۔
محمود خان اچکزئی نے کہاکہ جمہوریت ملکی ترقی کیلئے ناگزیر ہے ، مسلح افواج بھی سول قیادت کا ساتھ دیں ۔
ایم کیوایم کے رہنماءفاروق ستار نے ملک کی موجودہ صورتحال کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے گرفتاریوں اور پکڑ دھکڑکی مذمت کی ۔اُنہوں نے حکومتی پالیسیوں کوتنقید کانشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیاکہ حکومت مظاہرین کے ساتھ سوجھ بوجھ سے کام لے اور جانی نقصان سے گریز کریں ۔
اجلاس کے دوران بی این پی کی رکن سینیٹر کلثوم پروین نے دہشتگردی کیخلاف پاک فوج کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیاکہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کیخلاف شروع کیاگیاآپریشن ہرحال میں مکمل کیاجائے ۔
ڈی جی ایم او نے ضرب عضب پر شرکاءکو بریفنگ دی اور سیاسی جماعتوں سے آپریشن کا ساتھ دینے ، آپریشن کے لیے مالی معاونت کا مطالبہ کردیا۔
بعدازاں سید خورشید شاہ نے بتایاکہ پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی موثر بنانے پر بھی اتفاق کیاگیاہے ۔
آرمی چیف جنرل راحیل شریف کاکہناتھاکہ وہ عملی بندے ہیں ، دہشتگردوں میں بہت سے غیرملکی ہیں ،آپریشن کا ٹارگٹ شخصیات نہیں ، دہشتگردہیں، پختونوں سے کوئی زیادتی نہیں ہوگی تاہم سیاستی معاملات پر بات کرنے سے گریز کیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں