Imran Khan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Imran Khan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 16 اگست، 2014

’چن کتھاں گزاری ای رات وے‘

پاکستانی سوشل میڈیا پر انقلاب اور آزادی مارچ کے لیے ایک جنگ لڑی جا رہی ہے۔
گذشتہ رات عمران خان اور طاہر القادری کے اسلام آباد پہنچنے کی گہما گہمی ٹوئٹر پر نظر آئی مگر اسلام آباد پہنچ کر عمران خان کا مبینہ طور پر غائب ہونا اور بنی گالا چلے جانے کا ٹوئٹر نے شدید نوٹس لیا۔
یہ ان چند مواقع میں سے ایک تھا جب کٹر انصافین بھی اپنے قائد اور ان کے اس اقدام کی حمایت یا دفاع کرنے کے قابل نظر نہیں آرہے تھے۔
اس پر مزید تیل چھڑکنے کے لیے سرکردہ سیاستدان، اینکر، صحافی بھی میدان میں اترے جس کا اندازہ آپ کو اُن کی ٹویٹس سے ہو جائے گا۔
وزیر دفاع اور مسلم لیگ کے رہنما خواجہ آصف جو ٹوئٹر پر کبھی کبھی کبھار نظر آتے ہیں نے ٹویٹ کی کہ ’ وہ لوگ کہاں گئے جنہوں نے عوام کے ساتھ سڑک پر سونے کا عہد کیا تھا؟؟؟
یہ ابھی کافی نہیں تھا کہ اینکر شاہ ذیب خانزادہ نے فیس بک پر لکھا کہ ’ایک گھنٹے کے زبردست شو کے بعد خبر ہے کہ عمران خان اپنے بیچارے کارکنوں کو بارش میں چھوڑ کر بنی گالا سونے چلے گئے۔ رہنمائی کے ایک سنہری موقعے کا کس قدر ضیاع ہے یہ۔
مرتضیٰ سولنگی نے ٹویٹ کی کہ ’استعفے منزل ہیں تو اگر وزیراعظم استعفیٰ نہیں دیتے تو عمران خان کو خود مارچ کا ناکامی پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ امپائر انگلی اٹھائیں تاکہ عمران خان بنی گالا جا سکیں۔
اور ہمارے ٹوئٹر حضرات کہاں اپنی حسِ مزاح کےاستعمال کا ایسا سنہری موقع ہاتھ سے جانے دیتے انہوں نے ٹویٹس کا ایک سلسلہ شروع کیا جو لمبے عرصے تک شاید انصافینز کا پیچھا نہ چھوڑے۔
جمیل قاضی نے ٹویٹ کی کہ ’اسلام آباد ٹیسٹ میں بارش ،بخار اور لیڈروں کی تهکاوٹ کی وجہ سے کھیل روک دیا گیا ہے۔ امپائروں کا 3 بجے کھیل دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ
محسن حجازی نے ٹویٹ کی کہ ’جدہ بھاگ گیا، جدہ بھاگ گیا کے بعد اب پیش خدمت ہے نئی مزاحیہ فلم بنی گالا بھاگ گیا۔ رنگین سینما سکوپ ٹیکنی کلر۔
جمیل قاضی کی یہ ٹویٹ تو بہت ہی مقبول رہی ’آج تین بجے کے جلسے کی ابتداء اس گانے سے ہو گی ’چن کتھاں گزاری ائی رات وے‘۔
اسد نے مزاح سے ہٹ کر ٹویٹ کی کہ ’انقلاب آج کے لیے ختم، کارکنوں کے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ حکومت گرانے کے ہمت کے دعوے مگر اسے چلانے کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں۔ ہمیشہ کے لیے
اسی دوران وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے ٹویٹ کی کہ ’وزیراعظم نواز شریف بے یارو مددگار چھوڑے جانے والح آزادی مارچ کے پی ٹی آئی کارکنوں کے لیے پانی اور کھانا بھجوا رہے ہیں۔ ان کے لیے ضروری انتظامات بھی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ان مارچ کرنے والوں کے مقاصد کے حوالے سے ٹوئٹر پر صارفین نے میڈیا اور مارچ کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا  - ایسا ہی ہونا چاہیے اور یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ پچیس سیٹوں والا سٹریٹ پاور شو کرسکتا ہے تو ایک سو پچیس والا بھی کرسکتا ہے
زالان نے میڈیا کی جانب سے مارچ کرنے والوں کی تعداد کو بے معنی قرار دینے پر ٹویٹ کی کہ ’میڈیا کے جوکر کہہ رہے ہیں کہ تعداد کوئی معنی نہیں رکھتی ، کل میں بھی دس لوگوں کو لے کر دھرنا دونگا تم کوریج کرو گے؟
صحافی طلعت حسین نے ٹویٹ کی کہ ’یہ آدمی سفید جھوٹ بولتا ہے اور میڈیا اسے چلاتا ہے؟ کیوں؟ ایک مداری جو کہ انقلابی کے بہروپ میں ہے اور اسے ہر جگہ دکھایا جا رہا ہے؟ کیوں؟
Read More »

ہفتہ، 9 اگست، 2014

مجھے کچھ ہوا تو شریف برادران کو نہ چھوڑنا، عمران کا کارکنوں کو پیغام

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمن عمران خان نے کارکنوں کو پیغام دیا کہ مجھے کچھ ہوا تو شریف برادران کو نہ چھوڑنا۔ کہتے ہیں وزیراعظم سے 14 اگست کے بعد ہی ملاقات ہو گی۔ پیر کو دھاندلی میں شریک بڑوں بڑوں کو بے نقاب کرنے کا اعلان۔
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمن عمران خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکمران کرسی بچانے کے لئے ڈرے ہوئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا 14 اگست کو بتاؤں گا کہ ہم نے کیا کرنا ہے ، 14 ماہ سے تمام دروازے کٹھکھٹائے ہیں۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کارکنوں کو کہ دیا ہے مجھے کچھ ہوا تو حکمرانوں کو نہ چھوڑنا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا پیر کو بتاؤن گا الیکشن کمیشن ، عدلیہ کے کن افراد نے نواز لیگ کا دھاندلی میں ساتھ دیا۔ عمران خان نے کہا حکمران اس لئے ڈرے ہوئے کیونکہ عوام ہمارے ساتھ ہے اور حکمران بادشاہت کو بچانے کے لئے کارروائیان کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے نہتے لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں اور پاکستان تحریک انصاف کا وفد عوامی تحریک سے ملنے لاہور جائے گا۔ وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر عمران خان نے جواب دیا کہ اب وزیراعظم سے ملاقات چودہ اگست کے بعد ہو گی۔
Read More »